(5)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
.........................
از قلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com 8292552391
..................
: بیوی — سب سے بڑی نعمت یا سب سے بڑی آزمائش
_______________
الحمدللہ! نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له۔
وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔
معزز قارئین کرام؛؛
اللہ رب العزت نے انسان کی زندگی کو سکون و اطمینان کے لیے بنایا ہے، اور اس سکون کی سب سے بڑی بنیاد "میاں بیوی کا رشتہ" ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
(الروم: 21)
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔"
؛؛ بیوی سب سے بڑی نعمت؛؛
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"الدنيا متاع وخير متاعها المرأة الصالحة"
(مسلم)
"دنیا سامان ہے اور دنیا کا سب سے بہترین سامان نیک بیوی ہے۔"
نیک بیوی شوہر کے لیے سکون ہے، اس کے دین میں مددگار ہے، اس کی عزت و غیرت کی محافظ ہے، اس کے بچوں کی بہترین تربیت کرنے والی ہے۔ نیک بیوی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ شوہر کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
"نیک بیوی شوہر کے لیے زندگی کی سب سے بڑی راحت ہے، کیونکہ وہ گھر میں سکون دیتی ہے اور دین میں مضبوطی پیدا کرتی ہے۔"
َ؛؛ واقعاتِ صحابہ کرامؓ
؛؛ حضرت عمرؓ کا صبر؛؛
ایک شخص حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور کہا: "امیرالمؤمنین! میری بیوی بدزبان ہے۔" حضرت عمرؓ نے فرمایا: "بیوی تمہارے لیے سکون ہے، تمہارے کھانے کی پکانے والی ہے، بچوں کی پرورش کرنے والی ہے۔ اگر کبھی زبان سے سخت بات کر بھی دے تو برداشت کر لو۔"
یہ صبر اور شکر کی تعلیم ہے۔
حضرت ابودرداءؓ اور حضرت ام الدرداءؓ
ام الدرداءؓ نے شوہر کو یاد دلایا کہ عبادت کے ساتھ ساتھ بیوی کے حقوق بھی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی تائید فرمائی۔ یہ نیک بیوی کی رہنمائی ہے۔
حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ
حضرت فاطمہؓ گھر کا کام کرتیں، ہاتھ چھل جاتے، لیکن شکایت نہیں کرتیں۔ یہ شوہر کے ساتھ صبر اور قناعت کی اعلیٰ مثال ہے۔
بیوی سب سے بڑی آزمائش
لیکن اگر بیوی بدزبان، دین سے غافل اور دنیا پرست ہو تو وہ شوہر کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن جاتی ہے۔ قرآن میں صاف ارشاد ہے:
﴿إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ﴾
(التغابن: 14)
"بے شک تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن بھی ہیں، پس ان سے بچو۔"
یہاں دشمنی سے مراد یہ نہیں کہ وہ قتل و قتال کرے، بلکہ دشمنی یہ ہے کہ وہ دین کی راہ سے ہٹا دے، شوہر کو اللہ کی یاد سے غافل کر دے، اور اسے گناہ پر مجبور کرے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إنما الدنيا حلوة خضرة، وإن الله مستخلفكم فيها، فينظر كيف تعملون، فاتقوا الدنيا واتقوا النساء"
(مسلم)
"دنیا میٹھی اور سبز (دل کو لبھانے والی) ہے، اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ تم اس میں کیسے عمل کرتے ہو، لہٰذا دنیا سے بچو اور عورتوں کے فتنے سے بچو۔"
حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر
ان کی بیوی نے بعض اوقات کمزوری دکھائی، لیکن ایوبؑ نے صبر کیا۔ اللہ نے آخرکار دونوں کو رحمت عطا کی۔
حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ کی بیویاں
قرآن نے ان دونوں کی بیویوں کو مثال بنا کر کہا کہ وہ شوہروں کے ساتھ رہ کر بھی کافر رہیں۔ یہ بتاتا ہے کہ بری بیوی شوہر کے لیے آزمائش ہے
حضرت عمرؓ کا قول
آپ فرماتے تھے: "بری بیوی مرد کے لیے دنیا میں سب سے بڑی مصیبت ہے۔"
نیک بیوی کی نشانیاں:
نماز و روزے کی پابند ہو
شوہر کی عزت و وقار کی محافظ ہو
حلال پر قناعت کرے
شوہر کو دین کی یاد دلائے
بری بیوی کی نشانیاں:
زبان دراز ہو
شوہر کو حرام کی طرف دھکیلے
دنیا کے مطالبات میں الجھائے
دین سے غافل کرے
سلف صالحین کے اقوال
امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں: "نیک بیوی شوہر کے دین میں مددگار ہے۔"
ایک بزرگ نے کہا: "بیوی اگر نیک ہو تو گھر جنت کا باغ ہے، اور اگر بری ہو تو گھر جہنم کا ٹکڑا ہے۔"
اصل معیار
اب سوال یہ ہے کہ بیوی نعمت ہے یا آزمائش؟
اگر وہ شوہر کے ساتھ دین میں مددگار ہے → تو وہ سب سے بڑی نعمت ہے۔
اگر وہ دنیا کے پیچھے لگا کر آخرت بھلا دیتی ہے → تو وہ سب سے بڑی آزمائش ہے۔
اگر وہ نیک سیرت ہے → تو وہ جنت کی ضمانت ہے۔
اگر وہ بدزبان اور دین سے غافل ہے → تو وہ جہنم کا دروازہ کھولنے والی ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"عورت سے نکاح چار چیزوں پر کیا جاتا ہے: مال، حسب و نسب، حسن اور دین۔ پس تم دیندار کو ترجیح دو تاکہ کامیاب رہو۔"
(بخاری و مسلم)
نتیجہ اور نصیحت
میرے محترم بھائیو!
بیوی اگر نیک ہو تو یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور اگر دین سے غافل ہو تو یہ انسان کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہے۔
اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ نکاح کے وقت دین کو ترجیح دے، اور شادی کے بعد بیوی کی اصلاح اور تربیت کرے۔ کیونکہ نیک بیوی نہ صرف گھر کو جنت بناتی ہے بلکہ شوہر کو آخرت میں بھی کامیاب کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک بیویوں اور نیک خاندان کی نعمت عطا فرمائے، اور اگر کبھی بیوی یا اولاد آزمائش بن جائیں تو ہمیں صبر و حکمت کے ساتھ دین پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔