📃🇮🇳📃🇮🇳📃🇮🇳📃🇮🇳📃🇮🇳
*طاقتور عورت سے طاقتور معاشرہ بنے گا*

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم (اما بعد)
أعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا (صدق اللہ العظیم)
قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحۃ
(اوکما قال علیہ الصلاۃ والسلام)

آج وقت کے اہم تقاضے پر اصلاح معاشرہ سے منسلک ایسے نازک موقع پر میں ایک حساس موضوع لے کر آپ کے سامنے تشریف فرما ہوں اللہ پاک سے دعا کرتی ہوں کہ مجھے موضوع کا مکمل حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
دیکھیے ہر چیز کی ایک اصل ہوتی ہے مثال کے طور پر درخت کی اصل بیج ہے درخت پر ہروقت کا پھل آنا مشکل تب ہوتا ہے جب اس درخت کی اچھی دیکھ بھال نہ کی جائے اسی طرح درخت اس وقت تک عروج پذیر نہیں ہو سکتا تب تک پودے کی حالت میں اس کو صحیح ڈھالا نہ جائے اور وہ پودا اس وقت نہیں اگ سکتا تب تک بیج صحیح نہ ہو جائے اور بیج اس وقت تک پودے کی پیدائش نہیں دے سکتی تب تک اس کو کھیتی دان زمین میں نہ بویا جائے اسی لیے ہر چیز کا حسن انجام کی اصل اس کی جڑکا حسین آغاز ہوتا ہے اسی طرح ماحول اور معاشرہ ایک انسانی زندگی کا اہم حصہ ہے اور اس کی درستگی اور بگاڑ کا سبب ایک عورت کے حصے میں رکھا گیا ہے جس خاندان کی عورت بااخلاق ہوتی ہے اس کا خاندان بااخلاق ہونے کا تصور کیا جاتا ہے اور جس ماں میں خلق حسنہ اس کی اولادوں میں اچھے کردار والا پیدا ہو سکتا ہے اور جس بستی میں نیک خاتون کا سایہ ہو اس کی فکر تڑپ سے اس بستی کے سدھرنے کا امکان ملتا ہے عورت کو اللہ نے جسمانی طور پر جتنا نازک اور معصوم بنایا ہے اتنا ہی کردار میں مضبوط اور مستحکم بھی بنایا ہے اللہ کے پاس قوی بازو رکھنے والے اعتبار نہیں ہے قوی کردار رکھنے کا اعتبار ہوتا ہے قوم کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لیے قاضی کے ہدایات سے زیادہ عورت کی مومنانہ صفات مددگار ثابت ہوتی ہے
یاد رکھیے! عورت کا کردار جتنا پاک ہوگا معاشرہ اتنا پاکیزہ رہے گا
عورت کے عزائم جتنے قوی ہوں گے قوم اتنی بلندی پر ہوگی
عورت جتنا سنور کر زندگی گزارے گی ماحول اتنا سدھرے گا
عورت کی نیتوں کا کمال وقت کو پلٹ کر رکھ دیتا ہے
عورت جتنی قوی ہوگی ماحول اور معاشرت اتناقوی ہوگا
عورت اور مرد میں مرتبہ اور قوت کے اعتبار سے مرد کو قوام کہا گیا ہے حاکم بنایا گیا ہے
عورت حاکم تو بن نہیں سکتی لیکن حاکم بنا سکتی ہے
عورت مالک تو بن نہیں سکتی لیکن مالک بنا سکتی ہے
عورت قاضی تو نہیں بن سکتی لیکن قاضی بنا سکتی ہے
عورت حکومت تو کر نہیں سکتی حکومت کرواسکتی ہے

عورت کا کمال اولاد کی اچھی تربیت میں چھپا ہے
عورت کا جمال شوہر کی مدد میں چھپا ہے
عورت کی مثال بیٹی کا کردار ادا کرنے میں چھپا ہے
عورت کی خصال اچھی نیت اچھی فکر اطاعت و حفاظت میں تربیت میں چھپا ہے
اگر عورت اپنے چاروں صفات سے ہٹ گئی تو اس میں صرف عورت کے لیے زوال ہے زوال ہے زوال ہے
اور پھر عورت سب کے لیے وبال ہے وبال ہے وبال ہے
عورت کو چاہیے کہ جسمانی اعتبار سے بھی طاقتور رہے روحانی اعتبار سے بھی طاقتور رہے میں آپ کو طاقتور خواتین کے سلسلے میں موجودہ دور اور سابقہ دور کی چند تصاویر مختلفہ بتاتی چلوں کہ
موجودہ دور کی بہادر خواتین وہ مانی جاتی ہے
جو کالج میں پڑھی لکھی ہو
جو کسی جاب پر فائض ہو چکی ہو
جو ڈاکٹر بنی ہو
جو انجینیئر بنی ہو
جو آفیسر بنی ہو
جو فوجی بنی ہو
جوپولیس بنی ہو
جو ایڈوکیٹ بنی ہو
جو وکیل بنی ہو
جو فلم انڈسٹری میں کام کرنے والی بنی ہو وغیرہ وغیرہ
چاہے وہ یہ عہدہ کردار بیچ کر پایا ہو عزت لٹا کر پائی ہو بے پردگی سے حاصل کی ہو بے حیائی سے حاصل کی ہو اس کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے گا
اور آج کی معصوم اور کمزور خاتون وہ مانی جاتی ہے
جو مدرسے میں پڑھتی ہو
جو مدرسے سے فارغہ ہو
جو مدرسے کی عالمہ ہو
جو مدرسے کی معلمہ ہو
جو مدرسے سے وابستگی رکھتی ہو
آج کے معاشرے میں اس کو نجی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے مدرسے کی کئی طالبات اپنے آپ کو کم ترو کم حیثیت جانتی ہے حالانکہ ان کو معلوم نہیں کہ دنیاوی علم عزتوں والا ہے یا دین علم عزتوں والا ہے
یاد رکھیے سابقہ زمانے پرجب ہماری نگاہ پڑتی ہے تو کئی نیک خواتین کے کردار اور اوصاف ہماری نگاہوں کو چیر کر رکھ دیتے ہیں عورتیں بھی ایسی اعلی قسم کے ایمان پر فائز تھیں دین کی تابع تھیں
وقت کی زاہدہ تھیں
خدا کی عاشقہ تھیں
رسول اللہ کی زائرہ تھیں
رات کی عابدہ تھیں
دن کی صائمہ تھیں
اور ایسا ایسا ایمان ان کا تھا کہ صبح سے شام تک ایک قرآن مجید مکمل کرتی تھیں
اور جب رات کے اول حصے میں نماز کے لیے ٹھہر جاتی تھیں تو قریب الفجر پر سلام پھیرتی تھیں خدا کے خوف سے اس قدر روتی تھیں کہ آنکھیں اندر دھنس جاتی تھیں
آپ صحابہ کے زمانے میں نظر ڈالتے ہیں تو ایسی ایسی عظیم الشان خواتین صحابیات کا کردار آپ کی انکھیں چیر کر رکھ دیتا ہے تابعین کے دور کو پڑھتے ہیں تو آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اس سے آپ کو اندازہ لگانا ہوگا خواتین کا کردار کیسا ہے اور کیسا ہونا چاہیے تھا
اس لیے قوم کی بنیاد عورت کو بنایا گیا
عورت کا قوی ہونا قوم کا قوی ہونا ہے
عورت کا قوی ہونا معاشرے کا قوی ہونا ہے
عورت کا قوی ہونا قبیلے کا قوی ہونا ہے
عورت کا قوی ہونا خاندان کا قوی ہونا ہے
لہذا ایمانی قوت
دینی قوت
اسلامی قوت
جسمانی قوت
روحانی قوت
ہر قسم کی قوت سے ہر لڑکی ہر طالبہ ہر ماں ہر بہن ہر بیٹی اپنے آپ کو قوی بنانے کی فکر کرے مضبوط بنانے کی کوشش کریں مستحکم بننے کی سعی کریں جس سے پہلے خود کو بھی فائدہ ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ ساری امت کو بھی آپ کی قوت و صحت سے فائدہ پہنچے گا
اللہ پاک ہم سب کو قوی ایمان مستحکم نظام کا پابند بنائیں اور ایک باصلاحیت صالحہ کردار کی ملکہ بنائیں جس سے قوم ملک کی مدد کر سکے آمین ثم آمین

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
جزاکم اللہ خیرا فی الدارین

بنوک قلم فردوس جہاں مظاہری نعمانی
(خادمہ مدرسہ ھبۃ الرحمن للبنات)