میانجی۔۔۔(دوسری قسط)
✍🏼۔محمد شعیب مالیری ۔
اتوار کی صبح تھی۔ آفتاب پوری آب
وتاب کے ساتھ رات کے پردے سے طلوع ہو رہا تھا ۔ جیسے کسی نئی چیز کے ہونے کی خبر دے رہا ہو . پرندوں کی چہکار فضا کو خوشگوا ربنا رہی تھی ..۔ننھی کلیوں کو شبنم دل
01 جنوری، 2026
اتوار کی صبح تھی۔ آفتاب پوری آب
وتاب کے ساتھ رات کے پردے سے طلوع ہو رہا تھا ۔ جیسے کسی نئی چیز کے ہونے کی خبر دے رہا ہو . پرندوں کی چہکار فضا کو خوشگوا ربنا رہی تھی ..۔ننھی کلیوں کو شبنم دلکش انداز میں وضو کرا رہی تھی۔بلبل بھی آج کچھ نیا ہی راگ الاپ رہی تھی۔کنگنوال سے مالیر کوٹلہ تک کاراستہ کچھ اس طرح سجا ہوا تھا گویا کہ مدتوں بعد اسے کسی کے استقبال کا موقع ملا ہو . سبک خرام بادصبا دل کو فرحت وانبساط سے سرشارکررہی تھی اور پرندے اپنے آشیانوں اور گھونسلوں سے نکل کر دانے دنکے چگنے کے لئے آسمان پر پرواز کر رہے تھے ..اس بہشتی ماحول میں میانجی اپنے7سال کےلخت جگر ( والد محترم)کو سائیکل پر بٹھا کر مدرسہ چھوڑنے جارہے تھے .. میانجی کی آنکھوں میں نمی اس درد کو بیان کر رہی تھی جو ہر ایک باپ کو اس وقت ہوتا ہے جب اس کی معصوم اولاد اس سے دور ہو رہی ہوتی ہے . لیکن جب چہره اس لخت جگر کی طرف ہوتا تو یہی نمی ایک دل آویز تبسم میں بدل جاتی تھی ..اور نصیحتوں کا دور شروع ہوجاتا تھا ...
مسافت کٹ رہی تھی___
جوں جوں منزل قریب آتی جا رہی تھی میاں جی کا دل اس معصوم کے فراق میں نڈھال ہوتا جارہا تھا .. لیکن یہ سب تھا کس لئے؟ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے میاں جی کو اتنا جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا ؟ تو جواب یہی ہے کہ اپنی اور آنے والی نسل کی فکر آخرت!! یہی وہ فکر ہوتی ہے کہ جب کسی کے اندر یہ جاگتی ہے تو اس کو چارسو قدرت خداوندی کے جلولے نظر آتے ہیں. یہ فکر اک ایسی آگ ہوتی ہے جو اپنے علاوہ تمام دنیاوی فکروں کو کھا جاتی ہے ... میاں جی کے شام و سحر اسی فکر میں گزرنے لگے تھے تھے . وہ شخص جو ایک بچے کے دیر رات گھر آنے سے تڑپ اٹھتا ہو آخر کس طرح اپنے نور نظر کو اپنے سے عليحده کرنے کے واسطے تیار ہو گیا تھا ؟ غورو فکر اسی نتیجے پر آکر ٹھہر جاتی ہے جس کو میں ذکر کر آیا ہوں کہ فکر آخرت نے انہیں جھنجھوڑ دیا تھا .. اور اسی فکر میں اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنے نورچشم کو اپنے سے دور کرنے جا رہے تھے .مدرسہ قریب آگیا تھا .سائیکل کی رفتار دھیمی ہونے لگی تھی۔میاں جی کی نصیحتوں کا سلسلہ بھی ختم ہونے والا تھا چنانچہ آخری نصیحت کرتے ہوئےانہوں نے کہا۔
بیٹا میرا تمہیں اپنے سے دور کرنے کا اور اس چار دیواری کے سپرد کرنے کا واحد اور بنیادی مقصد اللہ اور اس کے رسول کی رضا ہے ۔اور یہ ایک ایسا مرکزی مقصد ہے جس کی طرف تمام دنیاوی و دینوی مقاصد آکر جمع ہوتے ہیں۔میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمارے اس مقصد کو عملی جامہ پہنائے۔
بچے نے دھیمی اواز سے آمین کہا۔۔
میاں جی نے سائیکل کو روکتے ہوئے کہا کہ بیٹا رہائشی سامان وغیرہ کا جائزہ لے لو کچھ رہ تو نہیں گیا؟اب سائیکل رک چکی تھی۔
باقی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔