*15 مارچ یومِ ناموسِ رسالت* 

ناموسِ رسالت کا مسئلہ امتِ مسلمہ کے دل کی دھڑکن ہے۔ یہ کوئی عام عقیدہ نہیں، بلکہ وہ حساس ترین معاملہ ہے جس کے بارے میں صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا طرزِ عمل قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے روشن مثال ہے۔

ایک اہم بات سمجھنے کی ہے۔
ریاستِ مدینہ میں اسلامی حکومت قائم تھی۔خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اسلامی سلطنت وسیع ہو گئی۔ ان معاشروں میں یہودی بھی رہتے تھے، عیسائی مجوسی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی۔ ان سب کے حقوق کا خیال رکھا گیا، اسلامی ریاست میں وہ اپنے مذہب کے ساتھ زندگی گزار تےتھے۔

لیکن ایک چیز ایسی تھی جس میں کوئی گنجائش نہیں تھی، اور وہ تھی ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت۔

نبی کریم ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد کچھ لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اسود عنسی، طلیحہ اسدی اور مسیلمہ کذاب جیسے کئی جھوٹے مدعیانِ نبوت پیدا ہوئے، لیکن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے صرف ان کے لیڈروں کو ہی ختم نہیں کیا بلکہ اس فتنے سے جڑی ہر نسبت کو بھی مٹا دیا۔

یہاں ایک بڑی معنی خیز بات سامنے آتی ہے۔

صحابۂ کرام کے زمانے سے لے کر آج تک بے شمار نسبتی نام باقی ہیں۔ کوئی ہاشمی ہے، کوئی قریشی ہے، کوئی علوی ہے، کوئی صدیقی ہے، کوئی فاروقی ہے، کوئی عثمانی ہے۔ علاقائی نسبتیں بھی باقی ہیں اور خاندانی نسبتیں بھی۔ مگر تاریخ میں آپ کو ایک بھی ایسی نسبت نہیں ملے گی جو کسی جھوٹے مدعیٔ نبوت کے ساتھ باقی رہ گئی ہو۔

گویا اس فتنے کو اس انداز سے ختم کیا گیا کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔ نہ اس کی جماعت رہی، نہ اس کی یادگار، نہ اس کی کوئی قابلِ ذکر نسبت۔

 ایک بڑا سبق آموز واقعہ بھی تاریخ میں محفوظ ہے۔

نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں مسیلمہ کذاب کی طرف سے دو قاصد مدینہ منورہ آئے۔ ایک خط لے کر آئے تھے جس میں یہ لکھا تھا کہ مجھے بھی وحی آتی ہے، زمین آدھی آپ کی ہے اور آدھی میری، اور میں آپ کے بعد نائب ہوں۔
نبی کریم ﷺ نے ان دونوں قاصدوں سے پوچھا:

“تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟”
جواب دیا کہ ہم بھی اسی بات کو درست سمجھتے ہیں۔

 عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ نُعَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ - حِينَ قَرَأَ كِتَابَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ - قَالَ لِلرَّسُولَيْنِ : " فَمَا تَقُولَانِ أَنْتُمَا ؟ ". قَالَا : نَقُولُ كَمَا قَالَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ ؛ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا ".
(مسند أحمد /مسند المکیین
ج:25/ص:366/رقم الحدیث:15898)

سیدنا نعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسیلمہ (کذاب) کے دو قاصدوں سے فرماتے سنا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ کا خط پڑھا: ”تم دونوں کا کیا خیال ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں جو اس (مسیلمہ) نے کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر یہ اصول نہ ہوتا کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا، تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔“

یعنی ختمِ نبوت کے انکار پر نبی کریم ﷺ کا فیصلہ یہ تھا کہ اصل سزا قتل ہے، مگر چونکہ وہ قاصد تھے اس لیے انہیں چھوڑ دیا گیا۔

وقت گزرتا گیا۔ نبی کریم ﷺ کا وصال ہو گیا اور خلافتِ راشدہ کا دور شروع ہو گیا۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوفہ میں قیام پذیر تھے ،لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دیتے تھے۔

انہیں خبر ملی کہ کوفہ میں ایک مکان ایسا ہے جہاں کچھ لوگ مسیلمہ کذاب کا ذکر اچھے الفاظ میں کرتے ہیں۔

یہ خبر سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فوراً وہاں پہنچے۔ جب انہوں نے لوگوں کو دیکھا تو ان میں ایک شخص کو پہچان لیا۔

آپ نے اس سے پوچھا:
“کیا تم وہی نہیں ہو جو رسول اللہ ﷺ کے پاس مسیلمہ کا خط لے کر آئے تھے؟”
اس نے کہا: جی ہاں، میں وہی ہوں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فوراً اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ کیوں؟

اس کے قتل کا فیصلہ تو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سےہو چکا تھا،اس وقت وہ قاصد ہونے کی وجہ سے بچ گیا تھا،اب وہ قاصد نہیں بلکہ فتنے کا حصہ تھا۔
باقی لوگوں سے فرمایا گیا کہ توبہ کرو، ورنہ تمہارے لیے بھی سخت سزا ہو گی، چنانچہ انہوں نے توبہ کر لی۔

مگر ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے۔

وہ مکان جہاں یہ لوگ جمع ہوتے تھے، اسے بھی باقی نہیں رہنے دیا گیا۔ اسے باقاعدہ گرا دیا گیا۔

حالانکہ اس مکان کے بارے میں کئی راستے اختیار کیے جا سکتے تھے۔ مسجد بنایا جا سکتا تھا، کسی یتیم یا غریب کو دیا جا سکتا تھا، کسی اور کام میں لایا جا سکتا تھا۔

مگر صحابۂ کرام کے نزدیک ناموسِ رسالت کے معاملے میں اتنی بھی گنجائش نہیں تھی کہ اس فتنے کی کوئی معمولی سی یادگار بھی باقی رہ جائے۔

یہی طرزِ عمل ہمیں اس واقعے کی یاد دلاتا ہے جب نبی کریم ﷺ کے حکم سے مسجدِ ضرار کو بھی ختم کر دیا گیا تھا، تاکہ فتنہ اپنی جڑ سے مٹ جائے۔

صحابۂ کرام نے ناموسِ رسالت کی ایسی حفاظت کی کہ جھوٹے مدعیانِ نبوت کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی علامت بھی تاریخ میں باقی نہ رہ سکی۔

اسلامی شریعت میں حدود اور سزاؤں کا اختیار افراد کو نہیں بلکہ ریاست اور عدالت کو حاصل ہے۔ کسی شخص یا گروہ کو ازخود سزا نافذ کرنے کا حق نہیں۔ ایسے معاملات تحقیق اور شہادتوں کے بعد عدالت ہی طے کرتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ قانون کی پابندی کرے معاملہ ریاست کے سپرد کرے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی ناموس اور ختمِ نبوت
کے عقیدے کی سچی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

از
قلم
حافظ محمد ابراہیم نقشبندی
 مارچ15
 2026