اسامہ بن لادن آج سے ٹھیک 69 برس قبل یعنی 10 مارچ 1957 کو سعودی عرب میں پیدا ہوئے تھے۔ اپنے اہلخانہ اور دوست احباب کی نظروں میں بھی وہ بچپن میں وہ ’خاموش اور شرمیلے‘ لڑکے تھے تاہم انھیں سنہ 2001 میں امریکہ میں نائن الیون حملوں کے بعد دنیا کے سب سے مطلوب دہشتگرد اور بین الاقوامی شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سربراہ کے طور پر عالمی توجہ حاصل ہوئ


یہ سنہ 1971 کی بات ہے جب ایک 14 سالہ سعودی نوجوان لینگویج کورس کرنے کی غرض سے برطانیہ کے علاقے آکسفورڈ میں موجود تھا۔ اس لڑکے کا تعلق سعودی عرب کے سب سے امیر خاندانوں میں سے ایک سے تھا جس کے سعودی شاہی خاندان سے بھی قریبی تعلقات تھے۔

اسامہ اور اُن کے دو دیگر بھائیوں سے ملنے والی ایک ہسپانوی خاتون نے کئی دہائیوں بعد اس ملاقات کے بارے میں بتایا کہ اسامہ میں اپنی عمر سے زیادہ پختہ تھے مگر بظاہر اُن کی سیاست یا مذہب میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔

اسامہ بن لادن کے والد محمد بن لادن ایک معروف کنسٹرکشن کمپنی کے مالک اور سعودی عرب کی ایک امیر شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ سنہ 1968 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں اپنے والد کی وفات کے بعد اسامہ بن لادن اور ان کے بھائیوں کو تقریباً پچیس کروڑ ڈالر کے اثاثے ملے۔

سنہ 2002 میں ریلیز ہونے والے بی بی سی ٹو کے ایک پروگرام ’آئی میٹ اسامہ‘ میں ان لوگوں سے گفتگو کی گئی تھی جو اسامہ بن لادن کے لڑکپن میں ان سے مل چکے تھے۔

جدہ کے ایک ایلیٹ سکول میں انگلش کے استاد برائن فائی فیلڈ شائلر نے بتایا تھا کہ وہ شرمیلے تھے اور بولنے سے کتراتے تھے۔ ’دوسرے (سعودی) بچے مجھے اسلام قبول کرنے کا کہہ رہے ہوتے تھے مگر اسامہ اُن میں سے نہیں تھے۔ وہ کلاس میں اتنے قابل غور نہیں تھے۔‘

ان کے مطابق اسامہ کو انگلش سیکھنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر ان کا مذہبی رجحانات کی طرف جھکاؤ ضرور تھا۔

انگلش ٹیچر کے مطابق اسامہ کے کئی سوتیلے بھائی بیرون ملک تعلیم حاصل کر کے مغربی طرز زندگی کو قبول کر چکے تھے مگر اسامہ اُن میں سے نہیں تھے۔

اسامہ نے جدہ میں ہی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جہاں پہلی بار ان کا سامنا اسلامی سکالرز سے ہوا۔

اسامہ بن لادن کنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں سول انجینیئرنگ کے طالب علم تھے جہاں اُن کی ملاقات جہادی نظریات کے حامل سمجھےجانے والے طالب علموں اور اساتذہ سے ہوئی جس سے طالب علمی کے زمانے ہی میں ان کے نظریات میں تبدیلی آنی شروع ہو گئی۔

اسامہ بن لادن کی والدہ عائلہ غنیم سنہ 2018 میں پہلی بار منظر عام پر آئی تھیں۔ انھوں نے اخبار ’دی گارڈیئن‘ کو بتایا تھا کہ جب اسامہ جدہ کی شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے 
اُن کے مطابق ’یونیورسٹی میں لوگوں نے اُسے بدل دیا، وہ ایک بالکل ہی مختلف انسان بن گیا تھا۔‘
یونیورسٹی میں جن لوگوں سے اسامہ بن لادن کی ملاقات ہوئی ان میں عبداللہ عظام بھی شامل تھے جو اخوان المسلمین کے رکن تھے۔ عبداللہ کو ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے بعدازاں سعودی عرب سے نکال دیا گیا مگر آگے چل کر وہ اسامہ کے روحانی مشیر بن گئے۔

اسامہ کی والدہ عائلہ غنیم نے اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسامہ کی ملاقات ’کچھ افراد سے ہوئی جنھوں نے اسامہ کو اپنے ساتھ شامل کرلیا

’میں اسے (اسامہ کو) ہمیشہ اِن سے دور رہنے کا کہتی تھی اور وہ کبھی نہیں بتاتا تھا جو وہ کر رہا تھا۔
سنہ 1980 کی دہائی میں اسامہ بن لادن سویت یونین کے خلاف لڑنے افغانستان گئے تھے۔ اسامہ کی والدہ عائلہ غنیم کے مطابق انھوں نے ’افغانستان میں اپنی ساری دولت لُٹائی جہاں وہ خاندانی کاروبار کا بہانہ کر کے گئے تھے۔‘

اسامہ بن لادن اپنی ذاتی دولت سے مجاہدین کی فنڈنگ کر رہے تھے مگر کئی مجاہدین کمانڈرز بھی اس بات سے لاعلم تھے۔

بی بی سی سلیکٹ کی دستاویزی فلم ’بن لادن: دی روڈ ٹو نائن الیون‘ میں سابق مجاہدین جنگجو عبداللہ انس بتاتے ہیں کہ اسامہ بن لادن جدہ میں اپنے خاندان کی کنسٹرکشن کمپنی سے کچھ انجینیئرز کو بھی افغانستان لائے تھے۔



افغان مجاہدین کمانڈر سید واحد یار بتاتے ہیں کہ 80 کی دہائی کے دوران ’ہمارے ساتھ 12 عرب شہری شامل ہوئے جن میں سے ایک نام اسامہ تھا۔ ایسا نہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کچھ روز تک رہا، بلکہ اس نے ہمارے ساتھ مہینوں گزارے۔ مجھے یاد نہیں مگر چھ سے آٹھ مہینے تھے۔ وہ وہاں عام جنگجو کے روپ میں رہ رہے تھے۔‘

’ہمیں عربوں کے ساتھ نرم رویہ رکھنا پڑتا تھا۔ 

سید واحد یار، جن کا تخلص ’نڈر‘ تھا، نے بی بی سی کی دستاویزی فلم ’بن لادن: دی روڈ ٹو نائن الیون‘ میں مزید بتایا کہ ابتدا میں مجاہدین کمانڈر ’کسی آپریشن کے لیے عرب نوجوانوں کو اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے تھے۔‘

افغانستان میں اپنے قیام کے شروع کے عرصے میں اسامہ بن لادن افغانستان میں بلڈوزر چلا کر جہادی مقاصد کے لیے تعمیراتی کام میں حصہ لیتے تھے۔ وہ یہ کام افغانستان جانے سے پہلے ہی اپنے خاندان کی کنسٹرکشن کمپنی میں سیکھ چکے تھے۔

سابق مجاہدین جنگجو عبداللہ انس کو یاد ہے کہ شمال کی جانب ایک دورے پر انھوں نے دیکھا کہ اسامہ ’بلڈوزر چلا رہے ہیں۔‘

جب انھوں نے پوچھا کہ ’اسامہ، آپ یہ کیا کر رہے ہو؟‘ تو اسامہ نے جواب دیا ’ہمیں مجاہدین کے لیے سڑکیں بنانی ہوں گی۔ ہمیں پہاڑوں کے اندر غاروں میں کلینک بنانے ہوں گے۔‘

افغان مجاہدین کمانڈر سید واحد یار بتاتے ہیں کہ سڑکوں کا نہ ہونا بڑا مسئلہ تھا کیونکہ مجاہدین کہیں پہنچ نہیں پاتے تھے۔

سید واحد یاد کہتے ہیں کہ مجاہدین کو لگتا تھا کہ اسامہ ایک عام جنگجو ہیں اور ’ہمیں کبھی نہیں لگا کہ اس سب کا خرچ اسامہ خود برداشت کر رہے ہیں۔ ہمیں لگا یہ انتظامات کوئی اور کر رہا ہو گا اور وہ صرف مدد کر رہے ہوں گے۔‘

مگر افغانستان میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد اسامہ نے بندوق چلانے کی بھی تربیت حاصل کی اور لڑنے کے لیے کلاشنکوف اٹھائی۔

سید واحد یار بتاتے ہیں کہ پہلے پہل انھیں ہتھیاروں کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ کلاشنکوف کیسے استعمال کرتے ہیں یا گولی کیسے چلاتے ہیں۔ '(مگر) جہاد اور لڑائی کی تربیت حاصل کرنے کے لیے اسامہ نے ہمیں اپنا استاد سمجھا۔'

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’وہ صرف ہمیں دیکھتے تھے اور آہستہ آہستہ انھوں نے ہتھیار استعمال کرنا سیکھ لیا۔ جب وہ سیکھ گئے تو ہم انھیں لڑائی کے لیے لے جانے لگے۔‘

افغان مجاہدین کمانڈر مزید بتاتے ہیں کہ ’ایک لڑائی کے دوران ہمیں ان کو بتانا پڑا کہ نیچے جھک جاؤ ورنہ گولی لگ جائے گی۔ وہ خود کو سنبھال نہ سکے۔ وہ ایک شخص سے دوسرے کی طرف بھاگ رہے تھے۔ میں نے غصے میں کہا ’نیچے بیٹھو!‘ اور وہ بیٹھ گئے۔‘

ان کے بقول اسامہ بن لادن دبلے پتلے اور اونچے قد کے تھے مگر انھیں ’گولی لگنے کا کوئی ڈر نہیں تھا۔‘

سابق جنگجو عبداللہ انس کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ اسامہ خیرات دینے والے شخص سے ’جنگجو میں بدل گئے تھے۔‘
 

اسامہ مصرکے ایمن الظواہری (القاعدہ کے سربراہ اور اسامہ کے جانشین) کے نظریات سے متاثر تھے اور جب القاعدہ نے جہاد کے لیے لشکر بنایا تو اسامہ نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا۔

افغانستان میں سوویت جنگ کے بعد جب بن لادن واپس سعودی عرب گئے تو وہ شہری زندگی سے ناخوش تھے۔


سنہ 1991 میں اسامہ سعودی عرب سے سوڈان چلے گئے 

بعد ازاں۔ ان کی سعودی شہریت ختم کر دی گئی تھی اور سوڈان سے انھیں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ وہ اب صرف افغانستان ہی واپس جا سکتے تھے جہاں سے ان کا عالمی جہاد کا منصوبہ منظر عام پر آیا۔
بلآخر اسامہ بن لادن 2011کو ایبٹ آباد کے علاقے میں امریکی فوج کے حملے میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے