اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اس کے رب، اس کے نفس اور اس کے معاشرے کے حقوق بتاتا ہے۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کے بعد جن ہستیوں کا سب سے زیادہ حق بیان کیا گیا ہے وہ والدین ہیں۔ والدین کی اطاعت اور خدمت کو بہت بڑی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں بار بار والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
والدین وہ عظیم نعمت ہیں جن کے ذریعے انسان اس دنیا میں آتا ہے۔ ماں اپنے بچے کو نو ماہ تک تکلیف میں رکھتی ہے اور باپ اپنی اولاد کی پرورش کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ ان کی قربانیوں کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے اسلام نے والدین کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ والدین کی رضا میں اللہ کی رضا ہے اور والدین کی ناراضی میں اللہ کی ناراضی ہے۔ یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جو شخص والدین کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کو راضی کرتا ہے۔ والدین کی دعا اولاد کے حق میں بہت جلد قبول ہوتی ہے۔
والدین کی خدمت کرنے والا دنیا میں بھی عزت پاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کے لیے اجر عظیم ہے۔ جو اولاد والدین کے سامنے عاجزی اختیار کرتی ہے، نرم لہجے میں بات کرتی ہے اور ان کے حکم کو خوش دلی سے مانتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے رزق اور عمر میں برکت عطا فرماتا ہے۔
قرآنِ کریم میں یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ والدین کے سامنے "اف" تک نہ کہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی سی بدتمیزی بھی اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ خاص طور پر بڑھاپے میں والدین کی خدمت کرنا بہت بڑی سعادت ہے۔
آج کے دور میں بہت سے لوگ والدین کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم والدین کی قدر کریں، ان کی بات غور سے سنیں اور ان کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اطاعتِ والدین کامیابی کی کنجی ہے۔ جو شخص والدین کا فرمانبردار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے تمام کام آسان فرما دیتا ہے۔ ہمیں ہر حال میں والدین کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہم دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں۔
اللہ تعالی ہم سب کو اپنے والدین کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین
مفتی صادق امین قاسمی