*پالنپور سے افقِ عالم تک — ایک مردِ دعوت کی داستان(مولانا عمر صاحب پالنپوری نور اللہ مرقدہ*)
*
*پالنپور سے افقِ عالم تک — ایک مردِ دعوت کی داستان(مولانا عمر صاحب پالنپوری نور اللہ مرقدہ*)
*
19 مارچ، 2026
زمانۂ بےثبات کے افق پر کچھ نفوسِ قدسیہ ایسے جلوہ گر ہوتے ہیں جن کی حیات محض ایام کا سلسلہ نہیں بلکہ نورِ ہدایت کا کارواں ہوتی ہے، وہ اپنے وجود سے قلوبِ مردہ میں زندگی کی رمق پیدا کرتے ہیں، اور اپنی نسبت سے امت کے سینے ایمان کی حرارت سے منور ہو جاتے ہیں، انہی رجالِ ربانی اور اصحابِ صفا میں ایک نامِ نامی مولانا عمر صاحب پالنپوری رحمہ اللہ کا ہے، جو پالنپور کی مبارک سرزمین سے اٹھنے والی وہ عظیم ہستی تھے جن کی خوشبوئے اخلاص نے دنیا کے گوشے گوشے کو معطر کر دیا، جن کا ذکرِ خیر سننے والا اپنے دل میں عجب سرور محسوس کرتا ہے اور جن کی یاد آتے ہی نگاہوں میں عقیدت کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں، مولانا کی زندگی سراپا دعوت تھی، سراپا تبلیغ تھی، سراپا مجاہدہ و ریاضت تھی، ان کا ہر لمحہ اسی مبارک مشن کے لیے وقف تھا جسے اکابر نے امت کے لیے سرمایۂ نجات بنایا، تبلیغی جماعت میں مولانا کا کردار نہایت نمایاں اور تابناک تھا، وہ قافلۂ دعوت کے ایسے سالار تھے جن کے قدموں میں اخلاص کی خاکساری، جن کی پیشانی پر للّٰہیت کی تابندگی اور جن کی نگاہ میں دردِ امت کی بےکراں وسعت موجزن تھی، انہوں نے دنیاوی منصب و جاہ کو کبھی خاطر میں نہ لایا بلکہ اپنی جوانی، اپنی توانائی، اپنی آسائش اور اپنی راحت سب راہِ دعوت میں نثار کر دی، ان کی زندگی سفرِ دین سے عبارت تھی، وہ ملکوں ملکوں گئے، شہروں شہروں پھرے، بستیوں بستیوں پہنچے، اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کو نورِ ایمان سے منور کیا، ان کے قدم جہاں پڑتے وہاں روحانیت کی بہار آ جاتی، ان کی مجلس جہاں سجتی وہاں قلوب کی دنیا بدل جاتی، وہ محض مسافر نہ تھے بلکہ پیامبرِ محبت تھے، ان کا سفر جسمانی نہیں بلکہ روحوں کو بیدار کرنے والا سفر تھا، اللہ تعالیٰ نے مولانا کو بیان کا عجیب ملکہ عطا فرمایا تھا، ان کی زبان میں حلاوت، ان کے الفاظ میں تاثیر، ان کے لہجے میں سوز و گداز اور ان کی نصیحت میں حکمت کی چاشنی تھی، وہ جب دعوت کی بات کرتے تو دل جھک جاتے، جب آخرت کا ذکر کرتے تو آنکھیں اشکبار ہو جاتیں، ان کی گفتگو محض الفاظ کا مجموعہ نہ تھی بلکہ نور کے چراغ تھے جو سینوں میں روشن ہو جاتے، ان کی سادگی میں جلال تھا اور ان کے اخلاص میں جمال، وہ تواضع کے پیکر تھے مگر دعوت کے میدان میں کوہِ استقامت، ان کی محنتوں نے امت کو یہ سبق دیا کہ دین کی خدمت ہی اصل سرمایہ ہے اور دعوت الی اللہ ہی سب سے بڑی سعادت، مولانا عمر صاحب پالنپوری رحمہ اللہ کا نام تاریخِ دعوت میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، وہ اگرچہ پردۂ خاک میں چلے گئے مگر ان کے سفر باقی ہیں، ان کی محنت کی خوشبو باقی ہے، ان کی آواز آج بھی دلوں میں گونجتی ہے، اور ان کا نورانی نقشِ قدم آج بھی طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور امت کو ان کے اخلاص و دعوت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔
محمد مصعب پالنپوری