مولانا عبدالجبار سلہری، فرزندِ غازی شبیر احمد سلہری، جن کا علمی و روحانی سفر جویا شریف ضلع سیالکوٹ کی بابرکت سرزمین سے آغاز پاتا ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی اور قرآن کریم کو جامعہ فاروقیہ امام صاحب، سیالکوٹ میں حفظ کرنے کا شرف حاصل کیا۔ دینی علوم کی روشنی جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور سے رابعہ تک، اور تکمیلِ درجات کے ساتھ دورۂ حدیث دارالعلوم الشہابیہ سیالکوٹ میں مکمل کی۔
حدیثِ رسول ﷺ کی اجازت اور سند ایسے اجلّہ اکابر سے نصیب ہوئی جن کے نام ہی سند کا درجہ رکھتے ہیں، صاحبزادہ امامِ اہلِ سنت حضرت سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ، مولانا عبد القدوس خان قارن، اور غزالی زماں حضرت صوفی عبد الشکور مدظلہم تلمیذ رشید مولانا زید قاسمی فاضل دارالعلوم دیوبند (دارالعلوم ربانیہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ)۔
علمیات کے میدان میں بھی آپ کو وہ فیضان حاصل ہوا جو سلاسلِ سلوک و طریقت کی ایک درخشاں کڑی ہے۔ امام المناظرین حضرت علامہ مولانا نعیم الدین (جامعہ مدنیہ، لاہور)، حافظ شیر محمد (قائد آباد)، اور پیرِ طریقت صوفی غلام سرور شباب سے اجازت و ارشاد پایا۔
قلم کے شعبے میں بھی آپ نے اپنی شناخت قائم کی۔ 2020ء سے تاحال پاکستان کے مختلف نامور اخبارات و جرائد مثلاً مشرق فرائیڈے میگزین، جنگ، اساس اخبار، تبصرہ، گرد و نواح وغیرہ میں تسلسل کے ساتھ کالم نگاری کر رہے ہیں۔ آپ کی تحریریں اپنے منفرد اسلوب، فکری گہرائی اور سماجی شعور کے سبب قارئین میں خاص مقام رکھتی ہیں۔
آپ کی آنے والی تصنیف ”زکات عملیات“ ایک منفرد علمی کاوش ہے، جس میں عملیات کی زکاة کے دقیق مباحث نہ صرف سلیقے سے قلمبند کیے گئے ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک مستند حوالہ بھی ثابت ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔