ہم دشت کے باسی ہیں اے شہر کے لوگو
یہ روح پیاسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
دکھ درد سے صدیوں کا تعلق ہے ہمارا
یہ آنکھوں کی اداسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
جاں دینا روایت ہے قبیلے کی ہماری
یہ سرخ لباسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
37
اگر اپ بوسنیا کو نہیں سمجھتے تو اپ غزہ کو بھی نہیں سمجھیں گے!