بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آج تاریخ نے سیاہ لباس پہنا
روحانیت کا امام اور مزاحمت کا ترجمان رخصت
30 دسمبر 2025ء
مطابق: 9 رجب المرجب 1447ھ
آج امتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسا دن ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ آج صرف دو شخصیات رخصت نہیں ہوئیں بلکہ امت نے اپنے دو عظیم محاذوں کے سپہ سالار کھو دیے۔ ایک طرف تصوف، اصلاح اور روحانیت کے میدان کے امام، حضرت مختار الدین شاہ صاحب رحمہ اللہ، اور دوسری طرف مزاحمت، جرأت اور استقامت کی علامت، صوتُ الجہاد ابو عبیدہ شہید۔
یہ دن امت کے لیے صرف غم کا نہیں بلکہ خسارے کا دن ہے۔ ایسا خسارہ جس کی تلافی برسوں میں بھی ممکن نہیں۔
مختار الدین شاہ صاحب رحمہ اللہ ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے دلوں کو جوڑا، نفرتوں کو مٹایا اور اللہ سے تعلق کو زندہ رکھا۔ وہ خانقاہ کے سادہ ماحول میں رہ کر امت کی فکری اور روحانی رہنمائی کرتے رہے۔ ان کی زبان سے نکلنے والا کلمہ دلوں پر اثر کرتا تھا، اور ان کی خاموشی بھی سبق بن جاتی تھی۔ اسی لیے اہلِ دل نے انہیں بجا طور پر مختارُ الاُمّہ کہا۔
دوسری جانب ابو عبیدہ شہید وہ آواز تھے جو ظلم کے اندھیروں میں چراغ بن کر روشن ہوئی۔ وہ صرف ایک فرد نہیں تھے بلکہ مظلوم فلسطینیوں ہی نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے جذبات کے ترجمان تھے۔ ان کی للکار میں خوف نہیں، یقین تھا؛ ان کے لہجے میں کمزوری نہیں، استقامت تھی۔ اسی لیے وہ صوتُ الجہاد کہلائے، ایک ایسی صدا جو دنیا کی طاقتوں کے لیے للکار بن گئی۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ امت کو آج بھی ان دونوں کی شدید ضرورت تھی۔ ایک دلوں کی اصلاح کے لیے، دوسرا باطل کے مقابل کھڑے رہنے کے لیے۔ مگر سنتِ الٰہی یہی ہے کہ اللہ اپنے خاص بندوں کو آزمائشوں کے بعد اپنے پاس بلا لیتا ہے، اور امت کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
آج خانقاہیں بھی سوگوار ہیں اور محاذ بھی خاموش ہیں۔ آج علم و روحانیت بھی اشکبار ہے اور جہاد و مزاحمت بھی۔ یہ دو جنازے نہیں، امت کے اعتماد، حوصلے اور سمت کی جدائی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ امت ان عظیم شخصیات کو صرف آنسوؤں میں یاد نہ کرے، بلکہ ان کے مشن کو زندہ رکھے۔ مختار الدین شاہ صاحب کی طرح دلوں کو جوڑنے والا بنے، اور ابو عبیدہ شہید کی طرح حق پر ڈٹ جانے والا۔
اللہ تعالیٰ ان دونوں عظیم شخصیات کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے، ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے، اور امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔
آمین۔
محمد اویس رسول