ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے، ساقی
گزشتہ دنوں قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے گویا الفاظ نہیں، نشتر تھے۔
ہوسِ اقتدار کے لالچوں کو تنبیہ کی گئی، اور اُن کے الفاظ سے چناؤ کیا گیا، تو کیا ہی خوب جملہ نکالا کہ "شہداء کی توہین کی گئی ہے۔"
ارے! یہ تو دیکھ کہ سب سے زیادہ شہداء کس نے دیے؟
گولی کی بجائے جمہوریت کا راستہ کس نے دیا؟
گولے کی بجائے پارلیمنٹ کی راہ کس نے دکھائی؟
مگر افسوس ہے ان نابغۂ روزگار شخصیات پر، جو عقل و ہنر میں عبقری شخصیات تو کہلاتے ہیں، مگر حریت اتنی بھی نہیں کہ حقیقت کو حقیقت کہہ سکیں۔
واویلا تو کرتے ہیں، ندائیں، صدائیں تو بلند ہیں، مگر صرف کھوکھلی ہیں۔
دوسروں کے سہاروں پر گفتگو کرتے ہیں۔
اپنی آوازوں کو کچھ اس طرح پیرایۂ سخن میں ضم کرتے ہیں کہ نہ پتا چلتا ہے کہ دیوانے کی بڑ ہے یا محض مگس کی بھن بھناہٹ۔
لیکن اگر دیکھا جائے تو جو الفاظ، جو گہرائی، جو اندازِ مہذبانہ ایک مولوی استعمال کرتا ہے، وہ شاید ہی پاکستان کا کوئی سیاست دان کر سکے۔
اختلافات اپنی جگہ، مگر اختلاف کو دلیل سے کرنا، یہ اسی کا کام ہے۔
آنکھیں کھولیے، دلیل سے بات کیجیے، شور و غُل سے پرہیز کیجیے، تاکہ ندامت زدہ چہرہ لے کر نہ بیٹھنا پڑے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے، ساقی۔
یہ ایسی نم مٹی ہے کہ بے طرفوں، نابکاروں، ناہنجاروں کو بھی ترازوئے کمال میں تول دیتی ہے۔
طوفان احمری