افکارِ ولی" : علم و عمل کا شاہکار"
✍: جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدرالاسلام بیگوسرائے، بہار
زمانۂ حال کی فکری آندھیوں میں اگر کہیں فکر و عمل کا چراغ فروزاں نظر آتا ہے تو وہ انہی نفوسِ قدسیہ کی یادگار تحریروں اور تقریروں میں ہے جنہوں نے حیاتِ انسانی کو علم کی روشنی اور کردار کی حرارت سے منور کیا۔ “افکارِ ولی” اسی زمرے کی ایک باوقار، دل آویز اور روح پرور تصنیف ہے جو فکرِ سلیم، بصیرتِ ایمانی اور حکمتِ ربانی کی خوشبو سے معطر ہے۔
13 دسمبر 2025 کو قدیم علمی و دینی مرکز مدرسہ بدرالاسلام، بیگوسرائے میں، بعدِ ملاقات معہد عائشہ الصدیقہ خاتوپور، بیگوسرائے کے بانی و ناظم، جمعیۃ علماء بیگوسرائے کے نائب صدر، "بڑی ہے داستاں ان کی" کے خالق، لسان و قلم کے ساحر، ادیبِ اریب، حبیبِ لبیب کالذبیب—محترم مفتی عین الحق امینی قاسمی زید مجدہ نے اپنی تازہ تصنیفی کاوش "افکارِ ولی" سے بصد خلوص و محبت نوازا۔ یہ کتاب راقمِ سطور کے لئے علم و عمل کے باب میں ایک ثمین، حسین اور یادگار تحفہ ہے۔
“افکارِ ولی” ہندوستان کے صفِ اوّل کے رہنماؤں میں سے ایک، اپنے عہد کے صاحبِ مسند، خانقاہِ رحمانی کے چوتھے سجادہ نشیں، علمی و عملی دونوں اعتبار سے اپنے والدِ بزرگوار اور دادا جان کے سچے جانشین، مردِ خود آگاہ و خدا آگاہ، امیرِ شریعت سابع مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب نور اللہ مرقدہ و برد مضجعہ کے افکار و کردار، احوال و آثار، خدمات و تحریکات جیسے متنوع اور ہمہ گیر پہلوؤں پر مشتمل 13 بابصیرت مضامین کا ایسا نفیس مجموعہ ہے، جو مثلِ دریا بہ کوزہ، عقیدت و محبت کے اشکوں سے تر ہو کر صفحۂ قرطاس پر بکھر گیا ہے۔ ان مضامین میں حضرتؒ کی فکری بصیرت، علمی گیرائی، روحانی رفعت، ملی تدبیر اور سیاسی حکمت کی روشن جھلکیاں جلوہ گر ہیں۔ ہر مضمون فکر کا ایک نیا دریچہ وا کرتا ہے اور ہر سطر عمل کے کسی نہ کسی گوشے میں روشنی کی لکیر کھینچ دیتی ہے۔
ان مفید، قابل قدر اور بیش قیمت افکار و اولیات کو رشکِ اہلِ قلم محترم مفتی عین الحق امینی قاسمی صاحب نے بڑی خوش اسلوبی، حسنِ ترتیب اور فکری سلیقے کے ساتھ کتابی شکل میں ڈھال کر با ذوق قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس علمی کاوش اور عمدہ اشاعت پر مفتی صاحب کو صمیمِ قلب سے مبارکباد نیز اپنے دستِ مبارک سے بصد خلوص و محبت نوازنے پر تشکرِ بسیار۔
راقم کو سولہ آنے یقین ہے کہ حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ کے افکار و نظریات کی گیرائی کے متلاشی اربابِ علم اور اصحابِ نظر کے علمی سفر میں یہ کتاب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
مفتی صاحب نے عرق ریزی اور جاں فشانی سے اس تصنیف کو سجایا سنوارا ہے؛ اس میں علم و عمل اور حکمت و کردار کے درخشاں موتی جڑے ہیں۔ اور مفکرِ اسلامؒ کے چند تشنۂ تعبیر خوابوں کی نشان دہی بھی کی گئی ہے، اس امید کے ساتھ کہ حضرتؒ کے افکار و اولیات سے روشنی پا کر ان کے ذہن و فکر سے ہم آہنگ افرادِ ملت اپنے اپنے دائرۂ کار میں اپنی سطح سے ان خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی سعی مشکور کریں گے۔
دعا ہے کہ “افکارِ ولی” علم و آگہی کا مینارۂ نور اور کاروان عمل کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو، قبولِ عام و خاص کا حاصل کرے اور اس کے ذریعے فکرِ ولیؒ کی کرنیں دور دور تک پھیلیں۔ ربِ کریم کی بارگاہ میں یہی آرزو، یہی دعا اور یہی التجا ہے۔