*نوری علم کے پردے میں شرکیہ عملیات* قسط نمبر: 1 (نیا سلسلہ)
تحریر: عبدالجبار سلہری جویا شریف
پس نوشت:
(آپ لوگوں نے میرا پہلا سلسلہ "میں عامل کیسے بنا؟" کو بہت پذیرائی بخشی۔ مجھے بڑے بڑے شیوخ کے میسج موصول ہوئے۔الحمدللہ اس سے حوصلہ افزائی ہوئی۔ اب سوچا ہے کہ آپ کو ان عاملین کے کرتوتوں سے آگاہ کیا جائے جو نوری عملیات کا جھانسہ دے کر جادو یا شرکیہ اعمال کی دھکیل دیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اپنے بھائی کے بارے میں آپ بیتی میں بتا چکا ہوں۔ تو آئیے! آپ کو اس نئے سلسلے سے آگاہ کرتا ہوں۔)
---------
نوری علم کا نام لے کر شیطانی علوم کی تعلیم دینے والے، اور سادہ لوح لوگوں کو شرکیہ اعمال کی طرف مائل کرنے والے، درحقیقت اسی گمراہ فکر کے پروردہ اور چیلے ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کسی بھی زاویے سے انسانیت کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ ان کی ظاہری چمک دمک اور دلکش دعوے وقتی طور پر لوگوں کو متاثر ضرور کر دیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ طرزِ عمل دینِ اسلام کی اصل روح کے سراسر منافی ہے۔
اب ممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ یہ کیسی عجیب باتیں کی جا رہی ہیں۔ شاید کسی کے ذہن میں یہ خیال بھی آئے کہ گویا کہنے والے کے پاس کوئی علم نہیں، یا وہ محض مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہے۔ چنانچہ آئیے، ایک معروف منتر پر غور کر لیتے ہیں جو اس میدان میں کثرت سے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے:
“لا الہ دی کنجیاں، الا اللہ دے تیر۔ حاضرات دکھاؤ یا غوث الاعظم دستگیر۔ بحق لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔”
اس منتر کا پہلا جملہ بظاہر نہایت دلکش اور معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ اس میں توحید کا تذکرہ اس انداز سے کیا گیا ہے کہ سننے والا فوراً متاثر ہو جاتا ہے۔ عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ یہ کوئی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ نوری علم ہے، کیونکہ اس کی ابتدا ہی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بیان سے ہو رہی ہے۔ ظاہر ہے جب کسی کلام کا آغاز توحید کے اعلان سے ہو تو سادہ دل انسان کے ذہن میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس میں کوئی قباحت یا خرابی بھی ہو سکتی ہے۔
لیکن جب ہم اسی منتر کے دوسرے جملے پر نظر ڈالتے ہیں تو معاملہ یکسر مختلف صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں براہِ راست “یا غوث الاعظم دستگیر” کہہ کر مدد کے لیے پکارا گیا ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جس سے شریعتِ مطہرہ نے واضح طور پر منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں ایک اصولی ہدایت ارشاد فرمائی۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! ہم زمانۂ جاہلیت میں جو دم کیا کرتے تھے، کیا اب بھی کر سکتے ہیں؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اعرضوا عليَّ رُقاكم، لا بأسَ بالرُّقى ما لم يكن فيه شركٌ.”
“اپنے دم مجھ پر پیش کرو، اگر ان میں شرک نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔”
(صحیح مسلم، کتاب السلام، باب لا بأس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک، حدیث: 2200، دار احیاء التراث العربی)
اس واضح نبوی ہدایت کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کا مسلمان کس بنیاد پر ایسے کلمات کو جائز قرار دیتا ہے جن میں غیر اللہ کو اس انداز میں پکارا جائے جو استعانت کے مفہوم پر دلالت کرتا ہو۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینا آسان نہیں۔
منتر کا تیسرا جملہ دوبارہ کلمۂ توحید اور ختمِ نبوت کے اعلان پر مشتمل ہے:
“بحق لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔”
یہ جملہ بظاہر اس لیے رکھا گیا ہے کہ پڑھنے والے کو یہ گمان نہ گزرے کہ یہ کلام شرکیہ ہے۔ یوں ابتدا اور انتہا توحید کے کلمات سے کر دی جاتی ہے تاکہ درمیان میں موجود خرابی عام نظر سے اوجھل رہے۔
اکثر عاملین سے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ اس میں کوئی خرابی نہیں، یہ محض نوری علم ہے۔ ان کے بقول اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر بھی ہے اور غوثِ پاک سے صرف مدد طلب کی گئی ہے۔ لیکن اگر ذرا غور کیا جائے تو ایک اور قابلِ توجہ پہلو سامنے آتا ہے۔ اس منتر میں الفاظ “حاضرات دکھاؤ” استعمال ہوئے ہیں، گویا غوثِ اعظم کو حکم دیا جا رہا ہے کہ تم حاضری ظاہر کرو یا فلاں کام دکھاؤ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پڑھنے والا شخص العیاذ باللہ اس ہستی سے بلند تر مقام رکھتا ہے کہ اسے اس طرح حکم دے؟ یا پھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ محض ایک ایسی شخصیت تھی جسے وہ اپنی مرضی سے حکم لگا سکتا ہے؟
یہ ایک نہایت عجیب طرزِ استدلال ہے۔ اگر منتر بنانے والے نے اس پہلو پر غور نہیں کیا تو کیا پڑھنے والے کو بھی اس پر غور نہیں کرنا چاہیے؟ کیا عقلِ سلیم یہ بات قبول کر سکتی ہے کہ اگر دودھ میں پیشاب کا ایک قطرہ گر جائے تو دودھ پاک ہی رہتا ہے؟ ظاہر ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ ناپاکی کا ایک معمولی سا عنصر بھی پورے مشروب کو آلودہ کر دیتا ہے۔
اسی لیے میں ہمیشہ یہ بات کہتا ہوں کہ اس میدان میں قدم رکھنے والا شخص کم از کم اتنا تعلیم یافتہ ضرور ہو کہ اس کے عقائد مضبوط ہوں۔ اسے توحید، شرک اور کفر کے درمیان واضح فرق معلوم ہو۔ جو شخص بنیادی دینی بصیرت سے محروم ہو، اس کے لیے اس طرح کے معاملات میں پڑنا انتہائی خطرناک ہے۔ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اس راستے سے دور رہیں، کیونکہ عقیدہ انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، اور اس کی حفاظت ہر مسلمان پر لازم ہے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔*نوری علم کے پردے میں شرکیہ عملیات* قسط نمبر: 1 (نیا سلسلہ)
تحریر: عبدالجبار سلہری
پس نوشت:
(آپ لوگوں نے میرا پہلا سلسلہ "میں عامل کیسے بنا؟" کو بہت پذیرائی بخشی۔ مجھے بڑے بڑے شیوخ کے میسج موصول ہوئے۔الحمدللہ اس سے حوصلہ افزائی ہوئی۔ اب سوچا ہے کہ آپ کو ان عاملین کے کرتوتوں سے آگاہ کیا جائے جو نوری عملیات کا جھانسہ دے کر جادو یا شرکیہ اعمال کی دھکیل دیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اپنے بھائی کے بارے میں آپ بیتی میں بتا چکا ہوں۔ تو آئیے! آپ کو اس نئے سلسلے سے آگاہ کرتا ہوں۔)
---------
نوری علم کا نام لے کر شیطانی علوم کی تعلیم دینے والے، اور سادہ لوح لوگوں کو شرکیہ اعمال کی طرف مائل کرنے والے، درحقیقت اسی گمراہ فکر کے پروردہ اور چیلے ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کسی بھی زاویے سے انسانیت کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ ان کی ظاہری چمک دمک اور دلکش دعوے وقتی طور پر لوگوں کو متاثر ضرور کر دیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ طرزِ عمل دینِ اسلام کی اصل روح کے سراسر منافی ہے۔
اب ممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ یہ کیسی عجیب باتیں کی جا رہی ہیں۔ شاید کسی کے ذہن میں یہ خیال بھی آئے کہ گویا کہنے والے کے پاس کوئی علم نہیں، یا وہ محض مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہے۔ چنانچہ آئیے، ایک معروف منتر پر غور کر لیتے ہیں جو اس میدان میں کثرت سے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے:
“لا الہ دی کنجیاں، الا اللہ دے تیر۔ حاضرات دکھاؤ یا غوث الاعظم دستگیر۔ بحق لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔”
اس منتر کا پہلا جملہ بظاہر نہایت دلکش اور معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ اس میں توحید کا تذکرہ اس انداز سے کیا گیا ہے کہ سننے والا فوراً متاثر ہو جاتا ہے۔ عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ یہ کوئی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ نوری علم ہے، کیونکہ اس کی ابتدا ہی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بیان سے ہو رہی ہے۔ ظاہر ہے جب کسی کلام کا آغاز توحید کے اعلان سے ہو تو سادہ دل انسان کے ذہن میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس میں کوئی قباحت یا خرابی بھی ہو سکتی ہے۔
لیکن جب ہم اسی منتر کے دوسرے جملے پر نظر ڈالتے ہیں تو معاملہ یکسر مختلف صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں براہِ راست “یا غوث الاعظم دستگیر” کہہ کر مدد کے لیے پکارا گیا ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جس سے شریعتِ مطہرہ نے واضح طور پر منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں ایک اصولی ہدایت ارشاد فرمائی۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! ہم زمانۂ جاہلیت میں جو دم کیا کرتے تھے، کیا اب بھی کر سکتے ہیں؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اعرضوا عليَّ رُقاكم، لا بأسَ بالرُّقى ما لم يكن فيه شركٌ.”
“اپنے دم مجھ پر پیش کرو، اگر ان میں شرک نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔”
(صحیح مسلم، کتاب السلام، باب لا بأس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک، حدیث: 2200، دار احیاء التراث العربی)
اس واضح نبوی ہدایت کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کا مسلمان کس بنیاد پر ایسے کلمات کو جائز قرار دیتا ہے جن میں غیر اللہ کو اس انداز میں پکارا جائے جو استعانت کے مفہوم پر دلالت کرتا ہو۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینا آسان نہیں۔
منتر کا تیسرا جملہ دوبارہ کلمۂ توحید اور ختمِ نبوت کے اعلان پر مشتمل ہے:
“بحق لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔”
یہ جملہ بظاہر اس لیے رکھا گیا ہے کہ پڑھنے والے کو یہ گمان نہ گزرے کہ یہ کلام شرکیہ ہے۔ یوں ابتدا اور انتہا توحید کے کلمات سے کر دی جاتی ہے تاکہ درمیان میں موجود خرابی عام نظر سے اوجھل رہے۔
اکثر عاملین سے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ اس میں کوئی خرابی نہیں، یہ محض نوری علم ہے۔ ان کے بقول اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر بھی ہے اور غوثِ پاک سے صرف مدد طلب کی گئی ہے۔ لیکن اگر ذرا غور کیا جائے تو ایک اور قابلِ توجہ پہلو سامنے آتا ہے۔ اس منتر میں الفاظ “حاضرات دکھاؤ” استعمال ہوئے ہیں، گویا غوثِ اعظم کو حکم دیا جا رہا ہے کہ تم حاضری ظاہر کرو یا فلاں کام دکھاؤ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پڑھنے والا شخص العیاذ باللہ اس ہستی سے بلند تر مقام رکھتا ہے کہ اسے اس طرح حکم دے؟ یا پھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ محض ایک ایسی شخصیت تھی جسے وہ اپنی مرضی سے حکم لگا سکتا ہے؟
یہ ایک نہایت عجیب طرزِ استدلال ہے۔ اگر منتر بنانے والے نے اس پہلو پر غور نہیں کیا تو کیا پڑھنے والے کو بھی اس پر غور نہیں کرنا چاہیے؟ کیا عقلِ سلیم یہ بات قبول کر سکتی ہے کہ اگر دودھ میں پیشاب کا ایک قطرہ گر جائے تو دودھ پاک ہی رہتا ہے؟ ظاہر ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ ناپاکی کا ایک معمولی سا عنصر بھی پورے مشروب کو آلودہ کر دیتا ہے۔
اسی لیے میں ہمیشہ یہ بات کہتا ہوں کہ اس میدان میں قدم رکھنے والا شخص کم از کم اتنا تعلیم یافتہ ضرور ہو کہ اس کے عقائد مضبوط ہوں۔ اسے توحید، شرک اور کفر کے درمیان واضح فرق معلوم ہو۔ جو شخص بنیادی دینی بصیرت سے محروم ہو، اس کے لیے اس طرح کے معاملات میں پڑنا انتہائی خطرناک ہے۔ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اس راستے سے دور رہیں، کیونکہ عقیدہ انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، اور اس کی حفاظت ہر مسلمان پر لازم ہے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔