پسند کی شادی کے بعد صورتِ حال کچھ یوں ہوتی ہے 
جو پسند کی شادی کر لیتا ہے اور بعد میں کچھ نئی عادتوں سے واقف ہوتا ہے، وہ الجھن میں پڑ جاتا ہے۔
‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ ‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ ‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌
ایک لڑکی بہت اچھا لباس پہنے ہوئے ، عمدہ خوشبو لگاۓ ، میک اپ کیے ہوئے ہے۔ 
لڑکے کو پسند آ جاتی ہے، شادی ہو گئی۔ 
شادی کے بعد جب بیوی نے ویسے ہی کپڑے، خوشبوئیں اور میک اپ مانگا تو ہوش ٹھکانے آئے
کہ یہ سب مفت نہیں تھا؛ پہلے ابا جی کے پیسوں سے آتا تھا، اب شوہر کی جیب سے آئے گا۔
شادی سے پہلے سجی بنی لڑکی کالج یا آفس میں چند گھنٹوں کے لیے نظر آتی تھی۔ 
شادی کے بعد نہار منہ، بغیر دانت صاف کیے، بغیر ہئیر اسٹائل کے اور شکن آلود کپڑوں میں نظر آتی ہے”۔ 
تو۔۔۔۔
 تمام خوش کن خیالات اڑن چھو ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح ڈیٹ پر فاسٹ فوڈ یا چائنیز کھاتے ہوئے چھری کانٹے کی مہارت، نیپکن کا نفیس استعمال، مشروب جرعہ جرعہ پینا، سب کچھ حسین لگتا ہے۔ 
لیکن شادی کے بعد وہی لڑکی آپ کے ساتھ دسترخوان یا ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر جب دال، ساگ، بھنڈی، توری روٹی کے ساتھ کھاتی ہے، دال چاولوں پر ڈال کر انگلی سے اچار کی پھانک توڑتی ہے اور استعمال شدہ برتن سمیٹتی ہے تو وہی لڑکی اتنی حسین نہیں لگتی۔

وہی لڑکی شادی سے پہلے جب اپنے گھر کے معاملات لڑکے سے ڈسکس کرتی ہے،
 اپنی بھابھی، سہیلی یا بہن بھائی کا گلہ کرتی ہے تو لڑکا فخر محسوس کرتا ہے کہ مجھے قابلِ اعتماد سمجھا گیا اور صاحبِ رائے بھی۔ 
لیکن جب وہی لڑکی شادی کے بعد نند، ساس، دیور، جیٹھ یا دیورانی، جیٹھانی کا قصہ شوہرِ نامدار کو سناتی ہے تو شوہر نامدار زچ ہو جاتے ہیں اور رائے دینے سے گریز کرتے ہیں،
 بلکہ
 انتہائی صورتِ حال میں بیگم کی خاطر خواہ تواضع بھی فرماتے ہیں۔
اب وہی لڑکی جمائی بھی لے گی اور ڈکار بھی۔
سر بھی کھجائے گی۔
لڑکی وہی ہے، لڑکا بھی وہی ہے۔ بس معروضی حالات کی تبدیلی سے جذبات بدل جاتے ہیں اور ترجیحات بھی۔
اگر لڑکا اس سب کی توقع نہیں کر رہا تھا تو دراصل وہ شادی نہیں، احمقوں کی جنت کا خواہشمند تھا۔
اسی طرح اگر لڑکی بھی خواب ناک پھولوں کے ہنڈولے میں جھولنے کے خواب دیکھ رہی تھی تو وہ بھی احمقوں کی سردار ہی تھی۔
پسند کی شادی ہو یا روایتی،
رشتہ تب چلتا ہے جب توقعات کم اور برداشت زیادہ ہو۔
ورنہ خوابوں کی جنت جلد ہی سوالوں کی دنیا میں بدل جاتی ہے۔
اصل محبت وہ ہے جو سجی سنوری شاموں سے آگے بڑھ کر،
بکھری صبحوں کو بھی قبول کر لے۔
عائشہ ❤