(17)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

(بقلم محمودالباری) 

----------------------

علم کی خدمت میں صبر، حسن نیت اور مثبت رویے کی اہمیت"

_________________

محترم قارئین اور عزیز ساتھیو؛ 

جب آپ کسی اہم موضوع پر تحقیق، مقالہ یا مضمون لکھتے ہیں، تو اس میں آپ کی محنت، سوچ، تجربہ اور نیک نیت شامل ہوتی ہے۔ آپ کا مقصد علم کو آگے بڑھانا، مسائل کا حل پیش کرنا یا لوگوں کی رہنمائی کرنا ہوتا ہے۔ لیکن بعض افراد، جو دوسروں کی کامیابی یا اثر کو برداشت نہیں کر پاتے، یا جو اپنی خود غرضی میں پھنسے ہوتے ہیں، وہ اس نیک کام کو نقصان پہنچانے کے لئے منفی رویہ اپناتے ہیں۔

 اگر آپ انہیں ایک بات کہیں تو وہ دو باتیں کر کے واپس کہیں گے۔ ہر جگہ عیب تلاش کرینگے ، خاص طور پر وہاں جہاں ان کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ آپ کا مضمون کسی بھی عنوان پر ہو، اگر اس میں ان کے کسی بدعمل یا مفاد کو چھو لیا گیا تو وہ اسے اپنے فائدے میں ۔

آپ کے مضمون کی وقعت کو کم کرنے کے لیے درج ذیل طریقے اپنائینگے :

1. تھوڑی سی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا 

آپ نے اگر ایک مسئلہ بیان کیا تو اسے توڑ مروڑ کر اس طرح شیئر کرینگے ہیں جیسے آپ کسی شخص یا گروہ کی مخالفت کر رہے ہوں۔

2. غلط نکتہ نظر پیش کرنا:

اصل مضمون میں علم و خدمت کی بات ہو تو وہ اسے ذاتی مفاد یا اپنی سیاسی سوچ کے زاویے سے پیش کرینگے تاکہ لوگوں کو آپ کے پیغام سے دور کیا جا سکے۔

3. غیروں کو متاثر کرنا:

وہ ایسے جملے یا اقتباسات شیئر کرتے ہیں جو آپ کی بات کو غلط یا کمزور ظاہر کریں تاکہ لوگ آپ پر اعتماد کم کریں اور آپ کی کوشش کی قدر نہ کریں۔

4. عوامی سطح پر الجھن پیدا کرنا:

وہ اس مضمون کو ایسی جگہوں پر پھیلاتے ہیں جہاں لوگ اصل مضمون کو مکمل پڑھنے کے بجائے آدھا ادھورا پڑھ کر غلط سمجھ سے اس کی اہمیت کو کم کر دیں۔

5. ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا:

بعض اوقات وہ آپ کے مواد کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ آپ کی محنت سے فائدہ اٹھائیں، لیکن آپ کا نام یا آپ کا مقصد سامنے نہ آئے۔

اس کا نقصان یہ ہوتا ہےکہ 

علمی کام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

لوگوں میں الجھن پیدا ہوتی ہے اور صحیح بات سمجھنے سے رہ جاتے ہیں۔

خدمت کے جذبے میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔

لوگ نیک نیت سے کام کرنے سے گھبراتے ہیں۔

معاشرت میں باہمی اعتماد کمزور ہو جاتا ہے ۔

اس لیئے آپ کو میرا مشورہ ہے 

1. صبر اور تحمل سے کام لیں 

جب کوئی آپ کی بات کو غلط انداز میں پیش کرے تو فوراً ردعمل دینے کے بجائے صبر سے کام لیں اور حقائق کے ساتھ وضاحت کریں۔

2. حسن نیت کو برقرار رکھیں:

دوسروں کی غلط فہمی کا جواب نیک نیتی اور علم کی روشنی سے دیں، تاکہ آپ کا مقصد صاف رہے۔

3. مددگار حلقے بنائیں:

اپنے علم کی حمایت کرنے والے لوگوں کو ساتھ لے کر ایک ایسا حلقہ بنائیں جو مثبت سوچ کو فروغ دے اور منفی باتوں کا مؤثر جواب دے۔

4. علم کو آگے بڑھائیں:

آپ کے مقالے یا مضمون کی اصلیت، مستند حوالوں، قرآن و حدیث کی روشنی، اور تحقیق کے ذریعے اپنی بات کو مضبوط کریں تاکہ غلط بیانی کے اثرات کم ہوں۔

5. دعا اور روحانی سکون کا سہارا لیں:

اللہ سے دعا کریں کہ آپ کو ثابت قدمی عطا فرمائے اور آپ کے علم کو لوگوں کے فائدے کے لیے قبول کرے۔

اللہ عزوجل فرماتے ہیں 

> وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ

یعنی نیکی اور برائی برابر نہیں، برائی کا جواب نیکی سے دو۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت

یعنی جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ یا تو اچھا کلام کرے یا خاموش رہے۔

یہ تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ دوسروں کی منفی باتوں کا جواب صبر، حکمت اور حسن سلوک سے دیا جائے، نہ کہ ناراضگی یا غصے سے۔

     ؛ خلاصہ؛ 

آپ کا مضمون کسی بھی موضوع پر ہو، اس میں آپ کا جذبہ، محنت اور نیک نیت شامل ہوتی ہے آپ مفاد پرست لوگوں سے مایوس نہ ہوں آپ قرآن کی تعلیمات، صبر، حسن نیت، مثبت تعاون کے ساتھ؛ علم کی روشنی کو عام کرنے میں اپنا شغل جاری رکھیں ۔

علم کی خدمت ایک عظیم عبادت ہے، 

منفی رویے کے باوجود علم کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔

آپ کا مقصد اگر نیک ہو تو اللہ آپ کے ساتھ ہے، اور علم کی خدمت کرنے والوں کا اجر بہت عظیم ہے۔

اللّٰہ ہمیں ثابت قدمی، حسن نیت اور علم کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے۔ اللهم اجعلنا من المتسامحين، واجعل قلوبنا نظيفة من الحسد والعداوة، ووفقنا لعمل الخير والصلح فيما بين الناس۔ آمین۔

 mahmoodulbari342@gmail.com