وصل کے نام پر زوال کی داستان
15 فروری، 2026
یہ دنیا عجب تماشا گاہِ فتنہ ہے، یہاں کبھی حق کو باطل کے لباس میں پیش کیا جاتا ہے اور کبھی گناہ کو محبت کی خوشبو میں لپیٹ کر دلوں کے بازار میں بیچا جاتا ہے۔ یوں ہی ایک دن جسے اہلِ فرنگ نے ویلنٹائن ڈے کا نام دیا، زمانے کے افق پر سرخ گلاب کی صورت طلوع ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ گلاب نہیں بلکہ تہذیبِ مغرب کے خار دار باغ کا وہ پھول ہے جس کی مہک میں زہرِ ہلاہل پوشیدہ ہے۔ یہ دن بظاہر عشق و محبت کا پیامبر بن کر آتا ہے مگر اس کے دامن میں محبت نہیں بلکہ ہوس کی آوارگی ہے، اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں بلکہ شیطانی فریب کی دبیز نقاب ہے۔ محبت تو وہ پاکیزہ جذبہ ہے جو دل کے نہاں خانوں میں حیا کی چادر اوڑھ کر بیٹھتا ہے، محبت تو وہ نور ہے جو نکاح کی قندیل سے روشن ہوتا ہے، مگر یہ کیسا عشق ہے جو بازاروں میں بکنے لگے، یہ کیسی الفت ہے جو بے پردگی کی دہلیز پر دم توڑ دے۔ ویلنٹائن ڈے دراصل محبت نہیں، یہ نفس کی شہنشاہی کا جشن ہے، یہ شہوت کے بت کدے کی رونق ہے، یہ وہ میلہ ہے جہاں حیا کے پروانے جلتے ہیں اور ایمان کے چراغ بجھتے ہیں۔ یہ تہوار نوجوانوں کے دلوں میں ایسے خواب بوتا ہے جو تعبیر کے بجائے تباہی دیتے ہیں، یہ ان کی نگاہوں میں ایسی چمک پیدا کرتا ہے جو آخرکار اشک بن کر ٹپکتی ہے۔ یہ مغرب کا وہ تحفہ ہے جس کی ظاہری رنگینی میں باطن کی تاریکی چھپی ہوئی ہے، یہ وہ ساز ہے جس کی لے میں خوشی نہیں بلکہ روح کی شکستگی ہے۔ اہلِ ایمان جانتے ہیں کہ محبت کا اصل مفہوم صرف سرخ گلاب نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی ہے، صرف تحفے نہیں بلکہ عفت کی پاسبانی ہے۔ ویلنٹائن ڈے در حقیقت محبت کے نام پر اخلاق کی شکست، حیا کی موت اور تہذیب کی غارت گری کا عنوان ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ یہ دن محبت کا نہیں، یہ فریبِ محبت کا دن ہے، یہ گلاب کا نہیں، یہ خار کا دن ہے، یہ وصل کا نہیں، یہ زوال کا دن ہے۔ اللہ ہمیں اس فتنۂ رنگ و بو سے محفوظ رکھے اور محبت کو اس کے اصل مقام حیا، عفت اور شریعت کی روشنی میں قائم رکھے، آمین۔
محمد مصعب پالنپوری