*یہاں عشق کے بازار سجتے ہیں جناب!*
14 ستمبر، 2026
ممبئی میں سمندر بھی عشق کے قصوں کا امین ہے، سڑکیں راستے کم اور محبت کے بازار زیادہ دکھائی دیتی ہیں، ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی دل اپنی دکان سجائے بیٹھا ہے، ہر نگاہ ایک سکے کی طرح چل رہی ہے، ہر مسکراہٹ ایک دام بن چکی ہے اور ہر قربت محبت کے نام پر کوئی نیا سودا طے کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممبئی کو میں چھوٹا امریکہ کہتا ہوں سو یہاں آزادی بھی شاید اپنے پورے لباس میں گھومتی ہے جس طرح سمندر کی موجیں ساحل سے لپٹنے میں کوئی جھجک نہیں کرتیں اسی طرح بعض محبت کے مسافر بھی شہر کی کھلی راہوں کو اپنے جذبات کا آنگن سمجھ بیٹھتے ہیں، فٹ پاتھ ان کے لئے قالین ہیں، پارک کی بنچیں تخت ہیں، ساحل کی دیواریں پردے ہیں، شہر کی بھیڑ ان کے لئے ایسا پردۂ غفلت ہے جس کے پیچھے دنیا موجود ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں عشق کی کشتیاں عجیب سمندر میں تیرتی ہیں۔ کوئی نگاہوں کی پتوار سے چلا رہا ہے، کوئی مسکراہٹ کا بادبان تان رہا ہے، کوئی وعدوں کی ہوا کے سہارے بہہ رہا ہے، کبھی دو دل ایسے قریب آ بیٹھتے ہیں جیسے دو مسافر طوفان میں ایک ہی چٹان کا سہارا لے رہے ہوں، کبھی محبت کا جوش ایسا امڈتا ہے جیسے مون سون کا بادل اچانک برس پڑا ہو اور کبھی شہر کی روشن سڑکوں کے بیچ محبت کے یہ چراغ یوں جلتے ہیں جیسے باقی ساری دنیا اندھیرے میں چھوڑ دی گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی پارک کی بنچ کو دیکھیے تو وہ بنچ کم اور عشق کا تخت زیادہ معلوم ہوتی ہے، دو مسافر اس پر ایسے براجمان جیسے پوری سلطنت عشق انہیں عطا کردی گئی ہو۔ آس پاس لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، بچے کھیلتے ہیں، پرندے اڑتے ہیں، گاڑیاں شور کرتی ہیں مگر ان کے لئے وقت کی گھڑی جیسے رک گئی ہو، نگاہیں نگاہوں سے یوں بندھی ہیں جیسے پتنگ کی ڈور آسمان سے، ہاتھ ہاتھ سے یوں جڑے ہیں جیسے بیل درخت سے اور کبھی محبت کی نمائش اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ گزرنے والا اپنی نظریں یوں موڑ لیتا ہے جیسے کسی اجنبی گھر کا پردہ اچانک اٹھ گیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحلِ ممبئی تو گویا عشق کی کھلی کتاب ہے۔ سمندر ہر شام اپنا نیلا ورق کھولتا ہے اور اس پر نہ جانے کتنے نئے افسانے لکھے جاتے ہیں۔ کوئی چٹان پر بیٹھا ہے، کوئی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے، کوئی لہروں کو دیکھتے دیکھتے اپنے ہی خیال کی لہروں میں ڈوب گیا ہے، بوسہ یہاں بعض لوگوں کے لئے جیسے محبت کی مہر بن گیا ہے گویا دو لفظوں کے معاہدے پر مہر ثبت ہوگئی ہو اور پھر وہی سمندر ان لمحوں کو اپنی لہروں میں لے جا کر نہ جانے کتنی کہانیوں کا حصہ بنا دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوکل ٹرینیں اس شہر کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتی ہیں، لاکھوں لوگ ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف بہتے ہیں مگر اسی ہجوم میں بعض دل ایسے ہیں جنہیں منزل سے زیادہ ایک دوسرے کی رفاقت عزیز ہے۔ اسٹیشن آتے ہیں، ٹرینیں جاتی ہیں، سیٹیں بدلتی ہیں، چہرے بدلتے ہیں مگر عشق کے مسافر اپنی چھوٹی سی دنیا میں یوں مقید رہتے ہیں جیسے پرندہ کھلے آسمان میں بھی اپنے بنائے ہوئے پنجرے کو گھر سمجھ لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مال کی روشنیاں ہوں یا ساحل کی ہوا، پارک کی خاموشی ہو یا سڑک کا شور ممبئی کا کوئی نہ کوئی گوشہ محبت کے کسی نہ کسی منظر کا آئینہ بن جاتا ہے۔ شہر کی عمارتیں جیسے آسمان سے باتیں کرتی ہیں ویسے ہی یہاں کے بعض عاشق اپنے خوابوں سے باتیں کرتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ عمارتیں اینٹ اور سیمنٹ سے بنتی ہیں اور خواب اکثر چند تصویروں اور چند وعدوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ عشق بھی عجیب بازار ہے یہاں کوئی دل کا پھول لے کر آتا ہے اور کبھی خوشبو کے بدلے کانٹا لے جاتا ہے۔ کوئی وعدوں کے موتی خریدتا ہے اور وقت کی لہریں انہیں ریت بنا دیتی ہیں۔ کوئی سمجھتا ہے کہ اسے زندگی کا ساحل مل گیا مگر چند قدم بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو سراب کے کنارے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممبئی کی رات جب روشنیوں کا تاج پہن لیتی ہے تو یہ بازار اور بھی رنگین ہوجاتا ہے، سڑکیں جیسے روشنی کی ندیاں بن جاتی ہیں، گاڑیاں جیسے جگنوؤں کے قافلے، بلند عمارتیں جیسے آسمان پر کھڑے مینار اور ان سب کے درمیان عشق کے مسافر جیسے اپنی اپنی کہانی کے کردار۔ کوئی کسی کی آنکھوں میں گھر تلاش کررہا ہے، کوئی کسی کی مسکراہٹ میں بہار، کوئی کسی کے وعدے میں مستقبل اور کوئی شاید اس لمحے کو ہی پوری زندگی سمجھ بیٹھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں ہر طرف عشق کی کشتی ہے، خواہش کا سمندر ہے، نگاہوں کی لہریں ہیں، وعدوں کے بادبان ہیں، قربت کے ساحل ہیں اور جذبات کے مسافر ہیں مگر سمندر کی ایک عادت ہے کہ وہ کسی کشتی کو ہمیشہ ایک ہی جگہ نہیں رہنے دیتا۔ موج اٹھتی ہے، کشتی بہتی ہے، منظر بدلتا ہے اور کبھی کبھی مسافر کو معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ منزل سمجھ کر نکلا تھا وہ تو صرف سمندر کا ایک خوبصورت بھنور تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو ممبئی کو دیکھیے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عشق کا ایک بے کنار میلہ ہو جہاں سڑکیں بازار، ساحل دکانیں، نگاہیں سکے، مسکراہٹیں دام، وعدے سامان، دل خریدار اور وقت سب سے بڑا دکاندار جو ہر شام نئی محبتیں سجاکر صبح ہوتے ہی نہ جانے کتنی کہانیاں سمیٹ لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔