یاد رہے ستم کا آخری نشاں ہم ہوں گے
----------------------------------------
گل رضا راہی ارریاوی ✍🏻
زمیں سے بے نام و نشان تو سب ہوں گے
پریادرہے ستم کا آخری نشاں ہم ہوں گے
آج جس طریقے سے پورے عالم میں ملت اسلامیہ زوال پذیر ہے وہ آفتاب کی طرح واضح و عیاں اور ظاہر ہے، پوری دنیا میں ملت اسلامیہ اور اسکے پس پردہ یعنی بینرتلے مسلمانوں کی نسل کشی ہورہی ہے،وہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے-
پوری دنیا میں مسلمان ظالموں کے شکنجے میں محبوس اور اور مقیدہے،کئی ہزار جانیں ہر روز جان آفریں کے سپرد ہوتی ہیں،کئی ہزار مسلمان سلاخوں کے اندر اپنی تباہی کے دن گن رہے ہیں ، یہ ساری چیزیں ہمارے ساتھ اسلیے پیش آرہے ہیں کیوں کہ ہم وہن یعنی بزدلی کا شکار ہے اور اسکی وجہ ہماری عیش کوشی راحت طلبی ہے،مسلم تخت نشیں لوگ اپنی تخت حکمرانی کے ڈر سے اور صاحب ثروت مسلمان عیاشی کے خاطر اپنی زندگی کو محفوظ رکھنے میں لگے ہیں-
یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ :ایک وقت آۓ گا جب تم پر دشمن ایسے ٹوٹ پڑیں گے جیسے بھوکےلوگ برتن پہ ٹوٹ پڑتے ہیں،
صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اس وقت کم ہوں گے یعنی ہماری تعداد کم ہوگی ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ وہ تم سے زیادہ تعداد میں ہونے کی باوجود پانی کے جھانک کے مانند ہوں گے جس کو پانی بہالے جاتاہے،صحابہ نے عرض کیا کہ ایسا کیوں ہوگا تو آپ نے فرمایا کہ امت وہن یعنی بزدلی کا شکار ہوگی -
آج ہم بزدل ہوگیے ہیں جس کی بنیاد پر ظالم آج ایک ایسی قوم کو آنکھیں دکھارہاہے جس کا ماضی تابناک ورشن تھی،جس کے اسلاف شجاعت و بسالت کے امین وپاسبان تھے،ہمت وجواں مردی جس کے گھر کی لونڈی تھی ،شمشیرزنی ،نیزہ بازی ،تیر اندازی ،گھوڑ سواری جس کا بہترین مشغلہ تھا،موت سے بے باکی اس قدر تھی کہ علم اسلام کی بلندی کےلیے کبھی بھی دشمنوں کےمقابلہ آرائی سے پیچھے نہیں ہٹے ،ساری دنیا جس کے عزیمتوں کا قائل و معترف تھی ،موت کو گلے لگانے میں جس نے کبھی بھی ایک لمحہ کےلیے نہیں سوچا ،موت جس کے زندگی کی حفاظت کرتی تھی، جس کا نام سن کر دشمنوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے آج اس کی نسلیں امن وسکون اور زندگی کی بھیک مانگ رہی ہے ،
سوچوتو سہی یہ سب تمہارے اسلاف تھے ،تمہارے روحانی آباؤ اجداد تھے -
آج تم روتے بلکتے ہو،ہردن خوف کے ساۓ میں گزار رہے ہو،قدم بہ قدم تمہارے سروں پر خطرہ منڈلا رہا ہے ،بم بارود کی آوازیں تمہیں دھمکارہی ہے،شیطانی نعرے اور علم تمہارے معبدوں ،درسگاہوں اور شاہراہوں پہ لگاۓ جارہے ہیں ،
تمہارے آباؤاجداد کی وراثتیں جو انہوں نے بنام خدا کرگیے آج اصنام پرست مقتدر لوگ خود کی ملکیت بناکر من مانی تصرفات کرنا چاہتےہیں-
ہردن ایک نئی داستان اور ایک نیا واقعہ تمہارے ساتھ پیش آتاہے جو ملت اسلامیہ کے دلوں کو جھنجھورکر رکھ دیتاہے،
آج ہم کئی ملی وسماجی مسائل کا شکار ہیں ،کچھ زہر آلود ہنو یہود ہمارے خلاف منظم سازشیں کررہے ہیں -
منصوبہ بندی اور بڑے شاطر انداز میں ہمارے وجود کو عدم میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں
حیرت و استعجاب اوربڑے دکھ کی بات ہے کہ ہمارے قوم کے ضمیر فروش، درباری لوگ عہدوں اور مناصب کے حرص و طمع کی خاطر حکام وزراء کے تلوے چاٹنے اور جوتے سیدھے کرنے میں مصروف العمل ہیں -
ہمارےاہل خانہ برادر وخواہر مادر وپدر میں جہالت اس قدر ہے کہ وہ دشمن کو دوست ،زہر کو تریاق ،اورقاتل کو محافظ سمجھ رہےہیں-
کم سے کم ہمارے گھروں میں ہر ایک فرد کواتنی موٹی بات واضح طور سمجھ آنی چاہیے کہ کون ہمارے حق میں بہتر اورکون بدتر ہے، اور ملت کے باشعور لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بے شعوروں کو آگہی دیں اور انہیں ضروری باتیں سمجھانا اور بتلانا ہمارا ایمانی فریضہ ہے ،
لہذا اپنے گھر کے افراد خصوصاً اپنی ماؤں ،بہنوں کو ان بدخواہ لوگوں سے بچاۓ اور ان کےدام فریب کے شکار ہونے سے بچائیں -
اگر ہم نے اپنے خوف ووحشت اور بزدلی کو دور نہ کیا ،اور عیش کوشی کو نہ چھوڑا ،ایمانی جذبات کو نہ جگایا ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وصحابۂ کرام کےطرز زندگی کو نہ اپنایا تو سن لو!
زمیں سے بےنام ونشاں تو سب ہوں گے
پریاد رہےستم کا آخری نشاں ہم ہوں گے
اللہ امت مسلمہ کو بیدار مغزی عطا فرمائے آمین