جب والدین ہی ظلم پر اتر آئیں
23 فروری، 2026
جب والدین ہی ظلم پر اتر آئیں
اسلام نے والدین کو جو مقام دیا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ قرآن میں بار بار ان کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب، اطاعت اور خدمت کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں تک فرمایا گیا کہ والدین کو "اف" تک نہ کہا جائے، ان کے سامنے آواز بلند نہ کی جائے اور ان کے ساتھ ہمیشہ نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔ یہ سب حق ہے، سچ ہے اور ہر مسلمان پر لازم ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ:
اگر یہی والدین اپنی اولاد کے ساتھ ظلم کریں، ناانصافی کریں، مار پیٹ کریں، گالیاں دیں، سب کے سامنے ذلیل کریں، ذہنی اور جذباتی ٹارچر کریں، اور گھر سے نکال دیں تو کیا تب بھی خاموش رہنا ہی دین ہے؟
اس سوال سے منہ موڑ لینا آسان ہے، مگر اس کا سامنا کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ مسئلہ ہزاروں گھروں میں روز پیدا ہو رہا ہے۔
اسلام صرف والدین کے حقوق کا نام نہیں، بلکہ اسلام عدل، توازن اور رحم کا مکمل نظام ہے۔ قرآن صاف کہتا ہے کہ اللہ عدل کا حکم دیتا ہے۔ عدل کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کا حق ملے، اور کسی پر ظلم نہ ہو۔ یہ اصول والدین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔ اگر کسی کو زیادہ اور کسی کو کم سمجھا جائے، کسی کو بار بار ذلیل کیا جائے اور کسی کو لاڈ پیار دیا جائے، تو یہ تربیت نہیں بلکہ کھلا ظلم ہے۔ یہ رویہ گھر کو سکون کی جگہ کے بجائے اذیت خانہ بنا دیتا ہے۔
یہ کہنا کہ "ہم بڑے ہیں، ہمیں کوئی کچھ نہ کہے"، یا یہ جملہ کہ "میں نے اپنے باپ کی نہیں مانی، تو تیری کیوں مانوں" یہ سب انا، تکبر اور جاہلیت کی سوچ ہے، اسلام کی تعلیم نہیں۔ اسلام میں بڑائی عمر سے نہیں، عدل، تقویٰ اور اخلاق سے ہوتی ہے۔ جو شخص اپنی بڑائی کے نشے میں اپنی اولاد کے جذبات کچل دے، وہ دراصل خود اپنے کردار کو روند رہا ہوتا ہے۔
اولاد کو گالیاں دینا، مارنا، سب کے سامنے بے عزت کرنا، بار بار یہ احساس دلانا کہ تم کچھ نہیں ہو، تم ناکام ہو، تم بوجھ ہو یہ سب الفاظ اور رویے تلوار سے زیادہ زخم دیتے ہیں۔ جسم کے زخم بھر جاتے ہیں، مگر دل پر لگنے والے زخم زندگی بھر نہیں بھرتے۔ ایسی تربیت سے نہ نیک اولاد بنتی ہے اور نہ ہی صحت مند معاشرہ۔
اسلام یہ نہیں کہتا کہ ظلم سہتے رہو اور زبان بند رکھو۔ حدیث کا اصول ہے:
خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔
اگر والدین کا رویہ ظلم، زیادتی اور گناہ پر مبنی ہو تو اس میں ان کی اندھی اطاعت جائز نہیں، ہاں بدتمیزی، بدزبانی اور گستاخی پھر بھی حرام ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ:
ایسی صورت میں مظلوم اولاد کیا کرے؟
اولاد کو چاہیے کہ سب سے پہلے صبر اور ہوش سے کام لے، جذبات میں آ کر بدتمیزی نہ کرے، کیونکہ اس سے مسئلہ حل نہیں بلکہ مزید بگڑتا ہے۔ حکمت کے ساتھ، تنہائی میں، ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا درد بیان کرے۔ اگر بات نہ بنے تو خاندان کے کسی سمجھدار، دیندار اور بااثر بزرگ کو درمیان میں ڈالے تاکہ اصلاح کی صورت نکل سکے۔
اگر اس کے باوجود تشدد جاری رہے، مار پیٹ، ذلت، ذہنی ٹارچر اور جان و عزت کو خطرہ لاحق ہو جائے، تو ایسی حالت میں اپنی حفاظت کرنا نہ گناہ ہے اور نہ نافرمانی۔ اسلام انسان کی جان، عزت اور ذہنی صحت کو بہت بڑی نعمت قرار دیتا ہے۔ ایسی صورت میں خود کو ظلم کے ماحول سے بچانا مجبوری نہیں بلکہ ضرورت بن جاتا ہے۔
مظلوم اولاد کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ مظلوم کی آہ سنتا ہے، چاہے وہ اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ والدین کا مقام بہت بلند ہے، مگر یہ مقام ظلم کی اجازت نامہ نہیں۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے:
عزت والدین کی کرو، مگر ظلم کو تقدیر نہ سمجھو۔
خاموشی سے ٹوٹ جانا دینداری نہیں، بلکہ حکمت کے ساتھ حق پر کھڑا ہونا اصل شعور ہے۔
یہ موضوع کڑوا ہے، مگر سچ ہے۔ اور سچ اگرچہ تلخ ہوتا ہے، مگر شفا بھی وہی دیتا ہے۔
فقیر قادری: محمد فداء المصطفٰی قادری
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی ، کیرلا