سعدیہ فاطمہ عبدالخالق 

 ناندیڑ مہاراشٹر

8485884176

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

   *مجھے مرنا نہیں ہے* 


شیلف میں کتابیں رکھنے کے دوران ایک کاغذ لہراتا ہوا نیچے گرا ، اس نے فورآ سے اٹھا کر چیک کیا ، تب ہی اسے یاد آیا کہ یہ تو ماں کی تحریر ہے ، برسوں پہلے لکھی گئی تحریر آج بھی زندگی کا درس دے رہی ہیں ، اس نے تحریر کو بہت محبت بھری نگاہوں سے چوما اسے یاد آیا کہ ماں نے کتنے بہترین انداز میں رہنمائی کی ہے ، فرط مسرت سے آنکھیں بھیگ گئیں ، 


دادا جی کے انتقال پر وہ بہت پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی ، اور دادا جی کی جدائی سے پریشان ہوکر وہ ماں سے بار بار کہتی ، ماں مجھے مرنا نہیں ہے ، میں مرنا نہیں چاہتی ، ماں اسے سمجھایا کرتی ، کہ تم پڑھائی پر دھیان دو ، ابھی بہت سال پڑھنا ہے ، پھر ایک دن ماں نے اسے ایک لکھا ہوا کاغذ دیا اور کہا ، بیٹا اسے سنبھال کر ، رکھنا ، اس میں لکھا ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہنے کے لئے کئے جانے والے کام ۔۔۔۔۔۔۔


تحریر آج بھی زندہ تھی ، ماں نے لکھا تھا کہ ، 


اگر تمھیں ہمیشہ زندہ رہنا ہے تو ، انسانوں کے ساتھ انسانیت کا برتاؤ رکھو ،  

برائی کا جواب اچھائی سے دیا کرو ، تم ہمیشہ زندہ رہو گی ، لوگ دل سے تمھارا نام لیں گے 


اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے تحریر کو دیکھا اور سوچا 


ماں تم ہمیشہ زندہ ہی ہو ۔۔۔۔۔