رمضان المبارک رحمت، برکت اور تقویٰ کا مہینہ ہے۔ اس مقدس مہینے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے اخلاق، معاملات اور خصوصاً تجارت میں زیادہ سے زیادہ دیانت اور انصاف کو اختیار کرے۔ اہلِ دل ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ بازار میں انصاف قائم رکھنا بھی ایک طرح کی عبادت ہے، کیونکہ تجارت بندگانِ خدا کے ساتھ خیر خواہی اور امانت داری کا معاملہ ہے۔
لیکن افسوس کہ اِس بابرکت مہینے میں ، جو ایثار اور ہمدردی کا درس دیتا ہے، تاجر الٹ منظر پیش کررہے ہیں۔ رمضان آتے ہی وہ چیز جو عام دنوں میں سو روپے کی ہوتی ہے، اچانک دو سو روپے کی ہو جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تقویٰ اور رحمت کے اس مہینے کو بعض لوگ منافع بڑھانے کا موقع سمجھتے ہیں۔ حالانکہ رمضان کا پیغام یہ ہے کہ انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے، نہ کہ ان کی ضرورتوں کو دیکھ کر قیمتوں میں اضافہ کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ دیانت دار تاجر کی دکان اگرچہ چھوٹی ہو مگر برکت سے بھری رہتی ہے، جبکہ بے انصاف تاجر کا وسیع کاروبار بھی دل کی بے سکونی اور وبالِ جان بن جاتا ہے۔
 تجارت میں اصل کامیابی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب نفع کے ساتھ ساتھ بندۂ خدا کی خیر خواہی بھی پیشِ نظر ہو۔ جو تاجر لوگوں کی ضرورت کو دیکھ کر قیمتیں بڑھاتا ہے وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتا ہے، مگر معاشرے کے اعتماد کو مجروح کر دیتا ہے۔
لہٰذا یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ تجارت کا حسن منافع میں نہیں، امانت اور انصاف میں ہے۔ لوٹ مار سے جمع کیا گیا مال بظاہر خزانہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں وہ معاشرے کے اعتماد کا جنازہ ہوتا ہے۔ 
جب تاجر دیانت اور رحم دلی کو اپنا شعار بنا لیتا ہے تو معیشت معاشرے میں سکون، اعتماد اور برکت کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ 

رشحـات قلم ۔ محـمد شـاہد رحـمانی