*بھابھی کا فتنہ*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
________________________________
آج کے پُرفتن دور میں جہاں بے حیائی بے پردگی اور ناجائز تعلقات عروج پر ہیں وہیں ایک خطرناک فتنہ جو خاموشی کے ساتھ گھروں کو تباہ کررہا ہے وہ بھابھی کا فتنہ ہے۔ بہت سارے نوجوان خصوصاً وہ لڑکے جن کی ابھی شادی نہیں ہوئی اپنی بھابھی کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بے تکلف ہوجاتے ہیں۔ ابتدا ہنسی مذاق موبائل پر گفتگو اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہوتی ہے لیکن آہستہ آہستہ یہی تعلق گناہ بدنگاہی زنا اور خاندان کی تباہی تک پہنچ جاتا ہے۔
بہت سے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ بھابھی تو اپنی ہی گھر کی عورت ہے اس سے ہنسی مذاق کرنا گھنٹوں فون پر بات کرنا دل لگی کرنا یا تنہائی میں بیٹھنا کوئی گناہ نہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھابھی بھی غیر محرم ہے۔ شریعت نے جس طرح دوسرے غیر محرم عورتوں سے پردہ اور احتیاط کا حکم دیا ہے اسی طرح بھابھی سے بھی حدود قائم رکھنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج لوگ اس معاملہ میں بہت لاپرواہ ہوچکے ہیں۔
اکثر دیکھا جاتا ہے کہ چھوٹا بھائی اپنی بھابھی کے ساتھ حد سے زیادہ دلچسپی لینے لگتا ہے۔ کبھی مزاح کے نام پر کبھی خدمت کے نام پر اور کبھی اپنائیت کے بہانے دلوں میں شیطان جگہ بنالیتا ہے۔ موبائل پر لمبی لمبی گفتگو رات رات بھر چیٹنگ ایک دوسرے کی تعریفیں تنہائی میں ملاقاتیں یہ سب شیطان کے وہ راستے ہیں جو آخرکار انسان کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
میں نے خود ایک شخص کا واقعہ سنا کہ جب اس کے بڑے بھائی کی شادی ہوئی تو چھوٹا بھائی اپنی بھابھی کے ساتھ بہت زیادہ ہنسی مذاق کرنے لگا۔ شروع میں گھر والوں نے اسے معمولی بات سمجھا لیکن آہستہ آہستہ دونوں کے درمیان ناجائز تعلقات قائم ہوگئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دن وہ اپنی ہی بھابھی کو لے کر گھر سے فرار ہوگیا۔ اس ایک غلطی نے پورے خاندان کی عزت خاک میں ملادی۔ والدین رسوا ہوگئے بھائی کی زندگی برباد ہوگئی اور خاندان میں نفرت و دشمنی پیدا ہوگئی۔
اسی طرح ایک اور شخص نے اپنا دردناک واقعہ سنایا کہ وہ اپنی بھابھی سے باتیں کرتے کرتے اس قدر قریب ہوگیا کہ کئی مرتبہ ان دونوں کو گھر والوں نے نامناسب حالت میں دیکھا مگر خاندان کی عزت بچانے کیلئے خاموشی اختیار کی گئی۔ لیکن گناہ کب تک چھپتا؟ ایک دن شوہر نے خود اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھ لیا۔ اسی وقت اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور دونوں کو گھر سے نکال دیا۔ بعد میں وہ ناجائز تعلق بھی زیادہ دن نہ چل سکا دونوں کے درمیان شدید لڑائیاں شروع ہوگئیں معاملہ کورٹ کچہری تک پہنچ گیا اور دونوں خاندان تباہی و بربادی کا شکار ہوگئے۔
یاد رکھیں شیطان کبھی انسان کو ایک دم بڑے گناہ کی طرف نہیں لے جاتا بلکہ آہستہ آہستہ قدم بڑھواتا ہے۔ پہلے ہنسی مذاق پھر فون پر باتیں پھر تنہائی پھر ناجائز تعلقات اور آخر میں زنا یا گھر سے بھاگ جانا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ابتدا ہی میں غیر محرم عورتوں سے بے تکلفی سے منع کیا ہے تاکہ انسان بڑے گناہوں سے محفوظ رہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اللہ تعالیٰ سے ڈریں اپنی نظروں کی حفاظت کریں بھابھی کو حقیقی بہن کی طرح عزت دیں نہ کہ خواہشات کا ذریعہ بنائیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں گھروں میں پردہ اور شرعی حدود کا ماحول قائم کریں اور وقت پر شادی کا انتظام کریں تاکہ نوجوان گناہوں سے بچ سکیں۔
خدارا اپنے گھروں کو جہنم بننے سے بچائیں۔ یاد رکھیں کہ چند لمحوں کی ناجائز لذت پوری زندگی کی رسوائی بن سکتی ہے۔ اللہ ربّ العزت ہم سب کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ فرمائے اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔