🎤 تقریر: نوجوان اور اصلاحِ امت
 
(🖋️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی)
آغاز:
صدرِ محترم اور میرے عزیز ساتھیو!
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
آج امتِ مسلمہ جس دوراہے پر کھڑی ہے، وہاں سے اسے نکالنے کی ذمہ داری ہم نوجوانوں کے کندھوں پر ہے۔ امت کی اصلاح کوئی باہر سے آکر نہیں کرے گا، بلکہ یہ تبدیلی ہمارے اندر سے اٹھے گی۔
*کردار کی اہمیت:*
اگر ہم چاہتے ہیں کہ امت کا سر فخر سے بلند ہو، تو ہمیں اپنا کردار ویسا ہی بنانا ہوگا جیسا ہمارے اسلاف کا تھا۔ محض باتوں سے انقلاب نہیں آتا:
*عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی*
*یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے*
{»تعلیم اور بیداری:»}

ہمیں اپنے ہاتھ میں قرآن بھی تھامنا ہے اور جدید علوم کی شمشیر بھی۔ جب تک ہم علم کے میدان میں پیچھے رہیں گے، دنیا ہماری قیادت کو تسلیم نہیں کرے گی۔ اقبال نے نوجوانوں کو بیدار کرتے ہوئے فرمایا تھا:
*عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں*
*نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں*

*اتحاد کا پیغام:*

اصلاحِ امت کے لیے ضروری ہے کہ ہم تفرقوں کو مٹا دیں اور ایک جسم کی مانند ہو جائیں:
*ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے*
*نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر*
*اختتام:*
دوستو! اٹھو اور اپنے کردار سے، اپنے علم سے اور اپنے جذبے سے اس سوئی ہوئی قوم کو جگاؤ۔ یاد رکھو:
*نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے*
*ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی*

*خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے*
*کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں*
وقت کی قدر کے لیے:
*غافل نہ ہو زمانہ بہت تیز گام ہے*
*جو تھک کے بیٹھ جائے وہی ناکام ہے*
*{نوٹ}*اس تحریر کو اس انداز میں لکھا گیا ہے کہ اپ اسے جمعہ کے دن بیان بھی کر سکتے ہیں