بسم اللہ الرحمن الرحیم
تحریر: محمد مسعود رحمانی

آج ہر باشعور اور دردمند مسلمان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور اپنے اردگرد جب ہم دیکھتے ہیں کہ امت کی معصوم بیٹیاں گھر کی دہلیز پھلانگ کر نام نہاد محبت کی خاطر بھاگ رہی ہیں، اور ویڈیو بنا کر اپنے ہی بوڑھے ماں باپ کے خلاف بیانات جاری کر رہی ہیں، تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: اس پورے المیے کا ذمہ دار کون ہے؟ کسے مجرم ٹھہرایا جائے؟
اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو اس آگ کو بھڑکانے والے خود ہم اور ہمارا معاشرہ ہے۔
1. جہیز کے سوداگر والدین: سب سے بڑے مجرم
اس بگاڑ کی پہلی اور سب سے بڑی وجہ وہ والدین ہیں جنہوں نے نکاح جیسی پاکیزہ سنت کو کاروبار اور نیلامی بنا دیا ہے۔
بیٹے کو پڑھا لکھا کر یا کوئی ہنر سکھا کر ماں باپ یہ خواب سجانے لگتے ہیں کہ اب بہو کے ساتھ 10 لاکھ، 15 لاکھ یا 20 لاکھ جہیز آئے گا۔
ابھی چند دن پہلے کی بات ہے، میرے ایک باکردار ساتھی (جو پیشے سے ماسٹر ہیں اور عمر 29-30 سال ہو چکی ہے) سے جب میں نے پوچھا کہ "اب تک آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟" تو ان کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ فرمانے لگے:
"میں تو چاہتا ہوں کہ سنت کے مطابق سادگی سے نکاح کروں، لیکن میرے والدین لاکھوں روپے جہیز اور ڈیمانڈ پر اڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے لڑکی والے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور میں اپنے والدین کے سامنے بے بس ہوں۔"
افسوس صد افسوس! جہاں نوجوان سنت پر چلنا چاہیں، وہاں ان کے اپنے ماں باپ راستے کی دیوار بن جاتے ہیں۔
یاد رکھیے! جو ماں باپ آج اپنے بیٹے کی بولی لگا کر بیٹی کے غریب باپ کی کمر توڑتے ہیں، کل وہی والدین بڑھاپے میں چارپائی پر پڑے روئیں گے کہ بہو خدمت نہیں کرتی، بیٹا پرواہ نہیں کرتا۔ بھلا وہ بہو کیسے دل سے خدمت کرے گی جس کے بوڑھے باپ کو آپ نے چند لاکھ کے لیے ذلیل و رسوا کیا تھا؟ جس رشتے کی بنیاد ہی پیسے کی ہوس پر رکھی جائے، وہاں محبت اور خدمت کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟
2. شادیوں میں غیر ضروری تاخیر اور رسم و رواج
دوسرا بڑا المیہ لڑکیوں کے نکاح میں بے جا تاخیر ہے۔ لڑکا اور لڑکی شادی کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں لیکن صرف اس لیے رشتے لٹکائے جاتے ہیں کہ:
"ابھی جہیز کا سامان تیار نہیں ہوا ہے۔"
"شادی میں برادری کو دکھانے کے لیے اتنا سونا اور روپیہ کہاں سے آئے گا؟"
"لڑکے کے پاس سرکاری نوکری یا اپنا بڑا مکان نہیں ہے۔"
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب کوئی نیک اور باکردار رشتہ آئے تو تاخیر نہ کرو، ورنہ زمین میں فتنہ و فساد پھیلے گا۔ آج وہی فتنہ ہمارے گھروں تک پہنچ چکا ہے۔ جب حلال نکاح کو مشکل، مہنگا اور شرائط کی بیڑیوں میں جکڑ دیا جائے گا تو حرام آسان ہو جائے گا۔
3. امت کی ناسمجھ بہنوں اور بیٹیوں سے دردمندانہ اپیل
میری معصوم اور ناپختہ ذہن بہنوں!
چند دنوں کی جھوٹی اور وقتی جذبات پر مبنی نام نہاد "سوشل میڈیا محبت" کے لیے اپنے والدین کی 20-25 سال کی محبت، خدمت اور عزت کو پل بھر میں خاک میں مت ملاؤ۔ وہ باپ جس نے تمہاری پرورش کے لیے اپنی جوانی کا خون پسینہ ایک کر دیا، وہ ماں جس نے تمہاری ایک تکلیف پر راتوں کی نیندیں قربان کر دیں، ان کے سفید بالوں اور عزت کا جنازہ مت نکالو۔
جو شخص تمہیں اپنے بوڑھے والدین کی دہلیز اور حیا چھڑوا کر بھگانے پر آمادہ کرتا ہے، وہ کبھی تمہارا سچا وفادار نہیں ہو سکتا۔ ایسے فیصلوں کا انجام سوائے رسوائی، پچھتاوے اور بربادی کے کچھ نہیں نکلتا۔ اپنے رب پر بھروسہ رکھو، صبر کا دامن تھامو، اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا اور بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔
اب وقت ہے بیدار ہونے کا!
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بہن بیٹیاں محفوظ رہیں اور ہمارا معاشرہ مزید تباہ نہ ہو، تو ہمیں تین کام فوری کرنے ہوں گے:
جہیز کے لالچ کو لات ماریے: اپنے بیٹوں کو بیچیے مت، بیٹی والوں سے مطالبات کرنا بند کیجیے۔
سنت کے مطابق آسان نکاح: سادگی کو رواج دیجیے تاکہ غریب سے غریب باپ بھی عزت کے ساتھ اپنی بچی رخصت کر سکے۔
گھروں میں بیٹیوں کو عزت و اعتماد دیجیے: ان کی دینی و اخلاقی تربیت کیجیے اور سوشل میڈیا کے فریب سے بچانے کے لیے ان سے دوستانہ رابطہ رکھیے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو اس لعنت سے نجات عطا فرمائے اور ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔