جب میں اپنے آبا کو دیکھتا ہوں تو تاریخ کے وہ روشن ابواب نگاہوں کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں جن میں عزم، ایمان اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہیں۔
میں صلاح الدین ایوبی کو دیکھتا ہوں جس نے محض پچیس ہزار کے لشکر کے ساتھ کفر کی طاقتوں کو شکست دی اور القدس کو آزاد کر کے امت کو سربلندی عطا کی۔ مگر آج ہم اربوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود اتنے بے بس نظر آتے ہیں کہ غزہ کے مظلوموں تک پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پہنچا سکتے۔ یہ احساس دل کو چیر دیتا ہے اور ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔
جب میں اپنے آبا کو دیکھتا ہوں تو مجھے محمد بن قاسم جیسا نوجوان سپہ سالار دکھائی دیتا ہے جو صرف سترہ برس کی عمر میں عزم و یقین کے ساتھ ہندوستان کی طرف بڑھا اور ظلم کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا اور راجا داہر کی حکومت کو تہس نہس کر دیا۔ اسی طرح تاریخ کے اوراق میں طارق بن زیاد کا کردار جگمگاتا نظر آتا ہے، جو اندلس کے ساحل پر اپنی کشتیاں جلا کر اپنے لشکر کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں، صرف فتح یا شہادت ہی ہمارا مقدر ہے۔
پھر مجھے وہ عظیم جرنیل یاد آتا ہے جسے دنیا خالد بن ولید کے نام سے جانتی ہے، وہ بہادر سپہ سالار جسے سیفُ اللہ کہا گیا۔ روایت ہے کہ ایک جنگ میں انہوں نے اپنے ہاتھ سے لڑتے لڑتے نو تلواریں توڑ دیں مگر میدانِ جنگ نہ چھوڑا۔ ان کی جرأت اور استقامت دشمنوں کے دلوں میں خوف اور ہیبت پیدا کرگئ ۔
پھر میری نگاہ تاریخ کے ایک اور درخشاں کردار کی طرف جاتی ہے، وہ ہیں نورالدین زنگی، وہ حکمران جس کے دل میں القدس کی آزادی کا خواب سلگتا تھا۔ اس نے اس خواب کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور اسی خواب کی تعبیر آگے چل کر صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں پوری ہوئی۔
اور جب میں آج کے دور کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے وہ مجاہد بھی یاد آتا ہے جو محدود وسائل کے باوجود دشمن کے بھاری ہتھیاروں اور ٹینکوں کے مقابلے میں ڈٹ جاتا ہے اور ثابت کر دیتا ہے کہ اصل طاقت اسلحے کی کثرت میں نہیں بلکہ ایمان، حوصلے اور یقین میں ہوتی ہے۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
لیکن اس سب کے ساتھ ایک سوال ہمارے ضمیر کو
جھنجھوڑتا ہے: کیا ہم اپنے اسلاف کے سچے وارث ہیں؟
اس سے پہلے کہ مصیبت کا یہ طوفان ہمارے
دروازوں تک پہنچے، ہمیں اٹھنا ہوگا علم جہاد بلند کرنا ہوگا بزدلی کو چھوڑنا ہوگا بصورت دیگر کہیں یہ آگ ہمیں بھی جلا ڈالے گی
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمادیا
آیتِ مبارکہ:
﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ﴾ — (سورۃ النساء: 75)
ترجمہ:
“اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو ظلم کا شکار ہیں؟”
کیا کسی کے پاس کوئی جواب ہے؟
ہم خدائے کم یزل کو کیا جواب دیں گے ؟
جبکہ ہم مظلوم بے گور وکفن لاشے دیکھتے رہے؟
کیا آپ کے پاس اسکا جی جواب ہے
(بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ)
یقیناً آپ کے پاس اس کا جواب ہوگا اسلئے تو مطمئن ہیں شاید