"الحمد للہ رب العالمین، والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم۔
میرے محترم بزرگوں اور دوستو! ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ پاک نے ہمیں دنیا کے کروڑوں انسانوں میں سے چن کر اپنے گھر میں، اپنی اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی باتوں کے لیے بٹھا دیا ہے۔"
"بھائیو! بظاہر ہم چند لوگ ایک چٹائی یا فرش پر بیٹھے نظر آ رہے ہیں، لیکن ایمان کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ کوئی معمولی جگہ نہیں ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ 'جب کچھ لوگ اللہ کے گھر میں ذکر کے لیے بیٹھتے ہیں، تو فرشتے انہیں اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں'۔
تصور کریں! زمین سے لے کر آسمان تک فرشتوں کا ایک ستون بن جاتا ہے جو صرف اس مجلس کی برکت دیکھنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ کی رحمت ہمیں ایسے گھیر لیتی ہے جیسے ماں اپنے بچے کو سینے سے لگا لیتی ہے۔"
"اس مجلس کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ جب ہم یہاں اللہ کا نام لیتے ہیں، تو اللہ پاک عرشِ معلیٰ پر فرشتوں کی جماعت میں ہمارا تذکرہ فرماتا ہے۔ اللہ فخر سے فرماتا ہے: 'اے میرے فرشتو! دیکھو میرے یہ بندے دنیا کی لذتیں چھوڑ کر، کاروبار چھوڑ کر میرے لیے بیٹھے ہیں، گواہ رہنا میں نے ان سب کو معاف کر دیا'۔"
"رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسی مجلس سے ہوا جہاں لوگ دین سیکھ رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: 'جب تم جنت کے باغوں (کیاریوں) کے پاس سے گزرو تو وہاں سے کچھ چگ لیا کرو'۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! دنیا میں جنت کے باغات کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'علم اور ذکر کی مجلسیں جنت کے باغات ہیں'۔"
"بھائیو! جس طرح لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے، ویسے ہی دنیا کی دوڑ دھوپ سے ہمارے دلوں پر غفلت کا زنگ چڑھ جاتا ہے۔ یہ دینی مجلسیں اس زنگ کو اتارنے کا کارخانہ ہیں۔ یہاں بیٹھنے سے ایمان تازہ ہوتا ہے، آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے اور اللہ کی محبت دل میں اترتی ہے۔ یہاں کی ایک گھڑی کی بیٹھک، برسوں کی تنہا عبادت سے بہتر ہو سکتی ہے اگر نیت خالص ہو۔"
"میرے بھائیو! یہ وقت جو ہم نے یہاں لگایا، یہ ضائع نہیں ہوا۔ یہی وہ وقت ہے جو کل قیامت کے دن ہمارے کام آئے گا۔ یہاں سے اٹھنے سے پہلے یہ نیت کریں کہ جو باتیں ہم نے سنیں، ان پر عمل کریں گے اور اس نور کو اپنے گھروں اور بازاروں تک لے کر جائیں گے۔
کون ہے جو اس مجلس کی لاج رکھتے ہوئے یہ عزم کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر گزارے گا؟"
تحریر محمد مسعود رحمانی ارریاوی