*احکام رمضان المبارک*


*ڈکار اور قئے کے واپس لوٹ جانے یا لوٹا لینے کا حکم*

اگر خود بہ خود قئے آئی یا جان بوجھ کر قئے کی مگر منہ سے باہر نہیں نکلی بلکہ خود ہی واپس لوٹ گئی یا قئے کرنے والے نے اپنے ارادے سے واپس لوٹا لی تو یہ تفصیل ہوگی 

1))۔ اگر ڈکار لینے کی وجہ سے منہ میں کچھ کھانا یا سالن آگیا اور وہ خود بہ خود واپس لوٹ گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا البتہ اگر ڈکار لینے والے والے نے اپنے ارادے سے چنے کے برار یا اس سے زیادہ کو واپس لوٹا لیا تو پھر روزہ ٹوٹ جائے گا، اور چنے سے کم ہونے کی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

2))۔ اگر کسی کو خود بہ خود قئے آئی اور وہ تھوڑی تھی پھر خود ہی واپس لوٹ گئی تب بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا البتہ اگر قئے کرنے والے نے اپنے ارادے سے چنے کے برار یا اس سے زیادہ کو واپس لوٹا لیا تو پھر روزہ ٹوٹ جائے گا اور چنے سے کم ہونے کی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

3))۔ کسی کو خود بہ خود قئے ہوئی اور وہ *منہ بھر* کر تھی پھر خود بہ خود واپس لوٹ گئی تب بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا البتہ اگر قئے کرنے والے نے اپنے ارادے سے اسے واپس لوٹا لیا تو پھر روزہ ٹوٹ جائے گا چاہے چنے سے کم ہو یا زیادہ؛ 

4))۔ کسی نے جان بوجھ کر قئے کی اور وہ تھوڑی تھی پھر اچانک سے خود بہ خود ہی واپس لوٹ گئی تو اس صورت میں بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا البتہ اگر قئے کرنے والے نے اپنے ارادے سے چنے کے برار یا اس سے زیادہ کو واپس لوٹا لیا تو پھر روزہ ٹوٹ جائے گا

5))۔ کسی نے جان بوجھ کر قئے کی اور وہ *منہ بھر* کر تھی تو اسے واپس لوٹائے یا نہیں دونوں صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ 
٘
*اگر قئے ہوجانے کے بعد کچھ کھا پی لے تو ؟*
جیسا کہ ابھی بتایا گیا کہ اگر کسی شخص کو خود بہ خود قئے ہوجائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن کسی کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا اس نے سمجھا کہ شاید روزہ ٹوٹ گیا ہوگا، چنانچہ اس نے قئے ہوجانے کے بعد جان بوجھ کر کچھ کھا لیا یا پی لیا تو اب اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، اور صرف ایک دن کی قضا واجب ہوگی، کفارہ واجب نہیں ہوگا۔