(18)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

(بقلم محمودالباری) 

----------------------

؛ مجبور نہیں مضبوط بنو؛

_________________

الحمد للہ رب العالمین، جس نے ہمیں زندگی دی، مشکلات میں صبر کی طاقت دی، اور ہر تنگی میں آسانی کا وعدہ دیا۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پر، جو ہمیں حوصلہ، استقامت اور اللہ پر بھروسے کا درس دے کر اس دنیا میں مشعلِ راہ بنے۔

انسانی زندگی میں مشکلات، پریشانیاں، امتحانات اور ناکامی کے لمحات آنا فطری بات ہے۔ ہر انسان کو کسی نہ کسی مرحلے پر احساس ہوتا ہے کہ وہ کمزور ہے، اس کی طاقت ختم ہو رہی ہے، حالات اس پر حاوی ہیں اور اس کا دل مایوسی سے بھر گیا ہے۔ ناکامی؛ دکھ؛ تنہائی؛ اور الجھن کا سامنا کرتا ہے؛ کئی بار دل کمزور ہوجاتا ہے؛ امّید ختم ہونے لگتی ہے؛ اور انسان خود کو مجبور؛ بےبس اور بے سہارا محسوس کرنے لگتا ہے؛ لیکن دین اسلام ہمیں یہی نہیں سکھاتا کہ ہم حالات کے سامنے ہار جائیں، بلکہ ہمیں یہ نصیحت دیتا ہے کہ ہم مایوسی کو چھوڑیں، خود کو مضبوط بنائیں، 

 اسلام ہمیں کمزوری سے نہیں بلکہ طاقت سے روشناس کراتا ہے، مایوسی سے نہیں بلکہ امید سے جُڑنے کا درس دیتا ہے۔

اللہ رب العزت قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

> "وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ"

(آل عمران: 139)

یعنی، اے مومنو! کمزور نہ بنو، غمگین نہ ہو، تم غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ کیا یہ پیغام نہیں کہ ہمارا ایمان ہمیں طاقت دیتا ہے؟ کمزوری کا خاتمہ اور مضبوطی کا آغاز ایمان سے ہوتا ہے!

اسی طرح اللہ فرماتے ہیں:

> "إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا"

(الشرح: 5-6)

یہ دو بار دہرا کر اللہ نے ہمارے دل میں امید بٹھائی ہے کہ ہر سختی کے ساتھ آسانی ہے، ہر اندھیری رات کے بعد صبح ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف وفي كل خير احرص على ما ينفعك واستعن بالله ولا تعجز"

(صحیح مسلم)

یعنی، طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کو زیادہ پسند ہے، اور ہر حالت میں خیر ہے۔ جو فائدہ دے اس کی تلاش کرو، اللہ سے مدد لو اور بے بس نہ بنو!

یہی ہے اصل سبق—دعا، صبر اور کوشش کے ذریعے اپنی طاقت کو بڑھانا، مشکلات سے نہ گھبرانا، اور ہر دن کو اللہ کی رضا کے ساتھ گزارنا۔

جب پریشانی چھا جائے، تو دل کو مضبوط بنانے کے لیے اللہ کی پناہ کا سہارا لیں:

حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ – “ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔”

اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الصَّابِرِينَ – “اے اللہ! مجھے صبر کرنے والوں میں شامل فرما۔”

اللَّهُمَّ لاَ سَهْلَ إِلاَّ مَا جَعَلْتَهُ سَهْلاً – “اے اللہ! کوئی چیز آسان نہیں مگر جو آپ آسان بنائیں۔”

رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ – “اے پروردگار! مجھے یاد، شکر اور عبادت میں مدد دے۔”

یہ دعائیں دل کی بے چینی کو سکون میں، خوف کو یقین میں، اور مایوسی کو امید میں بدل دیتی ہیں۔

امیرالمومنین سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"لا تجعل الهم يأخذك، فإن الهم يميت القلب"

یعنی غم کو اپنے دل پر حاوی نہ کرو، یہ دل کو مارتا ہے۔

 شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"اعلم أن قوتك في صبرك وعزمك"

یعنی اپنی طاقت کو صبر اور عزم میں تلاش کرو۔

 وینسٹن چرچل کا قول بھی دل کو جگاتا ہے:

"Success is not final, failure is not fatal: it is the courage to continue that counts."

کامیابی آخری منزل نہیں اور ناکامی تباہ کن نہیں، اصل بات ہمت کو قائم رکھنا ہے۔

 ڈیل کارنیگی فرماتے ہیں:

"Do not be afraid of difficulties, for they are the stepping stones to success."

مشکلیں کامیابی کی سیڑھیاں ہیں، ان سے خوف نہ کھاؤ!

1. نماز کو معمول بنائیں – روزانہ پانچ وقت کی نماز آپ کے دل کو سکون دے گی اور حوصلے کو بڑھائے گی۔

2. دعا کو روزمرہ کا حصہ بنائیں – صبح، شام اور پریشانی کے وقت اللہ سے مدد مانگیں۔

3. چھوٹے اہداف مقرر کریں – دن کو ایک مقصد دیں اور اسے پورا کرنے کی کوشش کریں۔

4. مثبت گفتگو اپنائیں – خود کو یہ کہیں: “میں اللہ کا بندہ ہوں، وہ میرے ساتھ ہے، میں کامیاب ہوں گا!”

5. تنقید سے بچیں – ناکامی کے بعد خود کو کوسنے کی بجائے سیکھنے کے موقع کو قبول کریں۔

6. صحت کا خیال رکھیں – نیند، غذا اور ورزش کو اپنی مضبوطی کا حصہ بنائیں۔

7. صحبت کا انتخاب کریں – نیک، باحوصلہ، دین دار لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں۔

8. دوسروں کی مدد کریں – خدمت انسان کو مضبوط بناتی ہے، دل کو سکون اور روح کو راحت دیتی ہے۔

9. تجربات کو سبق بنائیں – ہر مشکل میں نیا درس تلاش کریں۔

✅ جب آپ خود کو کمزور محسوس کریں تو فوراً دعا کریں اور اس آیت کو دہراتے رہیں:

"فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا"

, جب کوئی آپ کی کامیابی کو نظرانداز کرے تو یاد رکھیں کہ اللہ ہر حالت میں آپ کا مددگار ہے۔

, جب ناکامی ہو تو خود سے یہ کہیں: “یہ امتحان مجھے مضبوط بنا رہا ہے، مجھے ہمت نہیں ہارنی!”

. ہر دن ایک نئی امید کا موقع ہے، اسے ضائع نہ کریں۔

. زندگی کا مقصد پریشانیوں سے بھاگنا, نہیں بلکہ ان کا سامنا کرنا ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو کمزور، مجبور اور بے بس سمجھیں گے تو مشکلات ہمیں نیچے گرا دیں گی، لیکن اگر ہم خود کو مضبوط، باحوصلہ اور اللہ پر بھروسہ کرنے والا سمجھیں گے تو مشکلات ہمیں نئی بلندیوں تک لے جائیں گی۔

     یاد رکھیں:

. طاقت جسمانی نہیں، ارادے کی ہوتی ہے

. مشکلات کا سامنا انسان کو نکھارتا ہے

 اللہ کی مدد ہمیشہ ان کے ساتھ ہے جو ہمت نہیں ہارتے

✔ ہم پریشانیوں کا سامنا کریں گے، ان سے بھاگیں گے نہیں

✔ ہم اپنی دعاؤں کو اپنی طاقت بنائیں گے

✔ ہم صبر اور عمل سے اپنے مقصد کو حاصل کریں گے

✔ ہم مایوسی کو اپنی زندگی میں جگہ نہیں دیں گے

✔ ہم اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے ہر مشکل کو عبور کریں گے

✔ ہم خود کو مضبوط بنائیں گے تاکہ دوسروں کی بھی مدد کر سکیں

  مجبوری ایک حال ہے، مضبوطی ایک انتخاب۔ مشکلات آتی رہیں گی لیکن جو اپنے ایمان، صبر، دعا اور عمل سے خود کو مضبوط بناتا ہے وہ زندگی کی آزمائشوں کو عبور کر کے کامیابی حاصل کرتا ہے۔

لہٰذا، اپنے دل سے یہ بات نکال دیں کہ "میں مجبور ہوں"، اور اس کی جگہ یہ پیغام بٹھائیں کہ "میں مضبوط بنوں گا، اللہ میری مدد کرے گا، اور میں ہر مشکل کو عبور کر سکتا ہوں"۔

اے اللہ! ہمیں وہ حوصلہ دے جس سے ہم مایوسی میں نہ گریں، وہ صبر دے جس سے ہم مشکلات کا سامنا کر سکیں، وہ عزم دے جس سے ہم اپنی منزل تک پہنچیں، اور وہ نور دے جس سے ہمارے دل روشن ہوں۔ ہمیں اپنے وعدے کی یاد دلا اور ہر امتحان میں اپنی مدد سے نواز.. 

آمین یا رب العالمین۔

mahmoodulbari342@gmail.com