حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی نگارشات، محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ روحانی اکسیر ہیں، جو قلبِ مضطر کو قرار بخشتی ہیں، عقلِ سرگرداں کو منزل کا پتہ دیتی ہیں، اور نفسِ امارہ کی چیرہ دستیوں کے مقابلے میں ایک باطنی ڈھال فراہم کرتی ہیں۔ میری ناقص نگاہ نے اگرچہ علومِ ظاہری و باطنی کے سینکڑوں مظاہر دیکھے، مختلف اہلِ قلم کی قلمی جولانیاں پڑھیں، مگر جو حیات آفرینی، اصلاحی لطافت، فکری انکشاف، اور قلبی انقلاب حضرت تھانویؒ کی تحریروں میں مضمر ہے، وہ نہایت کمیاب بلکہ نادر الوقوع ہے۔


میری علمی و روحانی سیاحت کی ایک اہم کروٹ اس وقت آئی جب حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی ایک فکر انگیز تحریر میں یہ جملہ پڑھا کہ:

"خطبات حکیم الامت، حضرت تھانویؒ کی ایسی ہمہ گیر تصانیف میں شمار ہوتی ہیں کہ ہر طالب علمِ دین و صاحبِ علم و فہم کو ان کا مطالعہ اپنی علمی زادِ راہ میں لازماً رکھنا چاہیے۔"


یہ قول میں نے فقط سنا نہیں، بلکہ اپنی عمرِ رفتہ کی ساعتوں میں بارہا برحق پایا۔


یہ ایک ایسا لمحۂ فیصلہ کن تھا، جس کے بعد نہ صرف یہ کہ میری توجہ اس بحرِ معنوی کی طرف مبذول ہوئی، بلکہ میں نے اپنے شب و روز میں حضرت کی تصانیف، مواعظ، ملفوظات، و رقعات کو اس طور شامل کیا کہ گویا وہ میری فکری غذا اور روحانی مشق کا جزوِ لازم بن گئے۔

ان کے خطبات ہوں یا ملفوظات، چاہے "الافاضات الیومیہ" ہو یا "اشرف الجواب"، "نشر الطیب" ہو یا "حکایاتِ اولیاء"، ہر سطر جیسے کسی معرفت کے دریا کا دہانہ ہو، اور ہر لفظ گویا اسرارِ باطن کے مقفل خزانے کی کنجی ہو۔ وہ اندازِ تحریر جو یکجا ہو: فقہی دقّت، صوفیانہ لطافت، عقلی وزن، اور روحانی حرارت — یہ کم از کم میرے ناقص تجربے میں کہیں اور اس ہمہ گیری کے ساتھ میسر نہ آیا۔


حضرت کی تحریروں کا ایک خاص وصف یہ ہے کہ وہ صرف ذہن کو نہیں جِھنجھوڑتیں بلکہ دل کی تہہ در تہہ تاریکیوں میں ایسی چراغاں کرتی ہیں کہ انسان اپنے باطن کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔ وہ محض قلم سے نہیں، حال سے لکھتے تھے؛ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تحریروں میں تاثیر، ان کی تقریروں میں تسخیر، اور ان کے ملفوظات میں تطہیر کی شان نمایاں ہے۔


خلاصہ یہ کہ جسے قلبی انقلاب، اعتقادی بصیرت، اخلاقی تہذیب، اور عملی تجرد مطلوب ہو، اُس کے لیے حضرت حکیم الامت کی کتب کا مطالعہ کوئی اختیاری مشغلہ نہیں، بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔


اللہ تعالیٰ حضرت کے فیوض کو ہم جیسے غفلت زدہ قلوب میں مزید راسخ فرمائے۔آمین یارب العالمین