یہ صرف ایک بچی کی پکار نہیں… غزہ کے ہر یتیم دل کی فریاد ہے
`اے بابا!
جب سے تم گئے ہو، گھر کی رونق بھی ساتھ لے گئے ہو…
ہم نے کچھ نہیں کھایا، بس تمہاری یادوں سے دل کو بہلاتے رہے ہیں۔
تمہاری کمی ہر لمحہ چبھتی ہے، جیسے دل میں کوئی درد ٹھہر گیا ہو۔
`بابا… ایک لمحے کو تم نے مُڑ کر دیکھا تھا،`
تمہاری آنکھیں نم تھیں… اور شاید دل بھی بوجھل تھا ۔
`تم نے کہا تھا:`
“اے بابا کی پری! صبر کرو، میں جلد واپس آؤں گا…
تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاؤں گا…”
لیکن بابا…
تم ابھی تک واپس نہیں آئے…
`تمہاری پری روز یہی سوچتی ہے:`
کیا ہوا میرے بابا کو؟
کیا وہ ہمیں بھول گئے ہیں؟
`وہ روتی ہے، سسکتی ہے، ہر آہ میں تمہیں پکارتی ہے، دل بے قرار ہے، آنکھیں راستہ دیکھتے دیکھتے تھک گئی ہیں۔
یہ صرف ایک بچی کی فریاد نہیں یہ غزہ کے اُن تمام بچوں کی چیخ ہے جنہوں نے اپنے باپ کا سایہ کھو دیا…
یہ اُن معصوم آنکھوں کے آنسو ہیں جو ہر رات اپنے بابا کو پکارتی ہیں،
مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے…
`یہ اُن دلوں کا درد ہے جو ابھی لفظوں میں بیان ہونا سیکھ بھی نہ پائے تھے مگر جدائی کا زخم سہہ گئے…`
اے امت مسلمہ! خدارا…
ان سسکیوں کو سنو، ان آنسوؤں کو محسوس کرو…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہل فلسطین کو اپنے دعاؤں اور صدقات میں ضرور یاد رکھیں۔