میں گلستانِ حیات میں شاخِ بے برگ و بار کی طرح تنہا ہوں۔
میرا سفینہءِ جاں اب تک ساحلِ مصلحت کا اسیر نہیں ہوا۔
میں ایوانِ زیست کا وہ گوشہ ہوں جہاں ابھی تک کسی قدم کی چاپ ابھری نہ صدا گونجی۔
میرا وجود عقدِ ثانی تو کج، عقدِ اول کے ارمانوں سے بھی ناآشنا ہے۔
میں بزمِ تمنا میں چراغِ سحر کی مانند تنہا جلتا ہوں۔
میری گردن پر ابھی تک رسمِ الفت کا کوئی طوق سجا ہے نہ زنجیر ڈالی گئی ہے۔
میں جادۂِ حیات کا وہ اکیلا مسافر ہوں جس کی ہمسفری کا شرف ابھی کسی کو حاصل نہیں ہوا۔
میرا دلِ بے قرار ابھی تک کسی زلفِ گرہ گیر کا اسیر نہیں ہوا۔
میں دشتِ تنہائی کا وہ آوارہ سحاب ہوں جو کسی آنچل پر برسنے سے قاصر رہا۔
میری حیات کا دفتر ابھی تک کسی کے نام کے انتساب سے خالی ہے۔
😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂
طوفان احمری