کیا قرآن انسانی کلام ہو سکتا ہے؟ _ ایک عقلی و سائنسی جائزہ. 
      مضمون (60)
بسم اللہ الرحمن الرحیم.؛ قرآنِ مجید کے بارے میں یہ سوال کہ آیا وہ واقعی اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے یا کسی انسان کی.
تصنیف، محض ایک اعتقادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عقلی،
سائنسی اور منطقی تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر قرآن انسانی ذہن کی پیداوار ہوتا، یا بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ کا اپنا تصنیفی کلام ہوتا، تو اس میں انسانی کمزوریاں، نفسیاتی اتار چڑھاؤ اور ذاتی رجحانات لازماً جھلکتے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ قرآن ان تمام بشری اثرات سے پاک، ایک ہی فکری بلندی، اسلوبی وقار اور معنوی یکسانیت کا حامل ہے۔ یہی چیز عقلِ سلیم کو اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ یہ کلام انسانی نہیں بلکہ وحیِ الٰہی ہے۔کیا قرآن اللہ کا ہی کلام ہے؟عقل، سائنس اور منطق کی روشنی میں ایک مدلل تجزیہ پیشِ نظر ہے.
(1) انسانی اتار چڑھاؤ اور قرآن کی یکسانیت ایک عقلی دلیل _انسانی زندگی میں کبھی خوشی ہوتی ہے، کبھی غم؛ جوانی میں جوش، بڑھاپے میں سنجیدگی؛ کامیابی میں اعتماد اور آزمائش میں کمزوری۔ یہ نفسیاتی کیفیات انسانی تحریروں میں لازماً جھلکتی ہیں۔ کوئی بھی مصنف عمر کے مختلف مراحل میں ایک ہی اسلوب، ایک ہی فکری سطح اور ایک ہی روحانی وزن برقرار نہیں رکھ سکتا۔
مگر قرآن:مکہ کی سختیوں میں بھی ویسا ہی ہے. مدینہ کی فتوحات میں بھی ویسا ہی ہے. ابتدائے وحی میں بھی اتنا ہی پُروقار ہے. آخری آیات میں بھی اتنا ہی متوازن اور بلند ہے. 
تئیس سال کے طویل عرصے میں نازل ہونے والا کلام اگر انسانی ہوتا تو اس میں اسلوبی تفاوت، فکری اتار چڑھاؤ اور جذباتی ناہمواری ضرور نظر آتی، مگر پورا قرآن ایک ہی ربانی وقار کا آئینہ ہے۔قرآن خود اعلان کرتا ہے:
﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا﴾
(النساء: 82) ؛بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کے (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے. 
چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود نہ کوئی حقیقی تضاد سامنے آیا اور نہ کوئی علمی تصادم مستقل ثابت ہوا۔عقل کہتی ہے: یہ انسانی کلام نہیں ہو سکتا۔
(2) قرآن اور حدیث کا فرق _ ایک منطقی شہادت
اگر قرآن رسول اللہ ﷺ کا اپنا کلام ہوتا تو قرآن اور حدیث کے الفاظ، اسلوب اور انداز میں نمایاں مماثلت ہوتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ: قرآن کا اسلوب جلال و ہیبت سے لبریز ہے - حدیث کا اسلوب شفقت، تربیت اور رہنمائی کا حامل ہے
قرآن میں الوہیت کا جلال ہے-حدیث میں عبدیت اور نبوی شفقت کی جھلک ہے
ایک ہی شخصیت کی دو تصانیف میں اس قدر واضح اسلوبی فرق ممکن نہیں۔
لہٰذا منطق فیصلہ دیتی ہے:
قرآن وحی ہے اور حدیث شرحِ وحی۔
(3) ذاتی جذبات کا عدمِ ذکر - ایک غیر جانب دار دلیل
اگر قرآن نبی ﷺ کا ذاتی کلام ہوتا تو:
حضرت خدیجہؓ کا خصوصی ذکر ضرور ہوتا. اولاد کا تذکرہ فخر یا غم کے انداز میں آتا ذاتی محبتیں اور دکھ نمایاں ہوتے
مگر قرآن: کسی زوجہ یا اولاد کا ذاتی حوالہ نہیں دیتا. حتیٰ کہ نبی ﷺ کو بعض مواقع پر تنبیہ کرتا ہے. جبکہ حضرت مریمؑ کے نام پر مکمل سورت نازل ہوتی ہے یہ غیر جانب داری اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قرآن کسی انسان کے جذبات کا ترجمان نہیں بلکہ ربِ کائنات کا میزانِ عدل ہے۔
(4) اُمّی نبی اور سائنسی حقائق - ایک فیصلہ کن دلیل
رسول اللہ ﷺ اُمّی تھے، کسی مکتب یا علمی مدرسے کے شاگرد نہیں رہے، اور یونانی، رومی یا ہندوستانی سائنس سے واقف نہ تھے۔ اس کے باوجود قرآن: کائنات کے پھیلاؤ کا ذکر کرتا ہے﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُون (الذاریات: 47) :اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم کو سب مقدور ہے. 
انسانی تخلیق کے مراحل بیان کرتا ہے
﴿ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً﴾ (المؤمنون: 14)
سمندروں کے درمیان پردوں کا ذکر کرتا ہے
﴿مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ۝ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ﴾
(الرحمن: 19–20)﴿وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا﴾
(سورۃ الفرقان: 53)
ترجمہ:اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو رواں کیا: ایک میٹھا، پیاس بجھانے والا، اور دوسرا کھارا؛ اور ان کے درمیان ایک پردہ اور مضبوط رکاوٹ قائم کر دی۔
یہ وہ حقائق ہیں جن کی تصدیق جدید سائنس آج کر رہی ہے، مگر قرآن نے انہیں صدیوں پہلے بیان کر دیا۔ عقل کا صاف فیصلہ ہے: یہ علم کسی انسان کا نہیں ہو سکتا، یہ علم علیم و خبیر کی جانب سے ہے۔
(5) قرآن خود اپنے ماخذ کی گواہی دیتا ہے﴿تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (الواقعہ: 80)﴿إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾ (النجم: 4)
﴿لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ﴾ (فصلت: 42)
سائنس قرآن کے حقائق پر گواہ ہے،عقل اس کی صداقت تسلیم کرنے پر مجبور ہے،
منطق اس کی مثل لانے سے عاجز ہے،
اور خود قرآن اپنی الوہیت کی شہادت دیتا ہے۔یہ سب دلائل ایک ہی حقیقت پر جمع ہو جاتے ہیں:**قرآن نہ کسی انسان کا کلام ہے،نہ رسولِ اکرم ﷺ کی تصنیف، بلکہ یہ اللہ رب العالمین کا نازل کردہ کلام ہے_لہٰذا یہ کہنا محض عقیدہ نہیں بلکہ ایک مدلل حقیقت ہے کہ *قرآن اللہ ہی کا کلام ہے *
___________________-________
            بقلم محمودالباری 
mahmoodulbari342@gmail.com