اسلاف کا رمضان
إمام مطرف بن عبد الله رحمه الله
امام مطرف بن عبد الله فرمایا کرتے تھے کہ میں اس بات کی زیادہ فکر کرتا ہوں کہ میرا عمل قبول ہوا یا نہیں، بجائے اس کے کہ میں زیادہ عمل کر لوں۔ رمضان کے بعد وہ قبولیت کی دعا میں لگے رہتے تھے۔
(لطائف المعارف)
إمام مالك بن دينار رحمه الله
امام مالك بن دينار رمضان کے بعد لوگوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اگر تمہارا رمضان اچھا گزرا ہے تو اس کا اثر باقی سال میں بھی ظاہر ہونا چاہیے، کیونکہ نیکی کی علامت یہ ہے کہ اس کے بعد مزید نیکی نصیب ہو۔
(حلية الأولياء)
إمام الفضيل بن عياض رحمه الله
فضيل بن عياض فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ صرف متقین کے اعمال قبول کرتا ہے، اس لیے بندے کو عمل سے زیادہ اس کی قبولیت کی فکر کرنی چاہیے، خاص طور پر رمضان کے بعد۔
(حلية الأولياء)