ہم دشت کے باسی ہیں اے شہر کے لوگو
یہ روح پیاسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
دکھ درد سے صدیوں کا تعلق ہے ہمارا
یہ آنکھوں کی اداسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
جاں دینا روایت ہے قبیلے کی ہماری
یہ سرخ لباسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
26
سوچنے کی بات!
25 جولائی، 2026
32
جسمانی تشدد!
24 جولائی، 2026
20
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔
23 جولائی، 2026
16
آپ بھی انقلاب برپا کیجیے!
20 جولائی، 2026
33
آہ!
19 جولائی، 2026
48
یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی !
19 جولائی، 2026
30
اعلان جنازہ
13 جولائی، 2026
23
کسان اور فوج
12 جولائی، 2026
52
خواتین کی فتح، مردوں کی بغاوت اور ایڈمن کی کرسی خطرے م