کچھ رشتوں کی حقیقت تب سمجھ آتی ہے جب ان سے سابقہ پڑتا ہے، ورنہ دور سے تو ان میں صرف خامیاں ہی نظر آتی ہیں۔ مجھے اکثر یہ بات بری لگتی تھی کہ مرد کو عورت پر فوقیت کیوں دی جاتی ہے؟ دل میں ایک
ٹیس سی اٹھتی تھی کہ آخر "مرد" ہی کیوں؟
آج کے اس دور میں جہاں مرد و زن کی مساوات کی جنگ چھڑی ہے، "فیمینزم" کا ایک شور بپا ہے، اور سوشل میڈیا پر مرد کو اچھال کر عورت کو گھروں سے نکالنے کی مہم چلائی جا رہی ہے—یہ باتیں کہیں نہ کہیں مجھ پر بھی اثر انداز ہو رہی تھیں۔ اس کی بڑی وجہ علم کی کمی اور شریعت کے قوانین کے پیچھے چھپی اللہ کی حکمت سے لاعلمی تھی۔ یہ بات سمجھ سے پرے تھی کہ ہر معاملے میں صفِ اول میں مرد ہی کیوں کھڑا ہوتا ہے؟
مجھ جیسی نہ جانے کتنی ہی معصوم اور کم علم لڑکیاں اس پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اپنی سوچ منتشر کر لیتی ہیں۔ حتیٰ کہ یہ زہر اس قدر اثر کرتا ہے کہ عورت اگر چند پیسے کما لے، تو وہ کہنے لگتی ہے: "مجھے مرد کی ضرورت نہیں اور نہ ہی مجھے شادی کر کے کسی کی غلامی کرنی ہے۔"
آئیے! میں بتاتی ہوں کہ مرد کیا ہے۔ جب ہم سفر میں ہوتے ہیں، تو وہ ایک غیر محسوس محافظ بن کر ساتھ چلتا ہے۔ سب سے وزنی سامان اٹھانے کے باوجود اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میرے ہاتھ خالی ہوں اور میں کسی ملکہ کی طرح اس کے ساتھ چلوں، جبکہ وہ خود بوجھ تلے دبا ہوتا ہے۔ وہ آگے آگے چلتا ہے تاکہ راستہ ہموار کرے اور آنے والی ہر رکاوٹ کو میرے پہنچنے سے پہلے آسان کر دے۔
وہ ایسی شخصیت ہے جو خود تو شاید پرانے ملبوسات میں نظر آئے، لیکن بازار میں آنے والا ہر نیا ڈیزائن گھر کی عورتوں کے لیے خریدنے کو تیار رہتا ہے۔
مجھے اپنے شوہر سے شکایت تھی کہ وہ اکثر دیر رات تک گھر سے باہر رہتے ہیں اور وجہ "دوستوں کے ساتھ ہونا" بتاتے ہیں۔ میں نے غصے میں ارادہ کیا کہ آج ان کی خبر لوں گی، لیکن اچانک ایک آواز نے مجھے ساکت کر دیا۔ میرے کمرے کے باہر کھڑے سسر صاحب کسی سے کہہ رہے تھے: "اچانک کسی مریض کی کال آئی ہے اور وہ (شوہر) ہسپتال گیا ہے، آج کل ایمرجنسی میں اسے رات کو ہی جانا پڑ رہا ہے۔"
میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ یہ وہ شخص تھا جو اپنی نیندیں قربان کر کے خاموشی سے میری زندگی کی آسائشیں مہیا کر رہا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس کے جوتے صاف کر دوں جو میری زندگی کی مشقتیں اپنے سر اٹھانے کے لیے ان قدموں میں پہنے جاتے ہیں، تو دیکھا کہ اس کے اپنے جوتے پھٹ چکے ہیں۔ وہی شخص جو کل رات مجھے "برانڈڈ" میک اپ دلانے کی بات کر رہا تھا، اسے اپنی ذات کا خیال ہی نہیں تھا۔
شاید اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ کے سوا کسی کو سجدہ جائز ہوتا، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
عورتیں جذباتی ہوتی ہیں اور اکثر جلد بازی میں فیصلے سناتی ہیں۔ ان میں ظلم سہنے کی صلاحیت تو بہت ہے، مگر کبھی کبھی قوتِ برداشت جواب دے جاتی ہے اور وہ ناشکری کر بیٹھتی ہیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جس مرد کو ہم اپنا حریف (Competitor) سمجھ بیٹھے ہیں، وہی ہمارے سکون کا اصل حصار ہے۔
اللہ نے مرد کو "قوام" بنا کر اس پر بوجھ ڈالا ہے، اسے برتری کا تمغہ نہیں بلکہ حفاظت کی ذمہ داری دی ہے۔ عورت کی اصل جیت مرد سے مقابلہ کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے ساتھ مل کر ایک ایسا گھرانہ تشکیل دینے
میں ہے جہاں شکر گزاری اور باہمی احترام کا راج ہو۔
از قلم زا-شیخ