سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
ناندیڑ مہاراشٹر
8485884176
*ظالمو ۔۔۔۔۔۔ اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو*
اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو علم کا تحفہ دیا اور انسان نے اسی علم سے مصنوعی ذہانت تک رسائی حاصل کر لی اور وہی مصنوعی ذہانت کو اپنی انا میں ، بربادی کے لئے استعمال کرنے لگا ہے ، آج دنیا کے ہر خطے میں ، ہر ملک نے ، اپنی پہچان بنا رکھی ہے ، کسی نے جمہوریت میں ، کسی نے قوانین میں ، کسی نے طاقت میں ۔۔۔۔۔ لیکن ان سے بھی زیادہ ہم سب کے لئے سوپر پاور ذات واحد لاشریک کی ہے ، جن کے قوانین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر پھیلایا اور رہتی دنیا تک یہی تعلیمات رہے گی جو آخرت کا سودا بنے گی ، جس نے انھیں فالو کیا دونوں جہانوں میں جیت گیا ، لیکن زمین پر ہر دور میں کچھ لوگوں نے اللّٰہ سے نافرمانیاں کی اور خود کی طاقت اور وقت کو چیلینج کیا ، یہی سلسلے کی کڑی میں اپنے آپ کو سوپر ہیرو کہلوانے والا ,,اسرائیل ،، ہمیشہ دوسری زمینی طاقتوں کے سہارے خود کو پاور فل کے چیلینج میں مصروف ہے ، جس کی نظر قبلہ اول پر جمی ہے کہ ۔۔۔۔۔
اسرائیل کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں کہ آیا یہ خود سے ہے کہ دوسروں کے مال پر نیت خراب ۔۔۔۔
اسرائیل (عبرانی) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو بحر روم کے جنوب مشرق کی ساحل پر واقع ہے اس کے شمال میں لبنان ، شمال مشرق میں شام ، مشرق میں اردن ، جنوب مشرق میں فلسطین اور جنوب میں مصر ، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر واقع ہیں ، اسرائیل خود یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے اور یہ دنیا میں واحد یہود اکثریتی ملک ہے ،
29 نومبر 1947ء کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ تیار کیا ، 14 مئی 1948 کو ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیل ملک کے قیام کا اعلان کیا ، یہ اعلان مینڈیٹ کے خاتمے سے ایک دن قبل ڈیوڈ بن گوریان نے کیا ،
اسرائیل کا معاشی مرکز تل ابیب ہے ، جب کہ سب سے زیادہ آبادی والا اور صدر مقام یروشلم کو کہا جاتا ہے تا ہم بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا حصہ نہیں مانا جاتا اس لئے اس اعتبار سے اسرائیل میں ، فلسطینی ، اشکنازی یہودی ، مزراہی یہودی ، ، سفاردی یہودی ، یمنی یہودی ، ایتھوپیا ئی یہودی ، بحرینی یہودی ، بدو اور دیگر بے شمار گروہ موجود ہیں ، اس کے علاوہ مسیحی اور افریقی ممالک سے آنے والے پناہ گزیں اور دیگر مذہب کے افراد بھی یہاں رہتے ہیں ،
اسرائیل میں نمائندہ جمہوریت ہے اور پارلیمانی نظام چلتا ہے رائے دہی سب کو حاصل ہے ، وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے اور ایک ایوانی پارلیمان ہے ، ویسے دیکھا جائے تو کسی دوسرے کی خود مختاریت چھیننے کا حق نہیں ہے ، لیکن
اسرائیل دوسرے کی خود مختاریت چھیننے کا حق خوب جانتا ہے ، کسی کے ملک پر قابض ہو کر خود کو طاقتور بتانے کے ہنر میں خوب آگے ہے ، مثال موجود ہے کہ
ہندوستان نے وزیراعظم اندرا گاندھی کے زمانے میں بنگلہ دیش کو آزاد کروانے میں مدد کی تو کیا اس پر قابض ہوگیا نہیں ، بلکہ تکلیف اور مصیبت میں مدد کی تھی ، جو کہ ایک انسانیت کا فعل ہے ، لیکن اسرائیل میں شدت پسندوں کا خواب ,, گریٹر اسرائیل ،، ہے ، یہ ہمیشہ پڑوسی ملک پر قبضہ کرنے کا خواب رکھتے ہیں ،
فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کا قیام دنیا کی تاریخ کا ایک انتہائی مکروہ اور افسوسناک باب ہے ، اسرائیل کو قائم کر کے مغربی ملکوں اور روس نے ایک ایسے علم کی بنیاد ڈالی جس کی تاریخ میں کم مثالیں ملے گی ، امریکہ اور یورپ کے یہودیوں کو ہزاروں میل دور سے لا کر عربوں کی سر زمین پر آباد کیا گیا اور لاکھوں عربوں کو جو صدیوں سے فلسطین میں آباد تھے ان کے آبائی گھروں اور زمینوں سے نکال کر بے دخل کر دیا گیا ، لیکن معاملہ صرف یہیں پہ ختم نہیں ہوا بلکہ اسرائیل کے اپنے ناجائز وجود کو قائم رکھنے کے لئے عربوں کے خلاف اس کے جارحانہ کاروائیاں بڑے زور و شور سے جاری رہیں یہ وہ فلسطین جسے بجا طور پر حضرت انبیاء اور رسل کے سر زمین کہا جاتا ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا تبلیغی مرکز اسی ملک کے شہر ,, حبرون ،، میں قائم کیا تھا ، حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اسی زر زمین میں حق کی آواز بلند کی تھیں ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عرض موعود یہی سرزمین تھی ، حضرت داؤد علیہ السلام کی سرزمین ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کا مرکز یہی خطہ تھا ، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فلسطین ہی کے شہر بیت المقدس میں خوشخبری سنائی ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر اسی مقدس سر زمین میں واقع مسجد اقصیٰ سے عرش کی طرف تشریف لے گئے اور اسلام کے ابتدائی سالوں میں یہی مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول رہی ، کئی جلیل القدر صحابہ جن میں ابو عبیدہ بن الجراح فاتح شام بھی فلسطین میں مدفون ہیں ، عربوں کے پورے دور میں لبنان اور اُردن کی طرف فلسطین بھی علاقہ شام کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا ،ںسلجو قیوں کے زوال کے بعد بارہویں اور تیرہویں صدی میں یہ خطہ ڈیڑھ دو سو سال تک ہلال و صلیب کی رزم گاہ بنا رہا اور یہی ,, حطین ،، کے میدان جنگ میں حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے صلیبیوں کو شکست دے کر بیت المقد س کو آزاد کروایا ،
اسرائیل کسی مذہب کو نہیں مانتا سوائے خود کے ، اس کی ذہنیت یہ ہے کہ میں ہی اللّٰہ کا مقرب ہوں ،( توبہ ہے)
بین الاقوامی قانون کی سب سے خلاف ورزی کرنے والا ملک اسرائیل ، عزہ فلسطین کے ہسپتالوں پر بم ڈالنے والا مکل اسرائیل ، اسکولوں پر بم ڈالنے والا ملک اسرائیل ، لوگوں کے مذہبی پرارتھنا پر ، مسجدوں پر بم ڈالنے والا ملک اسرائیل ، معصوم بچوں پر بم ڈالنے والا ملک اسرائیل ، معصوم بچوں کی سب سے زیادہ ہلاکت اگر کسی نے کی ہے تو وہ اسرائیل ہے ، ۔۔۔۔۔۔ اسے ڈر ہے کہ یہ بچے آگے میری نئی نسل پر بھاری پڑنے والی ہیں ، اسرائیل انسانی حقوق کی تباہی کا علمبردار ہے ۔۔۔۔۔ اسرائیل کی موجودہ صورت حال ایک نہایت پیچیدہ اور حساس مسئلہ بن چکی ہیں ، جس کے مختلف سیاسی ، عسکری ، معاشی اور انسانی ، ,, پہلو ہیں ، ,, کب تک چھپے گی کیری پتوں کی آڑ میں ،، ۔۔۔۔
سورہ الانعام کی آیت کہ ۔۔۔۔۔۔
وہ اللہ ہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دینے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے ، (الانعام:165)
کبھی تو فلسطین میں ستر ہزار سے زیادہ لوگ شہید ہو چکے تھے ، اور غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا ، لبنان کے حزب اللہ کو بہت کمزور کیا جا چکا تھا ، اور اسرائیل جہاں چاہتا تھا مسلمانوں کو مار دیتا تھا ،
اسرائیل اور امریکہ نے مل کر 2026 میں ماہ رمضان المبارک کی دس تاریخ کو ایران پر حملہ شروع کیا ، گزشتہ سال بھی اس نے بارہ روز تک ایران سے جنگ کی تھیں ، آج
اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام ختم ہو چکا ہے ، ایران اور حسب اللہ نے مل کر اسرائیل پر ایک گھنٹے میں ایک سو راکٹ پھینکے ہیں ، ایران نے بھاری بمباری کر کے ان کے باشندوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے ، دوسری طرف آبنائے ہرمز پوری طرح سے ایران کے کنٹرول میں ہیں ، ایران سے یہ طئے شدہ ہے کہ دشمن کو دوبارہ حملے کے قابل نہیں چھوڑا جائے گا ، اسرائیل اسلام کے دشمن کو تمام امت مسلمہ کی ہائے ہے پوری امتِ مسلمہ ایران کے ساتھ کھڑی ہے ، چاہ تو یہی رہی ہے کہ اسرائیل کا خاتمہ اور فلسطین بیت المقدس کی آزادی ان شاءاللہ ، ۔۔۔۔۔ مسلمانوں کے صبر کا عالم یہ ہے کہ رمضان المبارک کے بعد عید الفطر کے موقع پر اسرائیل کا انجام کسی کی نظروں سے چھپا نہیں ہے ، غزہ کے بچوں کی شہادت یونہی نہیں ہوئی ، فلسطینیوں کی شہادت کا بدلہ یہ ہے کہ کئی طاقتوں کا سہارا لینے والا اسرائیل آج کئی طاقتوں سمیت کھائی میں اترتا جارہا ہے ، ملک کی سب سے بڑی معیشت خام تیل ، جسے اصلی روپ میں لانے تک کئی اسٹیج پر سود مند ، ۔۔۔۔۔۔ خام تیل ، جسے تبدیلی کے دوران کا سب سے اوپری حصہ
لیکویڈ گیس ، ۔۔۔۔
خام تیل Curde oil کے ایک بیرل تقریبا (42 گیلن ) کو ریفائنری میں پروسیس کرنے کے بعد اس سے مختلف مصنوعات کے مختلف حجم بنتے ہیں اس سے تقریبا 19 گیلن پٹرول ، 10 گیلن ڈیزل اور دیگر مصنوعات ( جیٹ ، فیول ، ہیٹنگ اور آئل اسفالٹ) بنتی ہیں، کل حجم بیرل کی اصل حجم سے تھوڑا بڑھ سکتا ہے ، پٹرول سب سے زیادہ تقریبا 45 سے 50 فیصد ڈیزل اور دیگر ایندھن ۔۔۔۔۔
باقی ماندہ حصہ میں مصنوعات جیٹ فیول چکنا کرنے والے مادے ہیں ، Lubricants اور پیٹرو کیمیکلز ، یہ تناسب سب ریفائنری کی ٹیکنالوجی اور خام مال کے قسم پر منحصر ہے ، اور ایران نے اس پر اپنی مرضی سے سپلائی مقرر کیا ہے ، جنگ کا اثر صرف میدان جنگ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر ہوتا ہے ، آبنائے ہرمز کے بند ہونے کی صورت میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت عالمی تجارت اور ترقی کے لئے اہم خطرات سے خبردار کیا گیا ہے ، آبنائے ہرمز کی بندش اشیائے ضروریہ قیمتوں میں اضافہ ہے ، جس کے سبب دنیا کے کمزور طبقات کی زندگی پر مصیبت ہے ،
تاریخ کے واقعات بتاتے ہیں کہ جنگوں نے کئی حالات کو بدل دیا ہے ، یہاں بھی جنگ ، تاریخ بدل رہی ہے ،
مظلوم انسانوں اور مسلمانوں کی خواہش یہی ہے کہ یہ جنگ اسرائیل کے مکمل خاتمے اور فلسطین اور بیت المقدس کی مکمل آزادی تک جاری رہے ، جبرا جنگ مسلط کرنے والوں کو نہیں چھوڑنا چاہئے یہی آخری موقع ھے اسرائیل کو تباہ و برباد کرنے کا . اور اس سے اچھا موقع عربوں کو کبھی نہیں مل سکتا امریکن فوجی اڈوں کو ختم کرنے یا اپنے علاقوں سے جان چھڑانے کا ، تیس تیس ، چالیس چالیس سال سے یہاں امریکی فوجی قابض ہیں . عربوں کو چاہئیے کہ ایران کا شکریہ ادا کریں .کم سے کم اس بہانے امریکیوں کو یہاں سے بھگائیں اور ایران کا بھر پور ساتھ دیں .
عربوں کو سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالی نے مسلم ممالک کو کیا کیا نعمتوں سے نوازا ھے ، سبحان اللّٰہ
اگر مسلمان اپنے ہوائی راستے اور بحری راستے بند کردیں تو ساری دنیا کے ممالک ایک دوسرے سے منقطع ہو جائیں گے ، اگر پٹرول بھی بند کردیں تو ساری دنیا میں قحط شروع ہوجائے گا ۔۔۔۔ اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو امت وسط بنایا اور مسلم ممالک کو دنیا کے وسط ( سنٹر ) میں رکھا ، اور اللہ تعالی نے ابراہیمؑ علیہ السلام کے ذریعہ مکہ کی تعمیر کروائی اور اسے دنیا کے سنٹر میں رکھا تاکہ آپ ساری دنیا کے سرکش ممالک کو کنٹرول کرسکیں ، لیکن سارے عرب الٹا غلام بنے ہوئے ہیں (ماخوذ) ....... بہرکیف اب بہترین موقع ہے عربوں کو ایران سے مل کر اپنی کھوئی طاقتوں کو بحال کرنے کا ۔۔۔۔۔۔۔جب تک اسرائیل تباہ نہیں ہو جا تا کوئی جنگ بندی معاہدہ نہیں کرنا چاہئیے ، کئی دفعہ معاہدے کرنے کے باوجود اسرائیل امریکہ معاہدے توڑتے رہے ہیں اور فلسطین سمیت عرب ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیئے بلکہ پٹرول سے پٹرول جلا دیئے ۔۔۔۔۔۔ مظلوم کی آہیں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی ، فلسطین و غزہ کی وہ معصوم جانیں ، وہ بے بس ماؤں کی تڑپ ان کی آہیں بیکار نہیں جائے گی ، خود پر ظلم ہو تو مذاکرات کی سوجھتی ہے دوسروں پر ظلم کرتے ہو تو کہتے ہیں کہ یہ اسی لائق ہے ، پچھلے دو سالوں سے ہزاروں فلسطینیوں کا قتل عام اور نسل کشی دنیا کے "سات ارب لوگ بلکہ عربوں " سمیت سب دیکھ رہے تھے ، بنو نظیر ، بنو قینقاع کی طرح فلسطین کا محاصرہ کرکے اسرائیل و امریکہ مل کر فلسطینیوں کو بھوکوں رکھ کر معصوم بچوں کی نسل کشی کررہے تھے ، مگر کسی نے جنگ بندی کا نام نہیں لیا ۔۔۔۔۔۔ جب اپنی باری آئی تو یہود و نصاری واویلا مچانا شروع کر دیتے ہیں ، مذاکرات پر دھیان جاتا ہے ، خود کی جان کی اہمیت ہے دوسروں کے جانوں کی اہمیت نہیں ۔۔۔۔۔۔ کئی چالاکیوں کو دہرایا جاتا ہے ،
بہرحال ایک سازش کے تحت دنیا میں کووڈ وائرس کے بہانے دنیا کو جکڑ کر رکھ دیا تھا ، ساری دنیا کو ایک ساتھ مقفل کر کے اپنے پلان کو مکمل کررہے تھے ، کووڈ کے وقفے پر غور کریں صرف کنسٹرکشن کے کام کو ڈھیل دی گئی تھی ، غریب طبقہ کچھ وقفہ محنت کررہا تھا اور مغربی ممالک اسی کنسٹرکشن کے نام پر اپنے ٹاور نصب کررہے تھے ، جس میں ایسی چیپ مقفل ہو جس کا کنکشن کانے دجال سے ہو ، خلیج کے اخبارات یہی بات لکھ رہے تھے تو اخبارات کے لئے خوف طاری کیا گیا کہ اخبارات کو ہاتھ نہ لگائیں وائرس ہے ، مکمل بڑا وائرس خود مغربیت ہی ہے ،
اور اب ایک نئی سازش کے تحت مسلمانوں پر جنگ مسلط کرکے دنیا کو جکڑنے کی کوشش کی جارہی ھے ۔۔۔۔۔ بہرکیف جب تک دنیا کا رجیم اسرائیل تباہ نہیں ہوتا اور فلسطین کو مکمل فلسطینیوں کے حوالے نہیں کرتا اس پر " تابڑ توڑ حملے کرتے رہنا چاہئیے بلکہ اس کی پشت پناہی طاقتوں کا بھرم توڑتے رہنا چاہئیے ۔۔۔۔۔۔ ,, کیا تمھارا خدا ہے ہمارا نہیں ،،
ایسے حالات میں ہمارے لئے عید کا موقع ، ہم نے پچھلے سال غزہ کے بچوں کی بھوک ، پیاس کو مدنظر رکھتے ہوئے ، روزوں کے بعد اللہ کا انعام سمجھ کر سنجیدگی سے عید منائی تھی ، لیکن ان ہی شہیدوں کی قربانیوں کا بدلہ ہے کہ اس عید تک اللّٰہ تعالیٰ ان کے وقت کا پھیر کردیا ،
دنیا میں عید مسلمانوں کے لئے خوشی شکر گذاری اور مسرت کا دن ہوتا ہے ، یہ وہ موقع ہے جب مسلمان رمضان المبارک کی عبادات کے بعد اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور آپس میں محبت ، اخوت اور بھائی چارے کا اظہار کرتے ہیں ، عید کا پیغام صرف خوشی منانا نہیں ہے ، بلکہ انسانیت ، امن اور انصاف کو فروغ دینا بھی ہے ، آج کے دور میں جب دنیا کے مختلف خطوں میں تنازعات اور جنگی حالات موجود ہیں ، خصوصاً مشرقی وسطیٰ میں جاری کشیدگی جیسے مسائل ، جن میں اسرائیل اور فلسطین ۔۔۔۔۔۔ ایسے حالات میں عید کا پیغام مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے ،
ایک طرف اسرائیل کی تباہی اور دوسری جانب ہماری عید کی خوشیاں ۔۔۔۔۔
عیدالفطر مسلمانوں کے لئے خوشی، شکر گزاری اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آتی ہے ، رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے بعد جب عید کا چاند طلوع ہوتا ہے تو ہر مسلمان کے دل میں مسرت کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے ، یہ دن اللہ تعالیٰ کی عبادت ، صبر اور تقویٰ کے بعد انعام کے طور پر عطا ہوتا ہے۔ مسلمان اس دن نئے کپڑے پہنتے ہیں، ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور خوشیاں بانٹتے ہیں ،
خاص طور پر فلسطین کی سر زمین پر جاری ظلم و ستم نے ہر صاحبِ دل کو بے چین کر رکھا ہے ، غزہ اور فلسطین کے مظلوم عوام مسلسل مشکلات اور مصائب کا سامنا کر رہے ہیں ، بے گناہ انسانوں کی جانیں جا رہی ہیں، گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور معصوم بچوں کے چہرے خوف اور درد کی کہانی سناتے نظر آتے ہیں ،
ایسے حالات میں مسلمان جب عید کی خوشیاں مناتے ہیں تو ان کے دل فلسطینی بھائیوں کے ساتھ بھی دھڑکتے ہیں ، اسلام ہمیں صرف اپنی خوشی تک محدود رہنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ مظلوموں کے دکھ درد میں شریک ہونے کا درس دیتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ عید کے موقع پر مسلمان خصوصی دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مظلوموں کی مدد فرمائے اور دنیا میں امن و انصاف قائم ہو ،
اسرائیل کی جارحیت اور ظلم کے باوجود یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ ظلم ہمیشہ باقی نہیں رہتا ، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم حد سے بڑھتا ہے تو اس کا انجام تباہی ہی ہوا ہے ، انصاف اور حق کی آواز کو کبھی دبایا نہیں جا سکتا ، دنیا کے مختلف ممالک اور انسانیت سے محبت رکھنے والے لوگ بھی آج فلسطین کے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں ،
عید کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ انسان محبت، ہمدردی اور انصاف کو فروغ دے ، ہمیں چاہیے کہ اپنی خوشیوں کے ساتھ ساتھ مظلوموں کو بھی یاد رکھیں، ان کے لئے دعا کریں اور جہاں تک ممکن ہو ان کی مدد کریں ، یہی حقیقی اسلامی اخوت اور انسانیت کا تقاضا ہے ،
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں امن و سکون قائم فرمائے، مظلوموں کی مدد کرے اور ہمیں ایسی عیدیں نصیب فرمائے جن میں پوری انسانیت امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار سکے ، عید مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کا بہترین موقع ہے ، نئی امید کے ساتھ زندگی کا آغاز کرتے ہیں ، آج کے نوجوان نسل پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جذبات کے بجائے علم ، تحقیق اور حکمت کے ساتھ دنیا کے مسائل کو سمجھیں ، تعلیم ، مکالمہ اور انسانی ہمدردی کے ذریعے ہی بہتر مستقبل کی تعمیر ممکن ہے ، ان شاءاللہ