ہیموفیلیا، خون، زندگی اور بقا کی خاموش جدوجہد
تحریر: عبدالجبار سلہری

انسانی جسم خالقِ کائنات کی ایک ایسی حیرت انگیز تخلیق ہے جس کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں صدیاں گزر چکی ہیں، مگر آج بھی اس کے بہت سے راز انسانی عقل کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ اس پورے حیاتیاتی نظام میں خون کی گردش ایک ایسے دریا کی مانند ہے جو زندگی کی زمین کو سرسبز رکھتا ہے۔ مگر ذرا تصور کیجیے کہ اگر یہی دریا اپنی حدود سے باہر نکل آئے اور اسے روکنے والا کوئی بند باقی نہ رہے تو کیا ہوگا؟ یہی کیفیت طب کی زبان میں “ہیمو فیلیا” کہلاتی ہے۔ ایک ایسی حالت جہاں خون اور زندگی کے درمیان ایک مسلسل کشمکش جاری رہتی ہے۔

انسانی زندگی کا انحصار اسی سرخ مائع پر ہے جسے ہم خون کہتے ہیں۔ جب یہ اپنی رگوں کے اندر رواں رہتا ہے تو زندگی کو قائم رکھتا ہے، مگر جیسے ہی یہ باہر نکلتا ہے، قدرت نے اسے روکنے کے لیے ایک نہایت منظم نظام بنایا ہے۔ معمولی سی چوٹ لگنے پر پلیٹ لیٹس اور مخصوص پروٹینز فوراً متحرک ہو جاتے ہیں اور خون کو جمانے کا عمل شروع کر دیتے ہیں، تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

لیکن ہیمو فیلیا کے مریض کے لیے یہ نظام کمزور یا تقریباً غیر مؤثر ہوتا ہے۔ اس کے جسم میں خون جمانے والے عوامل، جنہیں کلاٹنگ فیکٹرز کہا جاتا ہے، یا تو موجود نہیں ہوتے یا بہت کم مقدار میں ہوتے ہیں۔ نتیجتاً معمولی چوٹ بھی خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔ یہ ایک موروثی بیماری ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے اور انسان کو نہایت نازک بنا دیتی ہے۔

سائنسی اعتبار سے دیکھا جائے تو انسانی خون میں مختلف پروٹینز مل کر خون جمانے کا عمل مکمل کرتے ہیں۔ جب جسم کو چوٹ لگتی ہے تو یہ سب ایک ترتیب کے ساتھ کام کرتے ہیں اور خون کے بہاؤ کو روک دیتے ہیں۔ مگر ہیمو فیلیا میں ان میں سے کسی ایک اہم فیکٹر کی کمی پورے نظام کو متاثر کر دیتی ہے، اور خون بہنا رک نہیں پاتا۔

اس بیماری کی بنیادی طور پر دو بڑی اقسام ہیں۔ پہلی، ہیمو فیلیا اے، جس میں فیکٹر آٹھ کی کمی ہوتی ہے اور یہ سب سے عام قسم ہے۔ دوسری، ہیمو فیلیا بی، جس میں فیکٹر نو کی کمی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک نایاب قسم بھی ہے جس میں فیکٹر گیارہ متاثر ہوتا ہے، مگر اس کے مریض کم ہوتے ہیں۔

یہ بیماری زیادہ تر مردوں میں ظاہر ہوتی ہے، جبکہ خواتین عموماً اس کی ناقل ہوتی ہیں۔ یعنی وہ خود بظاہر صحت مند ہوتی ہیں مگر اپنے بچوں کو یہ بیماری منتقل کر سکتی ہیں۔ جینیاتی نظام کا یہ پہلو نہایت اہم اور قابلِ غور ہے، کیونکہ ایک صحت مند ماں بھی اپنے بیٹے کو اس بیماری میں مبتلا کر سکتی ہے۔

تاریخی طور پر ہیمو فیلیا کو خاص شہرت اس وقت ملی جب یہ یورپ کے شاہی خاندانوں میں پھیل گئی۔ برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ اس بیماری کی ناقل تھیں، اور ان کے ذریعے یہ روس، اسپین اور جرمنی کے شاہی گھروں تک پہنچی۔ روس کے شہزادے الیکسی اسی مرض میں مبتلا تھے، جس نے نہ صرف خاندان بلکہ ریاستی معاملات پر بھی اثر ڈالا۔ اسی وجہ سے اسے “شاہی بیماری” بھی کہا جانے لگا۔

جینیاتی لحاظ سے یہ بیماری ایکس کروموسوم سے جڑی ہوتی ہے۔ مردوں میں چونکہ صرف ایک ایکس کروموسوم ہوتا ہے، اس لیے اگر اس میں خرابی ہو تو بیماری ظاہر ہو جاتی ہے۔ جبکہ خواتین میں دوسرا صحت مند کروموسوم اس خرابی کو کسی حد تک چھپا لیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ خود متاثر نہیں ہوتیں مگر بیماری کو آگے منتقل کر سکتی ہیں۔

بعض اوقات یہ بیماری پیدائشی نہیں ہوتی بلکہ بعد میں بھی پیدا ہو سکتی ہے، جسے حاصل شدہ ہیموفیلیا کہا جاتا ہے۔ اس میں جسم کا مدافعتی نظام خود ہی خون جمانے والے عوامل کے خلاف ردعمل پیدا کرتا ہے، جو بعض بیماریوں، حمل یا ادویات کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

علامات کے لحاظ سے ہیمو فیلیا ایک خاموش مگر خطرناک بیماری ہے۔ مریض بظاہر عام انسان جیسا ہی دکھائی دیتا ہے، مگر اندرونی طور پر وہ مسلسل خطرے میں ہوتا ہے۔ معمولی چوٹ پر زیادہ خون بہنا، جوڑوں میں درد اور سوجن، ناک یا مسوڑھوں سے بار بار خون آنا، اور جسم پر نیل پڑ جانا اس کی عام علامات ہیں۔ سب سے خطرناک صورت اندرونی خون ریزی ہے، جو جوڑوں اور پٹھوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور اگر بروقت علاج نہ ہو تو مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔

شدت کے اعتبار سے اس بیماری کو ہلکی، درمیانی اور شدید اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ شدید صورت میں بغیر کسی واضح چوٹ کے بھی خون بہنا شروع ہو سکتا ہے، جو مریض کے لیے نہایت خطرناک ہوتا ہے۔

ماضی میں یہ بیماری تقریباً لاعلاج سمجھی جاتی تھی، مگر اب طب نے اس میدان میں کافی ترقی کر لی ہے۔ تشخیص کے لیے خون کے مخصوص ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کون سا فیکٹر متاثر ہے اور اس کی کمی کس حد تک ہے۔ جینیاتی ٹیسٹ بھی اس میں مدد دیتے ہیں۔

علاج کے طور پر فیکٹر ریپلیسمنٹ تھراپی سب سے مؤثر طریقہ ہے، جس میں مریض کو وہ فیکٹر دیا جاتا ہے جو اس کے جسم میں کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ باقاعدہ علاج کے ذریعے خون بہنے کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ جدید دور میں جین تھراپی پر بھی کام ہو رہا ہے، جس کے ذریعے اس بیماری کے مستقل علاج کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اگر اس بیماری کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ کئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے، جیسے جوڑوں کا مستقل نقصان، دماغی خون ریزی، اور علاج کے خلاف مزاحمت پیدا ہونا۔

یہ بیماری صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی اثرات بھی رکھتی ہے۔ ایک بچہ جو دوسروں کو کھیلتے دیکھتا ہے مگر خود احتیاط پر مجبور ہوتا ہے، اس کی کیفیت سمجھنا مشکل نہیں۔ والدین بھی ہر وقت خوف اور فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ معاشرے میں آگاہی کی کمی کے باعث بعض لوگ اسے غلط سمجھتے ہیں، جو مریض کے لیے مزید اذیت کا باعث بنتا ہے۔

احتیاطی تدابیر نہایت اہم ہیں۔ مریضوں کو چاہیے کہ وہ خطرناک سرگرمیوں سے پرہیز کریں، محفوظ ورزش کو اپنائیں، دانتوں کی صفائی کا خیال رکھیں، اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات استعمال نہ کریں۔ ایسے خاندانوں کے لیے جینیاتی رہنمائی بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔

ہنگامی حالات میں فوری طبی امداد ضروری ہے، خاص طور پر جب شدید درد، مسلسل خون بہنا یا دیگر خطرناک علامات ظاہر ہوں۔

ہیمو فیلیا دراصل انسانی صبر، حوصلے اور سائنسی ترقی کی ایک کہانی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صحت ایک عظیم نعمت ہے اور اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ خون کا ایک قطرہ جب اپنی حدود میں رہتا ہے تو زندگی کو قائم رکھتا ہے، مگر جب یہی بے قابو ہو جائے تو انسان بے بس ہو جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہیمو فیلیا کے مریضوں کو صرف ہمدردی نہیں بلکہ ایک باعزت زندگی کے مواقع فراہم کریں۔ آگاہی اور شعور کے ذریعے ہم اس بیماری کے ساتھ جینے کو آسان بنا سکتے ہیں۔ کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ زندگی کو بچایا جائے، سنبھالا جائے، اور اسے باوقار انداز میں گزارا جائے۔
***