پورا ہفتہ ایک ایک پل گن کر گزارا تھا۔ نظریں ہر آہٹ پر دروازے کی طرف اٹھتیں کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے، شاید بابا کا تابوت ہی پہنچ جائے، شاید ایک بار ان کا دیدار نصیب ہو جائے۔ عید کی وہ تمام تیاریاں، وہ سلائی کیے ہوئے کپڑے، وہ میچنگ کی چوڑیاں اور جوتیاں... سب ایک ڈھیر کی صورت کمرے کے کونے میں پڑی تھیں۔ جو چیزیں کل تک میری زندگی کا سب سے بڑا جنون تھیں، آج وہ مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھیں۔
پھر عید کی صبح ہوئی... وہی دن جس کے لیے بابا نے وہ "عیدی" بھیجی تھی جو میری کل کائنات تھی۔
مگر عید کی نماز کے ساتھ ہی وہ خبر آئی جس نے میرا رہا سہا حوصلہ بھی توڑ دیا۔ فون کی وہ گھنٹی میرے وقار کی موت کی خبر لائی: "بیٹی! حالات سازگار نہیں، بابا کی تدفین وہیں پردیس کی مٹی میں کر دی گئی ہے"۔
ایک پل میں سب کچھ ختم ہو گیا۔ وہ کپڑے جنہیں پہننے کے لیے میں بے قرار تھی، اب کفن سے بھی زیادہ سفید لگ رہے تھے۔ وہ جیولری، وہ پرس، وہ خوشیاں... سب اس ایک خبر کے ساتھ ہی دفن ہو گئیں۔ میرا غرور، میرا مان، میرا وہ باپ جو سات سمندر پار بیٹھ کر بھی میری ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا، آج وہیں کی خاموش مٹی کا حصہ بن گیا۔
لوگ عید ملنے آ رہے تھے، اور میں اس عیدی کی رقم کو دیکھ رہی تھی جو اب کاغذ کا ایک بے جان ٹکڑا بن چکی تھی۔ یہ وہ رقم تھی جو اب ہمیشہ کے لیے رفاقت چھوڑ گئی تھی۔ عید تو آئی، مگر میرے لیے یہ عید نہیں، میرے باپ کی غائبانہ تدفین کا دن تھا۔ میری زندگی، میرے ناز اور میرے نخروں کی تدفین کا دن تھا۔
آج نہ جانے کتنے گھروں میں عید کی خوشیاں ہوں گی، مگر میرے گھر کی رونق تو ہمیشہ کے لیے پردیس کی نذر ہو گئی۔
اب ہر عید پر جب لوگ اپنے پیاروں سے ملیں گے، میں اس مٹی کو یاد کروں گی جہاں میرا "آسمان" دفن ہے، اور جس کا آخری دیدار بھی مجھے نصیب نہ ہو سکا
تھا۔
ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
از قلم: زا-شیخ