قائداعظم کا مسلک کیا تھا؟

تحریر عبدالجبار سلہری 

برصغیر کی پُرآشوب تاریخ میں محمد علی جناح کی شخصیت ایک ایسی بلند قامت حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہے جسے ہر مکتبِ فکر نے اپنے زاویۂ نظر سے سمجھنے اور پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہی فکری مباحث میں ایک سوال بارہا ابھرتا ہے: کیا قائداعظم سنی تھے یا شیعہ؟ اگر اس سوال کا جواب جذبات، وابستگی یا تعصب کے بجائے تاریخ کی غیر جانب دار عدالت میں تلاش کیا جائے تو ایک نہایت باریک، مگر نہایت معنی خیز حقیقت سامنے آتی ہے۔

سب سے پہلے اہلِ سنت کے موقف کا جائزہ لیا جائے تو ایک طبقہ پورے اعتماد کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جناح سنی تھے۔ اس دعوے کی بنیاد عموماً دو نکات پر رکھی جاتی ہے: اوّل، ان کی سرکاری نمازِ جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی؛ دوم، وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے قائد تھے، جو برصغیر کے اکثریتی سنی مسلمانوں کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی تھی۔ بظاہر یہ دلائل وزنی محسوس ہوتے ہیں، مگر یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا کسی شخصیت کا سرکاری جنازہ اس کے مسلک کا قطعی اور حتمی ثبوت بن سکتا ہے؟ تاریخ کا سنجیدہ مطالعہ اس سوال کا جواب نفی میں دیتا ہے؛ کیونکہ ریاستی تقاضے اور مذہبی شناخت ہمیشہ ایک دوسرے کے ہم معنی نہیں ہوتے۔

دوسری جانب اہلِ تشیع کا موقف ہے کہ جناح دراصل شیعہ تھے۔ اس کے حق میں یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ ان کا تعلق کھوجہ خاندان سے تھا، جس کی جڑیں اسماعیلی شیعہ روایت سے ملتی ہیں۔ مزید برآں بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ ان کی نجی سطح پر نمازِ جنازہ شیعہ طریقے کے مطابق ادا کی گئی۔ اس موقف کے حامی اسے فیصلہ کن شہادت قرار دیتے ہیں۔ تاہم یہاں بھی ایک اہم سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے: کیا خاندانی پس منظر لازماً کسی فرد کے ذاتی عقیدے اور مسلک کی مکمل نمائندگی کرتا ہے؟ تاریخ اس سوال کا جواب بھی احتیاط کے ساتھ نفی میں دیتی ہے؛ کیونکہ فرد کی فکری و اعتقادی شناخت محض وراثت کی بنیاد پر متعین نہیں کی جا سکتی۔

جب یہ بحث جذباتی دائروں سے نکل کر تحقیقی میدان میں داخل ہوتی ہے تو غیر جانب دار مؤرخین کی آراء نہایت اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ عائشہ جلال واضح طور پر لکھتی ہیں کہ جناح نے کبھی خود کو کسی مخصوص مسلک کے ساتھ علانیہ طور پر وابستہ نہیں کیا۔ دی سول اسپوکس مین (کیمبرج یونیورسٹی پریس)۔ اسی طرح اسٹینلے وولپرٹ کے مطابق جناح کی مسلکی شناخت مبہم رہی (جناح آف پاکستان (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس)۔ یہ آراء اس پوری بحث کا رخ بدل دیتی ہیں؛ کیونکہ یہاں سوال “وہ کیا تھے” سے زیادہ اہم یہ بن جاتا ہے کہ “انہوں نے خود کو کیا ظاہر کیا”۔

مزید برآں، قائداعظم کے قریبی ساتھی ایم۔ سی۔ چھاگلہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جناح کی ذاتی زندگی ایک حد تک سیکولر، قانونی اور آئینی مزاج کی حامل تھی، اور ان میں مذہبی رسوم کی ظاہری پابندی کم نمایاں تھی (روزِز اِن دسمبر (صفحہ 45)۔ اس اقتباس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جناح کی شخصیت کا غالب پہلو مذہبی اظہار کے بجائے سیاسی و آئینی شعور تھا۔

بعض حلقوں میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں مسلک تبدیل کر لیا تھا؛ مگر جب اوّلیہ مصادر، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی کتاب (وِد دا قائدِ اعظم ڈیورنگ ہِز لاسٹ ڈیز )کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو اس نوعیت کی کسی تبدیلی کا کوئی واضح ذکر نہیں ملتا۔ یوں یہ بات سامنے آتی ہے کہ دعویٰ اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس کے حق میں مستند ثبوت مفقود ہیں۔

اگر جناح کے اپنے بیانات کا تجزیہ کیا جائے تو ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ بارہا “مسلم قوم” کی بات کرتے ہیں، مگر کہیں بھی “سنی قوم” یا “شیعہ قوم” کی اصطلاح استعمال نہیں کرتے۔ اس سے یہ نکتہ ابھرتا ہے کہ ان کے نزدیک مذہب ایک اجتماعی شناخت تھا، نہ کہ مسلکی تقسیم کا ذریعہ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی فکر میں اتحاد، قومیت اور آئینی حقوق کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔

تاریخ کا ایک نہایت دلچسپ اور بامعنی پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی نمازِ جنازہ ایک طرف سنی طریقے پر ادا ہوئی، جبکہ بعض روایات کے مطابق دوسری طرف شیعہ طریقے سے بھی۔ یہ بظاہر تضاد نہیں، بلکہ ایک علامتی حقیقت ہے: قائداعظم کو کسی ایک مسلک کے محدود دائرے میں قید کرنا خود تاریخ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

اگر تمام دلائل کو غیر جانب داری کے ساتھ پرکھا جائے تو صورتِ حال یوں سامنے آتی ہے: شیعہ ہونے کی دلیل خاندانی پس منظر پر قائم ہے، سنی ہونے کی دلیل سرکاری جنازے پر، جبکہ غیر جانب دار حقیقت یہ ہے کہ جناح نے ذاتی سطح پر کسی مسلک کا علانیہ اظہار نہیں کیا۔ چنانچہ سب سے مضبوط اور متوازن مؤقف وہی قرار پاتا ہے جو جذبات سے پاک اور شواہد پر مبنی ہو۔

تاریخ کی عدالت میں تمام دلائل پڑھنے کے بعد یہ کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ: 
محمد علی جناح کو کسی ایک خاص فقہی یا مسلکی خانے میں قطعی طور پر رکھنا تاریخی دیانت کے خلاف ہے، وہ ایک مسلم سیکولر رہنما تھے جن کی شناخت زیادہ تر سیاسی، آئینی اور قومی تھی، نہ کہ مسلکی، اگر قائد خاص قسم کا مسلک رکھتے ہوتے تو اسی کی نمائندگی چاہتے،لیکن انھوں نے مطلقا اسلام کا نام لیا، مطلب یہ ہوا کہ وہ فقط اسلام چاہتے تھے نہ کہ خاص مسلک۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی جناح پر بحث ختم نہیں ہوتی کیونکہ وہ کسی ایک مسلک کے نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کے قائد تھے۔

آج جب ہم اس بحث کو دیکھتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم اپنے قائد کو سمجھنے کے بجائے انہیں اپنے اپنے خانوں میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ قائداعظم کا اصل پیغام اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم تھا۔ پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ ہم مسلکی جھگڑوں سے بلند ہو کر ایک قوم بنیں، اپنے اختلافات کو علمی دائرے تک محدود رکھیں، اور ان عناصر کے خلاف متحد ہو جائیں جو اس ملک کے امن، استحکام اور نظریاتی اساس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی، اور اگر ہم متحد ہو گئے تو یہی اتحاد پاکستان کی سب سے بڑی قوت بنے گا، اور ہر فساد برپا کرنے والے کے لیے ایک واضح اور فیصلہ کن پیغام ہے۔