مضمون (58)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کائنات کا خالق ایک ہی کیوں ہے؟ — ایک فکری و قرآنی مطالعہ
**********************
جب انسان خالقِ کائنات کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے تو لازماً یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا یہ خالق ایک ہی ہے یا کئی؟ اور اگر ایک ہے تو کیا وہی عبادت کے لائق بھی ہے؟
دنیا میں مختلف خداؤں کے تصورات نے انسان کو الجھن میں ڈال دیا ہے، مگر عقل، فطرت اور مشاہدۂ کائنات واضح گواہی دیتے ہیں کہ کائنات کا خالق ایک ہی ہے اور وہی واحد معبودِ برحق ہے۔_یہ مضمون اسی
حقیقت کو قرآن، عقل اور منطق کی روشنی میں مختصراَ فیصلہ کن انداز میں واضح کرنے کی کوشش ہے
آپ اوپر کے مضمون(57)میں یہ تو سمجھ گئیے کہ بیشک خالق (اللہ ) کا وجود موجود ہے اور وہی معبودِ برحق ہے اسی کی عبادت کی جاسکتی ہے کیونکہ جو حقیقی خالق ہو وہی پرستش کے لائق بھی ہوتا ہے آج بھی دنیا کئی خداؤں کا بت کدہ بنا ہوا ہے جبکہ اللہ کی حجت پوری ہوچکی ہے مگر یہاں تو گلی گلی نکر نکر ہزاروں خداؤں کا تصور کیا جاتا ہے اب سادہ ذہن انسان کنفویزن ہوکر سوال کرتا ہے کیا ایک ہی خالق ہے جس نےکائنات کو وجود دیا ؟کیا ایک ہی معبودِ برحق ہے جس کی عبادت کی جاسکتی ہے؟
جی ہاں ساری کائنات زندگی. موت. جنّت دوزخ تمام کے تمام کا ایک ہی خالق (اللہ) ہے اور وہی معبود برحق ہے اسی کی عبادت کی جاسکتی ہے.
اب آئیے _نہایت اہم اور فیصلہ کن نکات کو سمجھتے ہیں:
(1) وجود کا آغاز کرنے والی ذات جو وجود کو عدم سے وجود میں لانے والی ہے، جو ہر شے کا خالق اور مالک ہے—وہ ایک اکیلی ذات صرف اللہ ہے۔
اگر کائنات میں دو یا زیادہ خدا ہوتے تو ہر خدا اپنی مرضی چلانا چاہتا ہر ایک اپنی مخلوق الگ بناتا اس طرح کائنات میں ٹکراؤ
انتشار؛ دوہرا نظام ہوتا
لیکن:سورج مقررہ رفتار سے گردش میں ہے ؛زمین اپنی رفتار و مدار پر قائم ہے ؛دریا، موسم، ہوا، حرارت… سب ایک اصول کے تابع ہے. لہٰذا؛؛ یہ غیر معمولی نظم، ہم آہنگی اور تسلسل اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ اس کائنات کا خالق (اللہ) ایک ہی ہے۔
قرآن کریم واضح اعلان کرتا ہے:
> ﴿ لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾
(الانبیاء: 22)
"اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا۔"
یہ آیت ایک عقلی قانون بیان کر رہی ہے:
دو یا زیادہ حاکم کبھی ایک نظام نہیں چلا سکتے۔اگر واقعی دو خدا ہوتے تو :
ایک بارش چاہتا، دوسرا دھوپ؛
ایک زندگی دیتا، دوسرا موت؛
ایک قانون بناتا، دوسرا اس کی مخالفت کرتا۔
نتیجتاً ؟نظام ٹوٹ جاتا ،قوانینِ فطرت کا انتشار ہوتا ،اور کائنات کی تباہی ہوتی ۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے:
کائنات کا ہر ذرہ ایک ہی حکم کے تابع ہے—
یہی وحدانیتِ خالق کی روشن دلیل ہے؛ اگر (نعوذبااللہ. نقلِ کفر کفر نہ باشد) مان لیا جائے کہ دو یا زیادہ خدا ہیں تو لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ ان کی الگ الگ ملکیتیں ہیں۔
جیسا کہ بعض نظریات میں کہا جاتا ہے کہ زمین کا الگ خدا ہے اور آسمان کا الگ،
یا خداؤں کے درمیان شرکت _جیسے-تثلیث کا عقیدہ۔ یہ دونوں تصورات عقل و منطق کے خلاف ہیں، کیونکہ:
الگ الگ ملکیت کامطلب اختیار کا محدود ہونا ہے. شرکت کا مطلب مشورہ اور انحصار ہے. اور جو محدود، محتاج یا مشورے کا محتاج ہو
وہ قادرِ مطلق خدا نہیں ہو سکتا۔
عاجز، ادھوری طاقت والا یا محدود اختیار رکھنے والا ایسا خدا
نہ عقل مانتی ہے. نہ فطرت. نہ منطق۔
قرآن اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
> ﴿ مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهٍ بِمَا خَلَقَ ﴾
(المؤمنون: 91)
"اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتا تو ہر معبود اپنی مخلوق لے کر الگ ہو جاتا۔"
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ. متعدد خداؤں کا تصور لازماً انتشار، تصادم اور تباہی کو جنم دیتا ہے
جبکہ ہم ایک مربوط، مستحکم اور کامل نظام دیکھتے ہیں۔ایسے ہی کائنات کا ہر گوشہ ایک ہی قوانین کے تحت چل رہا ہے:جیسے
فزکس کے اصول. کیمیا کے اصول. حیاتیات کے اصول. کششِ ثقل. روشنی کی رفتار
اگر خالق ایک سے زیادہ ہوتے تو ہر خدا اپنا قانون بناتا،
مگر کائنات میں قوانین ہمیشہ یکساں اورمتحد ہیں. تو ثابت ہوا.
ایک قانون کا → ایک خالق. ﴿اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ﴾(الزمر: 62)
ترجمہ: اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔﴿قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ… فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ﴾(یونس: 31)
ترجمہ: پوچھو! تمہیں آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ لوگ کہیں گے: اللہ۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی فطرت خود گواہی دیتی ہے کہ پروردگار ایک ہی ہے۔
﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ… لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾(البقرہ: 164)
ترجمہ: بے شک آسمان و زمین کی تخلیق میں … عقل والوں کے لیے (اللہ کی وحدانیت کی) نشانیاں ہیں۔
﴿وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾
(آل عمران: 83)
ترجمہ: اور آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کے تابع ہے۔
جو رب سب پر حاکم ہے وہ واحد ہی ہو سکتا ہے؛
اگر کئی خدا ہوتے تو اطاعت میں ٹکراؤ ہوتا.
﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾(الملک: 1)
ترجمہ: بابرکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں پوری بادشاہت ہے۔
بادشاہت “ایک ہاتھ میں” ہے،اگر دو ہاتھ میں ہوتا تو قرآن یوں نہ کہتا.
اللہ کی وحدانیت کا سب سے جامع اعلان
سورۃ الإخلاص (توحید کا نچوڑ)ہے
﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾
کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔﴿اللَّهُ الصَّمَدُ﴾اللہ بے نیاز ہے۔﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ﴾نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ جنا گیا
﴿وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے.
یہ چار آیتیں پوری کائنات کے مذہبی فلسفے کا خلاصہ ہیں۔۔"لہٰذا :
اتنی عظیم، منظم اور ہم آہنگ کائنات خود اعلان کر رہی ہے کہ:
خالق ایک ہی ہے-مالک ایک ہی ہے،-حاکم ایک ہی ہے-
اور وہی اللہ ہے_
یہ وحدانیت نہ صرف قرآن کی صدا ہے - بلکہ
عقل، فطرت. اورمشاہدۂِ کائنات کا متفقہ فیصلہ بھی ہے۔
اے ربِ کائنات!
ہمارے دلوں کو اپنی معرفت سے روشن فرما،ہماری عقلوں کو
گمراہی سے محفوظ رکھ،اور ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھ۔آمین
نوٹ
ان حقائق کی مزید گہرائی کے لیے فزکس، کیمیا اور حیاتیات جیسے سائنسی علوم کا مطالعہ نہایت مفید ہے؛ یہاں صرف اشارہ مقصود ہے، کیونکہ کائنات کا ہر قانون وحدانیتِ خالق کی گواہی دیتا ہے۔
مزید مضبوط اور مستحکم کیلئے چند قرآنی آیات پیش کی گئی ہے ، جو عقل، مشاہدہ اور وحی—تینوں کو یکجا کر کے حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com