*سنا ہے بڑی شکایت ہے آپ کو اپنی زندگی سے*
*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
______________________________
زندگی میں ہر انسان کو مشکلات پریشانیاں اور طرح طرح کی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی حالات اچھے ہوتے ہیں کبھی برے کبھی خوشی نصیب ہوتی ہے تو کبھی غم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہیں اور یہی انسان کو مضبوط بناتے ہیں۔
مگر ان آزمائشوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان شکوے شکایتوں میں مبتلا ہو جائے یا ایسی باتیں زبان سے نکالے جو نہ صرف نامناسب ہوں بلکہ اللہ ربّ العزت کو ناراض کرنے والی بھی ہوں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا میں ایسے بےشمار لوگ موجود ہیں جو ہم سے کہیں زیادہ مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئی ایسا ہے جس کے پاس ہاتھ نہیں، کوئی چل نہیں سکتا، کوئی بینائی سے محروم ہے، اور کوئی بول نہیں سکتا۔ اس کے باوجود وہ لوگ اپنی زندگی کو خوشی خوشی گزارتے ہیں، اللہ ربّ العزت کا شکر ادا کرتے ہیں، اور صبر کے ساتھ ہر حال کو قبول کرتے ہیں۔
اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں معمولی سی تکلیف یا چھوٹی سی پریشانی آتی ہے تو وہ فوراً ناشکری شروع کر دیتے ہیں، منہ سے نازیبا اور کفریہ الفاظ نکالنے لگتے ہیں، اور اپنی قسمت کو کوسنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غلط ہے بلکہ انسان کو اندر سے کمزور بھی کر دیتا ہے۔
ایک واقعہ اس حقیقت کو خوب واضح کرتا ہے۔ ایک شخص تھا جس کا ایک ہاتھ نہیں تھا۔ وہ اپنی زندگی سے اس قدر تنگ آ چکا تھا کہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی ختم کر دے گا۔ اسی ارادے سے وہ ایک تالاب کے کنارے پہنچا تاکہ اس میں کود کر اپنی جان لے لے۔ لیکن جیسے ہی وہ تالاب کے قریب پہنچا، اس کی نظر ایک اور شخص پر پڑی وہ شخص ایسا تھا جس کے دونوں ہاتھ نہیں تھے مگر وہ پرسکون انداز میں اپنی زندگی گزار رہا تھا، بغیر کسی شکایت کے۔
یہ منظر دیکھ کر پہلے شخص کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔ اس نے سوچا اس انسان کے تو دونوں ہاتھ نہیں ہیں پھر بھی یہ جینے کی کوشش کر رہا ہے اور کوئی شکایت نہیں کر رہا جبکہ میرے پاس ایک ہاتھ تو موجود ہے۔ میں کیوں ہمت ہار رہا ہوں؟ یہ سوچ اس کے لیے ایک موڑ ثابت ہوئی۔ اس نے اپنا ارادہ بدل دیا، تالاب سے واپس لوٹ آیا، اور نئے حوصلے کے ساتھ اپنی زندگی جینے لگا۔
یہی دراصل دنیا کی حقیقت ہے۔ انسان اکثر دوسروں کو دیکھ کر اپنی زندگی کا انداز بدلتا ہے۔ اگر وہ اپنے سے کمزور اور زیادہ مشکلات میں گھرے لوگوں کو دیکھے تو اس کے دل میں شکر اور صبر پیدا ہوتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، اس پر اللہ ربّ العزت کا شکر ادا کریں۔ اپنی نعمتوں کی قدر کریں، کیونکہ اگر ہم نے ان کی قدر نہ کی تو ممکن ہے کہ وہ ہم سے چھن جائیں، اور پھر پچھتانے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے۔
ہمیں اپنی زبان کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ ایسے الفاظ ہرگز نہ بولیں جو اللہ کو ناراض کریں یا ناشکری کا اظہار ہوں۔ زندگی کے ہر حال میں چاہے خوشی ہو یا غم اللہ کا شکر ادا کریں اور اسی پر راضی رہیں جو اس نے ہمیں عطا کیا ہے۔ یہی کامیاب اور مطمئن زندگی کا اصل راز ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں شکر گزار بنائے ناشکری سے بچائے آمین یارب العالمین ۔