رمضان کے وہ معرکے جنہوں نے تاریخ کا رخ بدل دیا

25 رمضان 
معرکۂ عینِ جالوت (685ھ)

معرکۂ عینِ جالوت مملوک لشکر اور منگول فوج کے درمیان پیش آیا۔ مملوک لشکر کی قیادت سلطان سیفُ الدین قطز کر رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کے نامور سپہ سالار الظاہر بیبرس تھے، جبکہ منگول فوج کی قیادت کتبغا نویان کر رہا تھا۔

یہ جنگ اس وقت ہوئی جب منگول پہلے ہی عالمِ اسلام کے وسیع علاقوں کو روند چکے تھے اور بغداد سقوط کر چکا تھا۔ اس معرکے میں مسلمانوں نے کئی برسوں تک جاری رہنے والی منگولوں کی ہولناک پیش قدمی کے بعد پہلی مرتبہ ایک فیصلہ کن فتح حاصل کی۔

یہ تاریخی اور سرنوشت ساز جنگ سرزمین فلسطین میں لڑی گئی، جس نے منگولوں کی مصر اور شام کی طرف پیش قدمی کو روک دیا۔

عبرت:
ہے ان لوگوں کے لیے جو شام پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتے ہیں ،حالانکہ
ظالموں کی تلواریں ہمیشہ سرزمینِ شام پر ٹوٹتی آئی ہیں، اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔
یاد رہے کہ فلسطین اور شام ایک ہی علاقہ کہلاتا تھا 
سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کی طاقت کو توڑا،اور8دسمبرکواحمدالشرع الجولانی نے بشار الاسد کی طاقت کو نیست و نابود کیا
فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ