🪶از:ح عائش✰
مجھے تنہائی بہت پسند ہے…
شاید اس لیے کہ دنیا کا شور مجھے بہت تھکا دیتا ہے، اور کچھ لوگوں کے رویّے دل کو بہت تکلیف دیتے ہیں۔ کسی کی تیز آواز، کسی کا سخت لہجہ، بات کرنے کا انداز… کبھی کبھی یہ سب دل پر ایسا بوجھ ڈال دیتے ہیں کہ بس دل چاہتا ہے سب سے دور کسی ایسی جگہ چلی جاؤں جہاں نہ دنیا کا شور ہو، نہ کسی کی آواز دل کو چبھے… بس خاموشی ہو اور میرا اللہ ہو۔
مجھے تنہائی اس لیے پسند ہے کہ تنہائی میں مجھے اپنے اللہ سے باتیں کرنے کا وقت ملتا ہے۔
دن بھر دل میں نہ جانے کتنی باتیں جمع ہوتی رہتی ہیں۔ کچھ ایسی بھی، جو کسی انسان سے کہنے کو دل نہیں چاہتا۔ پھر جب رات آتی ہے، سب سو جاتے ہیں، دنیا کا شور تھم جاتا ہے، تو مجھے اپنی اس خاموش تنہائی کا انتظار رہتا ہے۔
رات کا آخری پہر…
وضو کا ٹھنڈا پانی…
خاموش کمرہ…
جائے نماز…
اور تہجد۔
جب میں تہجد کے لیے کھڑی ہوتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے دنیا کی ہر الجھن سے نکل کر اپنے رب کے قریب آ گئی ہوں۔ وہاں مجھے کسی کو کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میں جیسی ہوں، اپنے تمام دکھوں، کمزوریوں اور آنسوؤں کے ساتھ اپنے اللہ کے سامنے ہوتی ہوں۔
کبھی دعا کرتے ہوئے الفاظ ختم ہو جاتے ہیں، مگر آنسو نہیں۔ کبھی بس خاموش بیٹھی رہتی ہوں اور دل ہی دل میں اپنے رب سے باتیں کرتی رہتی ہوں۔ اپنی پریشانیاں، اپنی خواہشیں، اپنی الجھنیں… سب اُس کے سامنے رکھ دیتی ہوں۔
وہ باتیں بھی، جو شاید کسی انسان کو کبھی نہ بتا سکوں، اپنے اللہ سے کہہ دیتی ہوں۔
اور عجیب سکون ملتا ہے یہ جان کر کہ مجھے اپنی بات مکمل کرنے کی ضرورت نہیں…
میرا رب میرے دل کی وہ بات بھی جانتا ہے جو میرے لبوں تک نہیں آتی۔
مجھے تہجد کی وہ تنہائی بہت پسند ہے، جہاں آنکھوں میں آنسو ہوں اور دل میں صرف اللہ ہو۔ جہاں سجدہ لمبا ہوتا جائے اور دل کا بوجھ آہستہ آہستہ ہلکا ہونے لگے۔ جہاں دنیا کی ہر آواز مدھم پڑ جائے اور صرف اپنے رب کو پکارنے کا احساس باقی رہ جائے۔
شاید اسی لیے مجھے لوگوں سے زیادہ اپنی تنہائی عزیز ہے۔
لوگوں کے درمیان رہ کر دل تھک جاتا ہے، مگر اللہ کے ساتھ تنہائی میں دل کو سکون ملتا ہے۔
دنیا کا شور مجھے اپنے آپ سے دور کرتا ہے،
اور اللہ کے ساتھ تنہائی مجھے پھر سے خود سے ملا دیتی ہے۔
قرآن کھول کر خاموشی سے آیات پڑھنا، تہجد میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا، پھر دیر تک اُس سے باتیں کرنا… میرے لیے یہ تنہائی نہیں، میرے رب کے ساتھ ایک خوبصورت خلوت ہے۔
مجھے تنہائی بہت پسند ہے…
مجھے یہ تنہائی چاہیے…
کیونکہ یہ مجھے لوگوں سے نہیں، اللہ سے جوڑتی ہے۔
اور اگر کبھی اللہ مجھے دنیا کے شور سے دور کر دے، تو میں اسے محرومی نہیں، اپنے رب کی طرف سے سکون سمجھوں گی ۔ شاید وہ مجھے اپنے قریب آنے کے لیے جگہ دے رہا ہو۔ شاید وہ چاہتا ہو کہ میں سب کے دروازوں سے ہٹ کر اُس کے در پر آ بیٹھوں۔
یا اللہ! میری اس تنہائی کو اپنی قربت بنا دے،
میری راتوں کو تہجد کی محبت سے آباد کر دے،
اور جب دنیا کی آوازیں میرے دل کو تھکا دیں،
تو مجھے اپنے ذکر میں وہ سکون عطا فرما جو کہیں اور نہ ملے۔
مجھے تنہائی بہت پسند ہے…
کیونکہ اس تنہائی میں مجھے میرا اللہ ملتا ہے۔