میرا بچپن، میرا جگنو، میری گڑیا لا دے
✍️خامہ بکف محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی تدریس سے فارغ ہو کر نکلا ہی تھا کہ ایک جگری یار کا فون آیا، باتوں کا سلسلہ یوں چلا کہ حال سے ماضی تک کا سفر پل بھر میں طے ہو گیا۔ بات بڑھتے بڑھتے بچپن کی دہلیز پر جا رکی۔ کہنے لگا کہ اس بار چھٹیوں میں تو آئے تو ذرا وہاں بیٹھیں گے، میں نے کہا ، کہاں؟ تو بولنے لگا ارے وہی جگہ جہاں گلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے!
میں نے ہنستے ہوئے کہا یار! اب تو وقت فرصت کہاں؟ اس بار تو تیرے بھائی کی چار آنکھیں ہونے والی ہیں! مگر سچ یہ ہے کہ اس ایک جملے نے دل کے نہاں خانوں میں سوئی ہوئی یادوں کو جگا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ زمانہ بھی کیسا عجیب ہے جب عمر کی دوڑ انسان کو جوانی کی اس وادی میں لا کھڑا کرتی ہے جہاں ذمہ داریوں کا بوجھ کندھوں کو جھکا دیتا ہے تبھی کہیں دل کے کسی کونے سے بچپن کی مٹی مہکنے لگتی ہے۔۔۔۔
وہ معصوم شرارتیں۔۔ وہ دادی اماں کا کہانیوں میں چوروں کا سنسنی خیز ذکر کرنا۔۔ وہ پرندوں کے پیچھے بھاگنا۔۔ وہ بارش کے بعد مٹی میں چمکتے احمر موتیوں کی تلاش کرنا۔۔ وہ مٹی میں تاج محل بنانا اور پھر اس پر فخر سے مسکرانا۔۔ وہ ببول کے درخت پر رسی ڈال کر چارپائی کا جھولا باندھنا اور پھر ہوا سے باتیں کرنا۔۔ وہ شام کو والد محترم کی مشفقانہ ڈانٹ کا لطف لینا۔۔ وہ مدرسے کی راہ کھیلتے، کودتے، ہنستے، شرارت کرتے ہوئے عبور کرنا۔۔ وہ آنگن کی دوڑم دوڑی، چھپم چھپائی۔۔ وہ کھیتوں میں گلی ڈنڈا۔۔ وہ اسکول کے وقفے کا شور۔۔ وہ بہنوں کو چھیڑنا اور پھر امی کی مار کے خوف سے جان بچا کر بھاگنا۔۔ وہ استاد کو تنگ کرنا۔۔ وہ دعا کے وقت چپکے سے ہنسی مذاق۔۔ وہ اسکول کی دیوار پھلانگ کر گھر آ جانے کا کارنامہ۔۔ وہ رونا، رلانا۔۔ وہ ہنسنا، ہنسانا۔۔ وہ چیخنا، چلانا۔۔ وہ چڑنا، چڑانا۔۔۔۔۔ ہائے! کیسا یہ معصوم، بے فکر زمانہ، کہاں سے لاؤں یہ واپس معصوم بچپنا۔۔۔۔۔۔۔
سچ کہا کسی نے
کچھ نہیں چاہئے تجھ سے میری عمرِ رواں
میرا بچپن، میرا جگنو، میری گڑیا لا دے۔۔۔۔۔