آثارِ صحابہ کی اہمیت

9058996629

٨/ رمضان ١٤٤٧ھ


  صحابہ کرام -رضوان اللہ علیہم اجمعین- اس امت کے مقتدا‌ ہیں، ان کے بڑے احسانات ہیں، شریعت کو بڑی دیانت کے ساتھ انہوں نے امت تک پہنچایا ہے، ان کا سب سے بڑا امتیازی وصف "حضور پرنور -صلی اللہ علیہ وسلم- کی صحبت" ہے، اس کی برکت سے ان کے اندر بے شمار خوبیاں پیدا ہوئیں، علوم میں گہرائی ملی، غیر معمولی فہم عطا ہوا، شریعت کے رمز شناس بنے، ان کی نص فہمی سب سے بالاتر ہے۔

   ان کی باتوں، فیصلوں اور فتووں کو "آثار" کہا جاتا ہے، شریعت میں اس کی بڑی اہمیت ہے، عمل کے ثابت کرنے میں اس کا بڑا کردار ہے، ہر زمانے کے ائمہ نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے، اپنے موقف پر ان کی آراء کو فوقیت دی ہے۔

   قابلِ عمل باتوں کی نشاندہی میں ان "آثار" کا بڑا دخل ہے، حکم کے منسوخ ہونے کی اطلاع بسا اوقات انہیں سے ملتی ہے، ان کی غیر قیاسی باتیں "مرفوع حدیث" کا درجہ رکھتی ہیں۔

   حضور -صلی اللہ علیہ وسلم- کی باتوں کو بیان کرنے میں بہت محتاط تھے، غلط بات کے منسوب ہوجانے کا اندیشہ انہیں ہر وقت لگا رہتا تھا، اسی وجہ سے انہوں نے حدیث بیان کرنے میں احتیاطی روش اپنائی، حضور -صلی اللہ علیہ وسلم- سے بارہا سنی ہوئی باتوں میں بھی "سماع" کی وضاحت نہیں کی۔

   امت نے آثار کے ساتھ مرفوع حدیث جیسا معاملہ کیا، ان آثار میں حضور -صلی اللہ علیہ وسلم- کی بے شمار باتیں پنہاں ہیں، شریعت کا معتد بہ علم ان میں موجود ہے‌۔

   علماء نے اس پر عمل کرنے کی پرزور ترغیب دی ہے، اس سے صرفِ نظر کرنے کو محرومی قرار دیا ہے، مسئلے کے ثبوت میں اس کو مضبوط ترین دلیل سمجھا ہے، اسی میں ہمارے لیے کامیابی ہے، ہر مسئلے میں اس سے پہلو تہی برتنا اور مرفوع روایت کا متلاشی ہونا کم علمی کی بات ہے، کج فہمی کی علامت ہے، دین داری نہیں بل کہ ہوی پرستی ہے۔