🌟 سلف_کے_سنہری_اقوال  5*

*سلف کے نزدیک حلال تجارت ،حلال رزق کی وقعت*

*ابو وائلؒ فرماتے ہیں:*

“تجارت سے کمایا ہوا ایک درہم، دس عطیوں سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔”
💰❤️

*حضرت سعید بن مسیبؒ فرماتے تھے:*
“جو شخص مسجد میں بیٹھا رہے، پیشہ چھوڑ دے، اور جو آئے اسے قبول کرتا رہے،
تو گویا اس نے سوال میں حد سے تجاوز کیا۔”


حضرت سعید بن مسیبؒ کہتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ بحرِ روم میں تجارت کرتے تھے،
ان میں طلحہ بن عبید اللہؓ اور سعید بن زیدؓ بھی شامل تھے۔
🌊🚢

(ایک شخص) نے حضرت ابن مبارکؒ سے پوچھا:
“کیا سمندر میں تجارت کروں؟”
فرمایا:
“خشکی اور سمندر دونوں میں تجارت کرو، اور لوگوں سے بے نیاز رہو۔”
🌍🤲

*حضرت ابن دینارؒ فرماتے ہیں:*

“جب تم میں سے کسی کو کسی خاص تجارت کے طریقے میں رزق ملے،
تو اسی کو اختیار کر لے۔”
📈🧠

*حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:*

“اگر تم میں سے کسی کو اپنے شہر میں رزق نہ ملے،
تو کسی اور شہر میں جا کر تجارت کرے۔”
🧳🏙️

*📘إصلاح المال ،از ابن ابی الدنیا، ص 76*

*🌟 خلاصۂ سبق 🌟*

اسلام ہمیں عبادت کے ساتھ ساتھ محنت، تجارت، خودداری اور لوگوں سے بے نیازی کی تعلیم دیتا ہے۔
حلال کمائی عزت بھی ہے، برکت بھی، اور دین کی حفاظت بھی۔