*ایک اور اینٹ گر گئی دیوار حیات سے نادان کہ رہے ہیں نیا سال مبارک*
٢٠٢٥ ہماری زندگی کی عمارت سے ایک اور اینٹ خاموشی سے نکال کر لے گیا، اور ہم ہیں کہ مسکراتے چہروں کے ساتھ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے ہیں، وقت کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ وہ شور نہیں مچاتا، اعلان نہیں کرتا، بس چپ چاپ آتا ہے اور جو اس کا ہوتا ہے، لے کر چلا جاتا ہے اور انسان؟ انسان اس خاموش لوٹ مار کو روشنیوں، آتش بازی اور نعروں کے ساتھ جشن میں بدل دیتا ہے،زندگی کی کتاب کا ایک اور باب بند ہونے کو ہے، ایک اور صفحہ پلٹنے والا ہے، مگر ہمیں احساس تک نہیں، زمانہ پلک جھپکتے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے، سورج طلوع ہوتا ہے، دوپہر آتی ہے، شام ڈھلتی ہے، رات کی سیاہی گہری ہوتی ہے، پھر سپیدۂ سحر نمودار ہو جاتی ہے، یوں لگتا ہے جیسے وقت ٹھہر گیا ہو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وقت نہیں رکا ہم رک گئے ہیں، اور وقت ہمیں روندتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے:
رازِ ہستی کی یہاں کس کو خبر ہوتی ہے
زیست اک سلسلۂ شام و سحر ہوتی ہے۔
کہنے کو ایک مہینہ بھی بہت ہوتا ہے، مگر حقیقت میں قرن اور صدیاں بھی ہنگاموں کے غبار میں یوں ہی تحلیل ہو جاتی ہیں، لمحہ لمحہ ہمیں فنا سے قریب تر کر رہا ہے، یہی سانس جو بظاہر زندگی کی علامت ہے، دراصل موت کی طرف بڑھتے قدموں کی گواہی ہے،سالگرہوں کے چراغ، نئے سال کے جشن، اور مبارک بادوں کا شور سب اجل کے دروازے پر پڑنے والی دستکیں ہیں، مگر انسان نشۂ غفلت میں مدہوش ہے۔
آدمی نشۂ غفلت میں بھلا دیتا ہے
ورنہ ہر سانس ہے پیغامِ فنا دیتا ہے۔
وقت انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے،یہی وقت کسی کو خاک سے اٹھا کر افلاک تک پہنچا دیتا ہے، اور یہی لمحوں کی کوتاہی انسان کو عروج سے زوال کی گہرائیوں میں گرا دیتی ہے،تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے وقت کی قدر کی، وہ صدیوں پر محیط اثر چھوڑ گئے، اور جنہوں نے اسے کھیل سمجھا، وہ خود تاریخ کے حاشیے میں بھی جگہ نہ پا سکے،وقت نہ دوست ہے، نہ دشمن وہ تو بس آئینہ ہے، جو انسان کو اس کا اصل چہرہ دکھا دیتا ہے، اور کھلا چیلینج کرتا ہے اگر آپ مجھے لایعنی میں استعمال کرو گے پھر اگلا وقت آنے پر میں تمہاری دھجیاں اڑا دوں گا،اور اگر مجھے افعال و تربیت میں مشغول کر دیا پھر میں آپکو ایسا پھل دے کر جاؤں گا جو جو قیامت تک تمہارے لیے مشعل راہ ہوگا،اور پھر ہر لمحہ انسان سے کچھ یوں مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے:
ہر گزرتا ہوا لمحہ یہ صدا دیتا
اے مایوس ادھر آ فکر کیا لیتا ہے
میں ہوں وقت بدل دیتا ہوں تقدیر زمانے کی
جو میری اوقات کو میرے اوقات سے ملا دیتا ہے۔
مومن کے لیے وقت سب سے قیمتی سب سے نایاب سرمایہ ہے،مگر افسوس کہ آج ہم اس نعمت کی ناقدری میں سبقت لے جا رہے ہیں، دن کے دن اور راتوں کی راتیں سوشل میڈیا کی نظر ہو جاتی ہیں نہ دنیا سنورتی ہے، نہ آخرت بنتی ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے *مجھے اس فارغ شخص سے نفرت ہے جو نہ دنیا کے کام کا ہے نہ آخرت کے* یہ جملہ آج کے انسان کے لیے آئینہ ہے، مگر ہم آئینہ دیکھنے کے بجائے اسے توڑ دینا چاہتے ہیں،میرے عزیز یاد رکھنا وقت کسی کی غلامی نہیں کرتا،وقت کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا آپ یہ کر لو،وقت محتاجی نہیں دیتا،بلکہ پروان کی اڑان پر بحث کرتا ہے،گزرا ایک لمحہ کبھی واپس نہیں آتا،وقت کے ساتھ کی گئی غداری مستقبل کے لیے ایک شرمناک المیہ نظر آتی ہے،وقت ایسا خاموش استاد ہے جسکی فصاحت و بلاغت زمانے پر مخفی نہیں۔
اب جبکہ ہم ٢٠٢٦ کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہیں، تو لازم ہے کہ خود سے ایک سنجیدہ سوال کریں، کیا یہ نیا سال محض کیلنڈر کی تبدیلی ہوگا، یا ہماری زندگی کے رخ کی تبدیلی کا اعلان؟ ربِ کریم نے ہمیں جو وقت، صلاحیتیں اور وسائل عطا کیے ہیں، اگر ہم نے انہیں یونہی ضائع کر دیا تو یہ خود اپنے ساتھ بدترین ناانصافی ہوگی،اور بہت لوگوں نے کرکے دیکھی اور کر رہے ہیں وقت کے ساتھ ناانصافی،اور پھر میں آپ سب اس کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں، کبھی درسگاہ میں بیٹھے ہوئے مدرس یہ ببانگ بلند کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کاش ہم نے اس وقت یہ کر لیا ہوتا کاش ہم اس وقت ایسا کر لیے ہوتے پھر ان کے پاس مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔آج آپ حضرات سے ایک سوال مجھے بتائیں اسلام نے نمازوں کو پانچ وقت پر کیوں تقسیم کیا؟آخر اللہ کے نبی ﷺ نے پانچ نمازوں کو پانچ الگ الگ وقت پر کیوں تقسیم کیا؟جہاں اسکی اور بھی بہت وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کہ ہم حضرات پڑھیں، وہیں اسکی ایک معقول وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں وقت کی قدر معلوم ہو،ہمیں وقت اہمیت معلوم ہو،باقی آپ ذی شعور ہیں خود سمجھ سکتے ہیں،اور آپ حضرات مزید تدبر و تفکر کیجیے گا،لیکن میں ایک یہودی جنرل کی ہسٹری پرھا تھا اس نے لکھا تھا آخر اسلام کے پیغمبر ﷺ نے پانچ وقت پر کیوں تقسیم کیا، ایسا بھی تو ہو سکتا تھا کہ ایک وقت میں پانچوں وقت کی نماز کو ادا کر لیا جاتا،لیکن نہیں پانچ وقت پر تقسیم کیا تب اس نے نتیجہ یہ نکالا کہ یہ ہم سے وقت کی قدر مطالبہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے تب اس نے اپنے کھانے پینے اور ہر ضرورت کے لیے وقت متعین کیا پھر وہ اپنے وقت کا وہ عظیم فلاسفر بنا،جس نے عزرائیل کو ایک مضبوط پلاٹ فارم پر کھڑا کیا،سوچنے کی بات یہ ہے کتنے اسلام کو ناآشنا لوگ اسلام سے مستفیض ہو رہے ہیں لیکن مسلمان پتہ نہیں کس نشے میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اللہ خیر فرمائےاور آج موبائل فون اور انٹرنیٹ ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، ان سے مکمل کنارہ کشی نہ ممکن ہے، نہ مطلوب مگر یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ یہی ذرائع ہماری تہذیب، اقدار اور ایمان پر حملے کا بڑا ہتھیار بن چکے ہیں، اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کیا ہم محض تماشائی اور شکار بنے رہیں، یا اسی میدان میں اتر کر حق کے مجاہد بن جائیں؟
علمائے دین، اساتذہ اور مربیوں پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے مثبت، تعمیری اور مقصدی استعمال کی طرف رہنمائی کریں، ہماری نئی نسل فلموں، ڈراموں اور فضول مشاغل میں عمر گنوانے کے بجائے علم، اخلاق، صحت اور دین سے جڑ جائے، یہی تیز ترین ذریعۂ ابلاغ اگر ہمارے ہاتھ میں آ جائے تو یہ محض وقت کا قاتل نہیں، بلکہ دعوت، اصلاح اور فکری جہاد کا مؤثر وسیلہ بن سکتا ہے، اسی کے ذریعے اسلام کے دشمنوں کا علمی مقابلہ بھی ہو سکتا ہے، مسلمانوں کی اصلاح بھی، اور غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام بھی۔
اے ربِ قدیر ہمیں وقت کی قدر کرنے والا، دینِ اسلام کا سچا خادم، حق کا بے باک داعی، علم و عمل کا پیکر، اور رسولِ اکرم ﷺ کا سچا عاشق بنا ہمیں غفلت کی نیند سے بیدار فرما، اور مجاہد، دعوت اور خدمتِ دین کی زندگی عطا کر خلوص، للّٰہیت اور استقامت کے ساتھ تادمِ مرگ تیرے دین کی خدمت کی توفیق دے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*