قارئین کرام! اسلام کی تاریخ اگر روشنی کے کسی منبع سے عبارت ہے تو وہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگیوں سے ہے۔ کیونکہ یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں کہ جن کی حیات گویا قرآن کی عملی تفسیر اور سنتِ نبوی کا کامل نمونہ تھیں۔ اگر ان کی زندگیوں کو دیکھا جائے تو ہم کو ہر لمحہ اطاعتِ الٰہی اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی جھلک ملتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کی لذتیں اور چمک دمک ان کے سامنے آئیں تو انہوں نے ان پر پیٹھ پھیر دی مگر جب دین کی خاطر قربانی کا وقت آیا تو وہ خوشی۔ خوشی اپنی جانیں پیش کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اسلئے کہ ان کے دلوں میں ایمان کا ایسا یقین اور اخلاص تھا جو ہر آزمائش کی گھڑی میں ان کے قدم جماتا رہا۔ پھر جب وقت نے ان کے ایمان کو عملی امتحانوں میں پرکھا تو انہوں نے اپنے عزم اور حوصلے کے ساتھ دنیا کو یہ دکھایا کہ ایمان محض ایک نظریہ یا عقیدہ نہیں ہے بلکہ قوتِ عمل اور جذبۂ قربانی کا سرچشمہ ہے۔

خیر اس سب کے علاوہ ان کی پوری زندگی مسلسل آزمائش سے عبارت ہے۔ انہی مسلسل آزمائشوں میں پہلی بڑی منزل بدر کے ریگزار میں نمودار ہوئی جب ایمان اور کفر کی سب سے پہلی کشاکش سامنے آئی۔

دیکھنے والوں نے دیکھا ، لکھنے والوں نے لکھا اور پڑھنے والے قیامت تک پڑھتے رہیں گے کہ وہ قلیل جماعت جو اللہ کے نام پر صف بستہ ہوئی وہ گویا آسمان سے نازل شدہ یقین کا پیکر تھی کہ جس کے عزم نے طاقت کے پیمانوں کو نہیں بلکہ ایمان کے میزان کو معیار بنایا۔

حالانکہ ان کی آزمائش یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ وقت نے آگے بڑھ کر ایک اور کڑی آزمائش ان پر ڈالی۔ احد کے معرکے میں جب دشمن کی تلواریں اور تیروں کی بارش قریب آنے لگی تو یہی جماعت تھی جو جانیں لٹا کر دنیا کو یہ سمجھا گئی کہ بندگی اور وفاداری محض دعوے کا نام نہیں بلکہ اپنے خون سے لکھے جانے والے عہد کا دوسرا نام ہے۔ ان کے لہو کی سرخی نے زمین پر یہ گواہی ثبت کر دی کہ اللہ کے دین پر قربان ہونا ہی اصل کامیابی اور اصل عزت ہے۔پھر خندق کی سخت آزمائش سامنے آئی۔ بھوک، جاں گسل سردی اور دشمنوں کے انبوہ کثیر کے باوجود یہی قافلہ تھا جس نے سینہ سپر ہو کر یہ بتا دیا کہ ایمان کی اصل قوت تلواروں اور نیزوں سے بڑھ کر ہے۔ اس کے علاوہ یہ معرکہ تاریخ کی اس عظیم منزل کا اعلان تھا کہ وعدۂ الٰہی پر بھروسہ انسان کو ایسی قوت عطا کرتا ہے جو کسی بھی مادی طاقت سے برتر ہے۔

بہر حال یہ تین معرکے تو محض ان کی قربانیوں کی مثالیں ہیں ورنہ اگر صحابہ کرام کی زندگیاں کنگھالی جائیں تو معلوم ہوگا کہ ان کا ہر دن اور ہر لمحہ ایثار ، صبر، قربانی اور استقامت کا آئینہ دار تھا۔

سچ کہیں تو انہوں نے یہ حقیقت عملاً ثابت کر دی کہ دین محض زبانی کلمے یا اعترافات سے نہیں بلکہ عملی ایثار اور اللہ و رسولؐ کی رضا پر زندگی قربان کرنے کا نام ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ رب العزت نے انہیں وہ لافانی انعام عطا فرمایا جس کا اعلان قرآن کی یہ آیت کرتی ہے: "رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ"۔

بس یہی وجۂ امتیاز ہے جس نے صحابہ کرام کو پوری امت کے لیے معیار اور اسوہ بنا دیا۔

لہذا آج اگر ملت اسلامیہ اپنی کھوئی ہوئی عزت، گم گشتہ وقار اور عالم پر قیادت کے منصب کو دوبارہ پانا چاہتی ہے تو اس کی واحد صورت یہی ہے کہ وہ صحابہ کرامؓ کی حیات سے اپنا رشتہ مضبوط کرے۔ کیونکہ ان کا اسوہ محض تاریخ کی داستان نہیں بلکہ حال کی راہنمائی اور مستقبل کی ضامن قوت ہے۔ اس کے علاوہ انہی کے نقوش سے ایمان کی حرارت ملتی ہے، انہی کے طریق پر مادیت کا زہر ختم ہوتا ہے اور انہی کے راستے پر چل کر امت ایک بار پھر جہان میں اللہ کے دین کا پرچم سربلند کر سکتی ہے۔