*"امت"* کے لیے اس سے بڑھ کر *"عاجزی"* کیا ہوگی کہ اس کے *"نبی ﷺ"* کے *"معراج کے مقام"* اور اس کے پہلے قبلہ کو اسی مہینے میں *بند"* کر دیا جائے جس میں *"قرآن نازل"* ہوا تھا!!!
امت کے لیے اس سے بڑھ کر *"ذلت"* کیا ہوگی کہ *"دین"* کے *"ستون "*(نماز) کو سیدِ اولادِ آدم اور *"خاتم النبیین والمرسلین ﷺ"* کے معراج کے مقام میں *"معطل"* کر دیا جائے!!!
*"ہماری بزدلی، خوف"* اور بے بسی کے لیے یہی کافی ہے کہ ہم اس *"تیسرے مقدس مسجد"* کو، جس کی طرف سفر کر کے جانا باعثِ اجر ہے، *"خالی اور ویران"* دیکھیں—سوائے ان لوگوں کے جو *"اہلِ ایمان"* کے سخت ترین دشمن ہیں!!!
*"اے وہ امت جس کی تعداد دو ارب ہے،"* لیکن وہ سیلاب کے جھاگ کی طرح بے وزن ہو گئی ہے؛ اللہ نے اس کے دشمنوں کے دلوں سے اس کا *"رعب"* نکال دیا ہے اور اس کے اپنے بیٹوں کے دلوں میں کمزوری (وَہن) ڈال دی ہے!!!

*🪶ڈاکٹر حذیفہ عبداللہ عزام کے وال سے*