اللہ ربُّ العزّت نے اپنے بندوں کو مختلف نعمتوں، ہنروں اور سعادتوں سے نوازا ہے۔ کسی کو علمِ دین عطا فرمایا، کسی کو طب و علاج کی خدمت میں لگایا، کسی کو انجینئرنگ کی مہارت سے سرفراز کیا، اور کسی کو مختلف دنیوی عہدوں پر فائز کیا۔ ہر شخص اپنی جگہ ایک نعمتِ خداوندی ہے اور ہر ہنر، ہر کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرنا لازم ہے، کیونکہ شکر سے نعمت بڑھتی ہے اور ناشکری سے زائل ہو جاتی ہے۔
جس طرح ایک عالمِ دین کا مقام دین کی خدمت میں بلند ہے، اسی طرح ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر اہلِ عہدہ افراد بھی بندگانِ خدا کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں، اس لیے وہ بھی قابلِ احترام ہیں اور ہمارے سر کے تاج ہیں۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ عالمِ دین کی فضیلت سب سے اعلیٰ ہے۔ قرآن و حدیث میں اہلِ علم کی عظمت بار بار بیان ہوئی ہے، اور فرمایا گیا کہ علم والوں کا درجہ سب سے بلند ہے۔ اس لیے کسی دنیوی عہدہ دار کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی عالمِ دین کو حقیر یا کمتر سمجھے۔ دنیا کے تمام مرتبے اپنی جگہ، مگر علمِ دین ایسا مقام ہے جس کی برابری کوئی اور منصب نہیں کر سکتا۔
پس ضروری ہے کہ ہم ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں، ہر اہلِ فن کو عزت دیں، اور خصوصاً اہلِ علم کی قدر و منزلت پہچانیں، کہ انہی کے ذریعے دین کی روشنی دلوں تک پہنچتی ہے۔
*ہانیہ فاطمہ قادری*